Home تجزیہ قصہ ستر برسوں کی جمہوریت کا

قصہ ستر برسوں کی جمہوریت کا

by قندیل

شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
قصّہ ستر(۷۰)برسوں کا ہےـ ہندوستان کی جمہوریت جہاں سے شروع ہوئی تھی وہاں سے آگے بڑھنا تو دور کی بات ہے کئی برسوں پیچھے چلی گئی ہے ۔ آج ہندوستان میں جو طاقتیں راج کررہی ہیں اور جس طرح سے راج کررہی ہیں اسے نہ ہی تو جمہوری نظام کہا جاسکتا ہے۔ ویسے کہنے کو تو ہمارے وزیراعظم نریندر مودی کی زبان فخر یاگرو سے بیرون ملک ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتے ہوئے تھکتی نہیں ہے۔ اور نہ ہی حکمرانوں کو جمہوری اصولوں کا پابند ۔ ملک میں جمہوریت کے پھلنے پھولنے اور مضبوط نہ ہونے کی وجوہات سیاسی بھی ہیں اور سماجی معاشی اور تعلیمی وتہذیبی بھی ۔ لیکن سب سے بڑی وجہ یقیناً سیاسی ہے۔ یہ سیاست ہی ہے ، چاہے کانگریس کی سیاست ہو یا اسی طرح کی دوسری نام کی سیکولر سیاسی پارٹیوں کی یا پھر ہندوتوادی سیاسی جماعتوں کی ، ان سب کی سیاست نے نہ ملک کو آگے بڑھنے دیا ہے ، نہ ہی شہریوں کو ایک بہتر سماج میں ڈھلنے دیا ہے اور نہ ہی تہذیبی ، تعلیمی اور معاشی سطح پر لوگوں کو مضبوط ہی ہونے دیا ہے۔ نہ ہی کل ان سب نے ملک اور ملک کے لوگوں کی خوشحالی ، امن وامان اور ترقی کے لئے فکر کی اور نہ ہی آج کررہے ہیں۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے ، اور بڑا ہی خوش آئند ہے کہ ملک بھر میں بڑی تعداد میں ’ شاہین باغ‘ پیدا ہوگئے ہیں اور ایک ’ نئی آزادی‘ کے لئے پھر سے تحریک آزادی ہی جتنی بڑی ایک تحریک کھڑی ہوگئی ہے۔ دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ، علی گڑھ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور دہلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے طلباء نے مرکز کی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے دست راست مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کی حکومت کے، لوگوں کو مذہب کے نام پر شہریت دینے کے ’کالا قانون‘ کے خلاف ایک ایسی زوردار آواز بلند کی جس نے سرکای ایوانوں کو ہلادیا ہے ۔ اور اس آواز میں ’ شاہین باغ‘ کی باہمت خواتین نے اپنی آواز ملاکر قصر شاہی میں ایک زلزلہ پیدا کردیا ۔ آج ان سب کی آواز میں سارا ملک آواز ملا رہا ہے ۔ اور وہ بھی بلاتفریق مذہب ، مسلک ، ملّت ، ذات پات ۔ جے این یو کے سابق طلباء لیڈر کنہیا کمار کے بقول ’’یہ بے ایمانوںسے جنگ ہے ، ایک ایسی جنگ جو ملک میں ایک نئے انقلاب کی علامت ہے ۔‘‘
اب ملک جمہوری اور سیکولر قدروں کے تحفظ کے لئے طلبااور خواتین سے ہی آس لگائے ہوئے ہے ، لیکن کچھ عناصر ایسے ہیں جو پوری طرح سے کوشاں ہیں کہ جمہوریت کی مضبوطی اور بقا کی یہ جو تحریک چلی ہے ، یہ کمزور پڑ جائے ۔ صرف کمزور ہی نہیں یہ تحریک دم توڑ دے ۔ اس میں علماے کرام بھی ہیں ، دانشوران بھی ، سیاسی پارٹیاں بھی ہیں اور سیاست دان بھی ۔ اور ’یرقانی ٹولہ‘ تو ہے ہی ۔ ۱۸۵۷ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک تو علماء کرام نے فرنگیوں کے سامنے جھکنے سے بہتر اپنی جانوں کو قربان کرنا سمجھا تھا، لیکن مجھے حیرت ہے کہ آج علماء کرام کی ایک بڑی تعداد اپنی جانوں ،اپنی خواہشات اور اپنے مفادات کے لئے خود تو ’ دُم دبانے ‘ کو راضی ہے ساتھ ہی مدرسوں کے طلباء کو بھی ’ دُم دبانے‘ یا با الفاظ دیگر ’بزدلی‘کا درس دے رہی ہے !! ایسا نہیں ہے کہ طلباء اور خواتین کی سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر مخالف تحریک میں علماء کرام بالکل نہیں آئے ، آئے لیکن وہ علماء کرام جن سے امیدیں تھیں کہ وہ یقیناً اس تحریک میں نوجوانوں کے ہمسفر بنیں گے ، وہ منظر نامے سے اوّل روز سے غائب رہے ، آج بھی غائب ہیں ۔ حیرت اس بات پر بھی ہے کہ بیربل کی طرح سب اپنی اپنی کھچڑیاں پکارہے ہیں ، کل جماعتی تنظیم کے نام پرمیٹنگوں پر میٹنگیںہورہی ہیں ، وہ مولوی حضرات جو ایک میٹنگ میں نظر نہیں آتے دوسری میں نظر آتے ہیں اور جو دوسری میں نظر آتے ہیں وہ تیسری میٹنگ سے غائب رہتے ہیں ۔ اتحاد واتفاق آج بھی مفقود ہے ۔ یہ چھوٹے چھوٹے مظاہرے کرواتے ہیں ، تجاویز منظور کرواتے ہیں اور فکروتشویش کا اظہار بھی کرتے ہیں پر ان کے پاس وقت نہیں ہوتا کہ ان طلباء اور خواتین کی، ان بوڑھوں اور بچوں کی ’ حوصلہ افزائی‘ کریں جو سب کی لڑائی لڑرہے ہیں ، صرف اپنی نہیں۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب کل اس تحریک کی ’ تاریخ‘ لکھی جائے گی تو مورخ کے پاس علمائے کرام ،مسلم دانشوران ، بڑے بڑے ادیبوں اور شعرا اور ماہرین تعلیم اور پروفیسر صاحبان میں سے ، جن کی بہت بڑی تعداد ہے ، بس گنتی ہی کے نام ہونگے !! ان میں اور نریندر مودی میں ایک بات مشترک ہے ، مودی بھی ملک کا غم لے کر بیرون ملک گھومتے ہیں اور یہ سب بھی قوم کے غم میں بیرون ملک جاکر شاہی مہمان بنتے ہیں۔۔ مجھے حیرت ہے کہ کل کا مورخ جب تحقیق کرے گا کہ سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کی تحریک میں مدرسوں کے کتنے طلباء شریک تھے تو یہ جان کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی کہ اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء تو بلاتفریق مذہب سڑکوں پر تھے ، مودی اور شاہ کی حکومت اور ’ کالے قانون‘ کے خلاف نعرے لگارہے تھے پیٹھ پر لاٹھیاں کھارہے تھے مگر طلباء مدارس اپنے کمروں اور اپنی کلاسوں میں ’ قید ‘ تھے ۔ جی ہاں ، یہ تو تحریک میں شامل ہونے کے لئے بیقرار تھے پر ان کے اساتذہ کرام نے ، ان کے دارالعلوموں کے منتظمین اور ذمے داران نے ان پر دروازے بند کردیئے تھے ۔ مانا کہ انہیں ان بچوں کی حفاظت کی فکر تھی ، انہیں پولس سے بالخصوص یوپی کی یوگی کی پولس سے خطرہ تھا، پر کوئی تو راہ ایسی تھی جسے اپناکر مدرسے کے یہ بچے آج کی نوجوان نسل کی تحریک میں اپنی آواز ملاسکتے تھے۔ میں کسی کا نام نہیں لونگا، ان سب کے چہرے ، ان کے نام سے کوئی ایسا نہیں جو واقف نہ ہو ، بس اتنا کہنا ہے کہ انہیں پہچان لو کہ اس ملک سے اگر لوگوں کو نکلنا پڑا تو اس کے ذمے دار یہی ہونگے ، ان کی خاموشی ہی ان کا سب سے بڑا جرم ہوگی ۔ اور اگر لوگوں کو ملک سے نکلنا نہ پڑا تو اس کا سہرا ان کے نہیں ،یقین مانیں کہ یہ سہرا بندھوانے آئیں گے ، طلباء اور ملک بھر کی شاہین باغوں کی شاہنیوں کے سر بندھے گا ۔
طلباء کو اور شاہین باغ۔ ملک بھر کے شاہین باغ ۔ کی خواتین کو ہمارا ، ہم ہندوستانیوں کا سلام ہے ۔۔۔ لیکن یہ سلام اس ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کے لئے نہیں ہے ۔ سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر پر کانگریس کی دوسرکاروں ، پنجاب اور راجستھان نے اپنی اپنی اسمبلیوں میں قرار دادیں منظور کی ہیں ، کیرالہ میں بھی قرار داد منظور کی گئی ہے ، لیکن ہنوز کئی ریاستوں کی اسمبلیوں میں شہریت قانون کے خلاف قرار داد منظور نہیں ہوسکی ہے ۔ جب تک تمام غیر بی جے پی ریاستوں میں قرار دادیں منظور نہیں ہوتیں کسی بھی سیاسی پارٹی کو سلام نہیں کیا جاسکتا ۔ اور انہیں تو کبھی بھی نہیں جو سی اے اے منظور کرانے میں مودی اور شاہ کی سرکار کے ساتھ تھے ۔ نتیش کمار قابل معافی نہیں ہیں اور مایاوتی بھی قابل معافی نہیں ہیں ۔ یہ کیسے خود کو اس ملک ، اس ملک کے لوگوں ، اقلیتوں ، پچھڑوں اور دلتوں کا نیتا قرار دے سکتے ہیں کہ سی اے اے تو ان سب کے ہی خلاف ہے !! ملک آزاد تو ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ میں ہوا تھا لیکن یہ ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کا دن تھا جب ’آئین ہند‘ کو تنفیذ کیا گیا تھا ۔ یہ دن اس لئے ہندوستانیوں کے لئے اہم ترین ہے کہ اسی روز انگریزوں کے بنائے ہوئے ’ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵‘ کی جگہ ہم سب کا اپنا آئین نافذ ہوا تھا ، وہ آئین جس نے ’ ہندوراشٹر‘ کے نظریے کو مسترد کرکے ایک ’ جمہوری نظام‘ کو ہم سب کی زندگیوں کا حصہ بنایا تھا۔ آئین جو مذہب ، تعلیم ، سماج ، تہذیب وثقافت ہر طرح سے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے بلکہ امن وامان سے اپنے اپنے مذاہب پر عمل کرنے کی آزادی فراہم کرتا ہے ۔ یہ آزادی آج خطرے میں ہے اور نتیش کمار ، مایاوتی ، رام ولاس پاسوان جیسوں سے اسے کہیں زیادہ خطرہ ہے ۔ ’یرقانی ٹولہ‘ تو ہے ہی آئین مخالف ، اسے تو اس ملک کو ’ ہندوراشٹر‘ میں ڈھالنا ہے اور یہ جو سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کا ہوا چھوڑا گیا ہے اسی مقصد کے لئے ہے ۔۔۔ لیکن ایک امید کی کرن طلباء اور خواتین نے جلائی ہے ، اس کرن کو جلتے رہنا چاہیئے، ہم سب کو چاہیئے کہ اسے بجھنے نہ دیں۔
کچھ ذکر مہاراشٹر کا کرتے چلیں ۔ مہاراشٹر نے اس بار اسمبلی الیکشن کے بعد جو دیکھا وہ جمہوری ہندوستان کا ایک ایسا واقعہ تھا جس نے ایک فرقہ پرست پارٹی ، بی جے پی کو سب سے زیادہ سیٹیں جیتنے کے باوجود حکومت حاصل کرنے نہیں دیا۔ شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے کانگریس اور این سی پی سے ہاتھ ملاکر ’ مہاوکاس اگھاڑی‘ کا قیام کیا اور بی جے پی کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ مانا کہ شیوسینا کی سرشت میں ’ فرقہ پرستی ‘ ہے پر آج اگر یہ بی جے پی کے خلاف کھڑی ہوئی ہے تو اسے مضبوط کرنے کی کوشش ضروری ہے تاکہ یہ اپنی سرشت کو بدل سکے ۔ بی جے پی اس کے لئے تیار نہیں ہے ، اس نے اب ’ مہاراشٹر نونرمان سینا‘ (منسے)کے سربراہ راج ٹھاکرے کا ہاتھ تھام لیا ہے۔ ابھی یہ تعلق جگ ظاہر نہیں ہے لیکن جس طرح سے راج ٹھاکرے نے اپنی پارٹی کا رخ ’ ہندوتو‘ کی طرف موڑا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ
کوئی معشوق ہے پردۂ زنگاری میں
اور یہ معشوق بی جے پی کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ راج ٹھاکرے اب این آرسی کے حامی بن گئے ہیں ، انہوں نے اپنے صاحبزادے امیت ٹھاکرے کو ’ہندوتو‘ کی حفاظت کا عہد دلایا ہے ، وہ ’ بنگلہ دیشیوں‘ کے خلاف تحریک شروع کررہے ہیں ۔ یعنی مہاراشٹر میں سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کی حمایت میں ایک ہوا بنانے کی تیاری ہے ، اس کا ایک مقصد لوگوں کو ’ بالخصوص مسلمانوں کو ‘ ڈرانا ور دھمکانا اور بی جے پی کے نظریات کو مضبوط کرنا ہے ۔ لہٰذا یہاں بھی ایک بہت بڑی تحریک کی ضرورت پڑے گی ، ایسی تحریک جو سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کی حمایت میں کھڑے ہونے والوں کی آواز کو دباسکے۔ تو آئیں ہم سب آج ’ یوم جمہوریہ‘ کے روز یہ عہد کریں کہ ’’ہم اس ملک میں جمہوریت اور سیکولرزم کی بقا اور حفاظت کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑیں گے ۔‘‘

You may also like

Leave a Comment