قصہ دو غالب تہذیبوں کا-عمارہ رضوان

(عمارہ رضوان)

(جن کی نمائندگی بلال بن رباحؓ اور جارج فلائیڈکرتے ہیں)
بیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں افریقہ سے ایک خانوادہ ہجرت کرکےدنیا کے سب سے مہذّب اور متمدّن معاشرے میں پہنچتا ہے‏۔
ایک ایسا آزاد معاشرہ ،جہاں حقوق ِ انسانی کا ڈنکا بجتا ہے ‏۔
ایک ایسا ملک جو ترقّی پذیر ممالک کو آزادی رائے اور مساوات کا درس دیتا ہے ‏۔
ایک ایسی ریاست جس کے دستور میں کالے اور گورے کےدرمیان کوئی تفریق نہیں ہے –
ایک ایسی سرزمین جسے لوگ ’جنّت ِ ارضی ، سے تعبیر کرتے ہیں ‏۔
دنیا کاسپر پاور امریکہ ۔
مگر وہ کالی چَمڑی والا افریقی النسل امریکی شہری اکیسویں صدی میں بربریت کا شکار ہوجاتاہے ‏۔
بدبودار نسلی تعصب کا شکار ‏۔
نام نہاد امریکی ثقافت کا شکار ‏۔
کالے اور گورے کی تفریق کا شکار ‏۔
اس کا موازنہ آج سے تقریباً پندرہ سو سال پہلےکے ایک واقعہ سے کیجیے‏۔ حبشہ سے ہجرت کرکے ایک غلام اس وقت کی سب سے متمدّن اور مہذّب قوم کےدرمیان پہنچتا ہے ‏۔اس کے افراد کے اخلاق وکردار سے متاثرہوکر وہ اپنا آبائی دھرم چھوڑ کر اسلام کے دامن میں پناہ لیتا ہے ‏۔ اس کے بعد اس کا شمار وہاں کے معززترین لوگوں میں ہونے لگتا ہے‏۔
اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ مکّہ مکرّمہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوتے ہیں ، کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوکر دریافت کرتے ہیں ” بلا ل کہاں ہیں ؟”‏۔
جب کوئی آواز نہیں آتی تو دوبارہ بلند آواز میں حکم صادر فرماتے ہیں: ” بلال کو میرے پاس لاؤ” ‏۔
اس کے بعد آپ ﷺ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں :” اے قریش کے لوگو ! اس گھر کے مالک کی قسم جس کی چوکھٹ پر میں کھڑا ہوں ، میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر گھوم رہا ہے اور وہ دن یا د آرہا ہے جب تم بلال کو اسی کعبہ کی چوکھٹ پر اذیّت پہنچاتے تھے اور ان کی زبان سے اَحد اَحد کی صدا آتی تھی ‏۔”
جب بلال ؓ خانہ کعبہ کی چوکھٹ پر نبی کریم ﷺ کے پہلو میں آکر کھڑے ہوتے ہیں تو ارشاد ہوتا ہے : ” بلال ! بیت اللہ کے اندر چلو ، آج میرے ساتھ اس گھر کے اندر تمہارےعلاوہ کوئی اور سجدہ ریز نہیں ہوگا ‏۔”
اندازہ لگائیں ، اس وقت بلال ؓ کے دل کی کیا کیفیت ہوگی جب بڑے بڑے صحابہ : ابوبکر وعمر ، عثمان وعلی خانہ کعبہ کے اردگرد کھڑے ہیں اور بلال کی قسمت پر رشک کررہے ہیں‏۔ یہ عزّت افزائی، یہ تکریم ،آخر کس چیز کا صلہ ہے ؟ اسلام کے راستے میں تکلیفیں اٹھانے کا تو نہیں؟ اس وقت اللہ واحد کی تکبیر بلند کرنے کا تونہیں جب شرک کے مقابلے میں توحید کی بات کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا ؟
جب بلال ؓ نبی ﷺ کی معیت میں نماز ادا کرچکےتو آپ ﷺنے ان کو ایک بار پھر آواز دی اور فرمایا: ” بلال ! خانہ کعبہ کی چھت پر جاؤ اوروہاں سے توحید کا آوازہ بلند کرو "بلال کی تو مانگی مراد بَر آرہی تھی ،وہ تکبیر ،جو بلال چپکے چپکے گنگناتے تھے، اسے ببانگِ دہل پکارنے کا زرّیں موقع میسّر آرہا تھا اوروہ بھی ان سرداران ِ مکّہ کے سامنے، جو اسی تکبیر کی پاداش میں انہیں بے انتہا اذیّتیں دیا کرتے تھے ‏۔ بلال ؓ نے کعبہ کی چھت پر چڑھنے کی کوشش کی ، مگر چھت اونچی ہونے کی وجہ سے وہ چڑھ نہیں پائے ، نبی ﷺ یہ منظر دیکھ رہے تھے ‏۔ آپ ﷺ کے پہلومیں ابوبکر ؓ وعمر ؓ کھڑے تھے ‏۔ آپﷺ کے اشارے پر دونوں جلیل القدر صحابہ نے بلالؓ کو اپنے کندھے پر اٹھا لیا ، بلالؓ کا دایاں پاؤں حضرت عمر ؓ کے کندھے پر تھا تو بایاں پاؤں حضرت ابوبکر کے کندھے پر‏۔ نسل پَرستی وہاں دَم توڑرہی تھی اور ایسی تہذیب اپنے بال وپَر نکال رہی تھی جہاں افضلیت کی بنیاد رنگ ونسل نہیں ہوسکتی ‏۔ جب بلال ؓ کعبہ کی چھت پر چڑھ گئے تو ارشادِنبوی ہوا :” بلال! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ‏۔ اللہ کے نزدیک یہ گھر (کعبہ ) بڑی عظمت والا ہے ، لیکن اے بلال! آج تم میرے نزدیک اس گھرسے عظیم تر ہواور قابل احترام بھی "‏۔
بلال ؓ نے خانہ کعبہ کی چھت سے اذان دی – قریش اور مکہ کے علاوہ دیگر شہروں کے تقریباً دس ہزار (10000) سرادر اور جلیل القدر صحابہ یہ منظر دیکھ رہے تھے ‏۔ بعض اس پر عَش عَش کررہے تھے اور بعض تعجب سے اپنی انگلیاں دانتوں تلے دبائے ہوئے تھے‏۔
کتنا تفاوت ہےان دو غالب تہذیبوں میں –
ایک میں حبشی غلام قریش کے نام ور سرداروں کی گردن پر اپنا پیر رکھ کر کعبہ کی چھت تک پہنچتا ہے
تو دوسری میں حبشی، جو غلام نہیں ہے، بلکہ مساوی حقوق کا حامل ہے ، اس کی گردن پر پاؤں رکھ موت کی نیند سلا دیا جاتاہے ‏۔
یہ صرف ایک مثال نہیں ہے ، بلکہ اسلامی تہذیب میں اس طرح کی ان گنت مثالیں موجود ہیں ‏۔ اس کی دوسری مثال ملاحظہ کیجئے‏۔
قبیلہ غفار کا ایک سردار ، جس کی سرداری پر پورا قبیلہ متفق ہے، جب وہ اسلام میں داخل ہونے کا اعلان کرتا ہے تو اس کے ساتھ پورا قبیلہ داخلِ اسلام ہوجاتا ہے ‏۔ نبیﷺ خود اس سردار کو صداقت و امانت کاسرٹیفیکٹ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ” زمین وآسمان نے اُن سے زیادہ صادق وراست باز شخص نہیں دیکھا ” ایک بار اس جلیل القدر صحابی کی زبان سے حضرت بلال ؓ کے تعلق سے دو الفاظ نکل گئے –
"یا ابن السوداء” اے کالی کلوٹی کے پُوت !
وہ الفاظ جو نسلی منافرت کی دلیل تھے ‏۔
وہ الفاظ جن سے جاہلیت کی بُو آتی تھی ‏۔
وہ الفاظ جو اسلامی تہذیب واقدارکے منافی تھے ‏۔
جب یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو اس کو سن کر آپ کا روئے مبارک سرخ ہوگیا ‏۔ آپ نےحضرت ابوذر غفاری ؓ کو بلابھیجا اور سب کے سامنے اس سردار کی سرزنش کی اور فرمایا :” تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی خُوبُو باقی ہے "‏۔آپ نے مزید فرمایا :” تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں ، اللہ نے انہیں تمہارے زیرِنگیں کیا ہے، تاکہ تم ان کی ضرورتوں کا خیال رکھو ‏۔ ان کو وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو ،‏۔ان کو وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو ‏۔ ان سے اُتنا ہی کام لو جتنا وہ سہارسکتے ہیں ‏۔ اگر ان کے اوپر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ہے تو اس میں ان کی مددکرو‏۔”
تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ وہی صحابی جن کا تعلق مکہ کے اعیان واشراف سے تھا ، اس حبشی غلام کے سامنے بار بار معذرت کے لئے حاضر ہوتے تھے اور اپنے رخسار کو زمین پر رکھ کر حضرت بلال سے منت کرتے تھے کہ وہ اپنے پیر سے ان کے گالوں کو رگڑیں ، کیونکہ جاہلیت کی رمق ابھی باقی ہے اور وہ اس رمق کو کھرچ کھرچ کر نکالنا چاہتے ہیں ‏۔
اللہ کی بے شمار رحمتیں ہوں ان نفوس قدسیہ پر جن کے کردار پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں‏۔
اے کاش! ہم ان روشن کرداروں کو انسانیت کے سامنے پیش کرسکتے ‏۔

  • قمر
    21 اگست, 2020 at 20:19

    ماشاء اللہ ، بہت زبردست تحریر
    کیا خوب موازنہ کیا گیا ہے ، اور مغرب کے چہرے سے نقاب اتاری گئی ہے‏۔
    اس کردار کو برادرانِ وطن تک پہونچانے کی ضرورت ہے ‏۔
    اللہ عمارہ رضوان کے قلم میں اور دھار دے ‏۔

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*