قندیلیں: ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کی نئی تصنیف-ڈاکٹرشہاب ظفر اعظمی


صدر شعبۂ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی،پٹنہ

میری زندگی میں دو قسم کے لوگ آئے ہیں۔ایک وہ جن کی ادبی خدمات، افکار اور ذاتی شخصیت میں تضاد رہا ہے ،یعنی ادبی طور پر وہ جس قد کے حامل رہے، ذاتی ملاقات و معاملات میں اس کے بالکل برعکس نظر آئے۔اور دوسرے وہ جن کی ادبی اور ذاتی زندگی میںکسی قسم کا تضاد نہیں پایا۔ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کا تعلق ثانی الذکر افراد میں سے ہے۔وہ جس طرح ادبی اور تخلیقی معاملات میں واضح ،صاف ستھرے اور صالح افکار کے حامل ہیں ویسے ہی ذاتی زندگی،تعلقات اور معاملات میں بھی نظر آتے ہیں۔ بے باکی، انصاف پسندی اور حق گوئی ان کی شخصیت کا خاصہ ہے جو ان کی تحریروں میں بھی کھل کر سامنے آتاہے۔
ڈاکٹر ممتاز احمد خاںکو قریب سے جاننے والے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ وہ صرف شعروادب کے آدمی ہیں۔پڑھنا ،پڑھانا اور ادبی رویوں پر گفتگو کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے اس لئے سماج میں وہ ہر قسم کی سیاست (مع ادبی سیاست) سے دور رہ کرادبی،سماجی اور اصلاحی خدمات کے حوالے سے معتبر شناخت رکھتے ہیں۔میں نے ان کی کتاب’’اردو میں مرصع نثر کی روایت‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے جو رائے قائم کی تھی، مجھے آج بھی اس میں ترمیم و تبدیلی کی قطعی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اس لئے دہرا رہاہوں کہ:
’’ڈاکٹر ممتاز احمد خاں اردو ادب کی دنیا میں محتاجِ تعارف نہیں ہیں۔ آپ کا شمار اردو کی چند ایسی شخصیات میں ہے جنہیں ’فنا فی الادب‘ کے زمر ے میں شامل کیاجاتاہے۔آپ نے پوری زندگی صرف اور صرف ادب کے مطالعے ،تفہیم اور تدریس میں صرف کی ہے۔ جوڑتوڑ، سودوزیاں اور صلے یا ستائش کی تمنا سے بے پروا ہوکر خود کو ادب کے سمندر میں غرق کردینے کے بعد آپ نے ’ادب اور ادبی رویہّ‘، اقبال شاعر و دانشور‘ اور ’اردو میں مرصع نثر کی روایت‘ جیسی بیش قیمت موتیاں تلاش کی ہیں جن سے ارباب علم وادب کی آنکھیں خیرہ ہورہی ہیں۔آپ کو شاعری فکشن ،نثر اور تنقید سے یکساں شغف ہے ،اس لئے جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کردیتے ہیں۔‘‘
زیر نظر کتاب ’’قندیلیں‘‘ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کی اب تک پیش کردہ تمام تصانیف میں منفردو ممتاز ہے۔اس لیے کہ اس میں موصوف نے نہ تو تنقیدی نظریات کو نشانہ بنایاہے اور نہ ہی ادبی روایات ومعاملات پر کوئی گفتگو کی ہے۔یہ ان کے شخصی اور تاثراتی مضامین کا مجموعہ ہے جس میں شعروادب کی بڑی بڑی شخصیات تو ملتی ہیں مگر ان کی ادبی خدمات کے تعین قدر کی بجائے ان سے ذاتی مراسم،تعلقات اور غیررسمی گفتگو کی مختلف جہتوں سے آشنائی ہوتی ہے۔جن شخصیات کو انہوں نے اپنے مطالعے کا حصہ بنایاہے انہیں بہ آسانی دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔پہلے حصے میں اردو شعروادب کی مقتدر ہستیاں ہیں مثلاً جمیل مظہری،عطاکاکوی،کلیم الدین احمد، رضا نقوی واہیؔ، کلیم عاجز،منظر عباس،ثوبان فاروقی،رشید حسن خاں،احمد یوسف ،قمر اعظم ہاشمی، شمیم فاروقی،گوپال کرشن مانک ٹالا اور احمد سجادصاحب وغیرہ ،جن سے ممتاز احمد خاں نے نہ صرف علمی معاملات میں استفادہ کیا بلکہ جن کی شخصیتوں کا اچھا خاصا اثر بھی قبول کیا۔دوسرے حصے میں ان افراد کو رکھا جاسکتاہے جن سے ان کی ملاقاتیں رہیں اور جن کی اسلام پسند فکر،اصلاحی جذبے سے متاثر ہوکر انہوں نے اپنے خاص حلقۂ احباب میں جگہ عنایت کی یا جنہیں اپنے لئے مشعل راہ بنایا۔ایسے لوگوں میں حکیم محمد سعید خاں، ماسٹر ظہورالحق،مجیب الرحمان شمسی،محمد موسیٰ ،سید ابوظفر زین ، حمید انور،جمیل سلطانپوری، دائود حسن، محمود عالم اور خیر وسطوی وغیرہ شامل ہیں۔
دونوں قسم کے افراد پر گفتگو میں ایک قدرمشترک یہ ہے کہ ڈاکٹر ممتاز احمد خاں نے شخصیتوں کی صالح فکر اور مثبت قدروں کو پیش کرنے پر زیادہ توجہ دی ہے۔شعرا

اور ادبا کی ادبی خدمات پر سرسری نگاہ ڈالتے ہوئے ان کی نگارشات کی تنقید سے یکسر صرف نظر کیاہے اور محض اُن ہی جہات پر فوکس کیاہے جو شخصیت کے ذہن،سوچ اور سماجی خدمات کی عکاسی کرتے ہوں تاکہ ان مضامین کی قرأت سے گزرنے والے افراد کی ذہنی اور فکری تربیت کا سامان بھی فراہم ہوسکے۔مثلاً اپنے گائوں مہنار کے ایک غیر معروف عالم مولانا محمد سعید خاں کا ذکر کرتے ہیں تو اس بات کا ضرور ذکر کرتے ہیں کہ:
’’مولانا سعید صاحب نے علمِ دین کو معاش کا ذریعہ اور روپے کمانے کا آلہ نہیں بنایا۔وہ وعظ ونکاح کی محفل میں جاتے تو کوئی نذرانہ یا فیس طلب نہ کرتے اور نہ قبول کرتے۔جمعہ کی خطابت وامامت بھی پوری زندگی کرتے رہے لیکن اس کی کوئی اجرت کبھی نہیں لی۔وہ بڑے مستغنی او ر فقیر منش انسان تھے۔‘‘ (ص:۲۱)
اسی طرح پروفیسر عطا کاکوی پرلکھتے ہیں تو ان کی ادبی خدمات کی بجائے ان کے حسن اخلاق اور عادات واطوار کو نمایاں کرتے ہیں۔لکھتے ہیں:
’’عطاکاکوی صاحب فنا فی الادب تھے۔شاعری اور ادب ان کا اوڑھنا بچھونا تھا،وہ بے حدعلم دوست اور ادب نوازتھے۔کسی شخص کو جو ان سے ملاقات کے لئے آتا،نامراد و محروم واپس نہیں کرتے۔انتہائی ضعف اور علالت کے زمانے میں بھی ملنے والوں کو بلا کربٹھاتے اور بات کرتے تھے۔ان کا دروازہ ہروقت اردو کے استاذوں،ادیبو ں اور شاعروں کے لئے کھلا رہتا۔ میں جب بھی گیا ان سے ملاقات ہوئی۔‘‘ (ص:۴۳)
ڈاکٹر ممتاز احمدخاں کی ادبی شخصیت کی تعمیر میں جن بزرگوں کا حصہ ہے ان میں ایک اہم نام معروف محقق رشیدحسن خاں بھی ہے۔رشید حسن خاں سے موصوف کی مراسلت رہی اور خطوط کے ذریعہ ہی انہوں نے الفاظ،تراکیب اور اصطلاحات کے تعلق سے کئی بار علمی گفتگو کی ،جو زبان اور ان کی باریکیوں سے دلچسپی رکھنے والوںکے لئے مفید ثابت ہوگی۔رشید صاحب سے ممتاز احمد خاں اسی لئے متاثر ہوئے کہ وہ جہاں ایک طرف محقق،نقاد او ر ماہر زبان تھے وہیں شخصی طور پر ایک بے حد مرنجاںمرنج،نرم دل مگر کھرے اور صاف دل انسان تھے۔ڈاکٹر ممتاز احمد خاں نے ان کی شخصیت کے اس پہلو پر زور دیتے ہوئے لکھا ہے کہ :
’’رشید حسن خاں صاحب جیسے علم کے شناور روز پیدا نہیں ہوتے۔وہ بڑے محقق وادیب کے ساتھ اعلیٰ درجے کے انسان تھے۔اپنی وضع داری پر قائم رہے۔معیار کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔بڑے کھرے،بے باک اور بہادر تھے۔ان کی اس روش سے بعض لوگ خوش نہیں تھے مگر خاں صاحب کو کسی کی پروا نہ تھی۔وہ کسی کی ذات پر حملہ نہیں کرتے تھے،ان کی گرفت ہمیشہ اصول کی اور علمی ہوتی تھی۔‘‘ (ص:۱۲۳)
ڈاکٹر ممتاز احمدخاں کو اپنے مادر علمی پٹنہ یونیورسٹی سے والہانہ لگائو ہے۔میری ان سے پہلی ملاقات پٹنہ کی ایک ادبی مجلس میں ہوئی تھی، مگر پہلی ملاقات میں ہی ایک گہرا تعلق اس وجہ سے پیدا ہوگیا کہ میںپٹنہ یونیورسٹی سے وابستہ ہوں۔انہوں نے دور طالب علمی کے سیکڑو ں قصے مجھے سنائے۔ بالخصوص شعبۂ اردو سے ان کا جذباتی تعلق رہاہے اس لئے وہ اپنے اساتذہ کا نہ صرف والہانہ جذبات کے ساتھ ذکر کرتے ہیں بلکہ ان کی خوبیوں کو بھرپور طریقے سے اپنی شخصیت کا حصہ بنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ انہیں کلیم الدین احمد،علامہ جمیل مظہری،اختر اورینوری،صدرالدین فضا شمسی، پروفیسر مطیع الرحمان وغیرہ سے جو لگائو اور محبت ہے اس کا اندازہ وہی شخص لگا سکتا ہے جس نے ان ادبا کے تعلق سے موصوف کے ساتھ گفتگو کی ہو۔زیر نظر کتاب میں بھی انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی کے کچھ اساتذہ پر اپنے تاثرات پیش کئے ہیں مثلاً کلیم الدین احمد، جمیل مظہر ی،عطا کاکوی وغیرہ۔مگر یہاں بھی انہوں نے ادبی اور تنقیدی پہلو کے بجائے شخصی جہات پر ہی توجہ مرکوز رکھی ہے۔مثلاً علامہ جمیل مظہر ی کے تعلق سے لکھتے ہیں:
’’یہ بات میرے لیے اعزازوافتخار کی ہے کہ میں علامہ جمیل مظہری کا شاگرد ہوا اور ایک طالب علم کی طرح میں نے ان کے لیکچرس سنے اور اپنی تحریریں ان کو دکھائیں… میں نے دیکھا کہ شعبۂ اردو پٹنہ کالج اور پٹنہ یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ ڈپارٹمنٹ میںعلامہ کا بہت احترام تھا۔ … استاذی مظہر ی بڑے باکمال اور فنا فی الادب انسان تھے۔دنیوی شہرت وعزت اور عہدہ و منصب کی ان کو پروا نہیں تھی۔وہ سادہ اور معمولی شیروانی میں رہتے تھے لیکن پورا عظیم آباد بلکہ پوری اردودنیا احترام وعقیدت سے ان کے آگے جھک جاتی تھی۔‘‘ (ص:۴۷۔۴۹)
مختصر یہ کہ ’قندیلیں‘ میں جتنے شخصی اور تاثراتی مضامین ہیں ان سب میں ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کا نقطۂ نظر،فکری رویہّ اور خلوص بہت واضح طور پر ابھر کرسامنے آتا ہے۔ ان کی علمی ادبی اور تنقیدی صلاحیتوں سے روشناس کرانے کے لئے تو بہت ساری کتابیں اور مضامین کا ایک ذخیرہ موجود ہے مگر ان کی نثر کی شگفتگی،شخصیت کا خلوص اورفکر کی صالحیت جس طرح ان مضامین میں اُبھر کر سامنے آئی ہے وہ مطالعے کی چیزہے۔
ڈاکٹر ممتاز احمدخاں نثر کے آدمی ہیں اور اسالیبِ نثر سے انہیں خصوصی دلچسپی رہی ہے۔مگر خود ان کا اپنا اسلوب بھی دلچسپ ،شگفتہ اور پرکشش ہے۔زبان کی باریکیوں پر نگاہ رکھتے ہیں اور کس موضوع کو کس اسلوب میں برتنا ہے اس ہنر سے واقف ہیں۔ اس لئے جب انہوں نے شخصی اور تاثراتی مضامین لکھے تو اس بات کا پورا خیال رکھا کہ اس کی نثر علمی،تنقیدی اصطلاحات سے بوجھل نہ ہو اور نہ ہی اتنی مرصع ہو کہ بے تکلفی کی فضا باقی نہ رہے۔انہوں نے بڑی سادگی ،سلاست اور شیفتگی کے ساتھ ایسے اسلوب میں یہ مضامین لکھے ہیں کہ قاری پڑھتے ہوئے بہ یک وقت گفتگو،خودنوشت اور سفرنامے کا لطف حاصل کرسکتاہے۔موصوف ادیب وناقد کے ساتھ بہت مقبول اور اچھے استاد بھی رہے ہیں اس لئے کلاس روم میں صاف صاف سادہ زبان میں سمجھاکر بات کہنے کا جو فن ہے اس پر قدرت رکھتے ہیں۔زیر نظر مضامین میں متعدد جگہوں پر میں نے یہ محسوس کیاہے کہ وہ محفل یاراں سے نکل کر اچانک کمرہ ٔ جماعت میں چلے جاتے ہیں اور کسی نکتے پر اس خوبصورتی سے روشنی ڈالتے ہیں کہ وہ آئینہ ہو جاتاہے۔یہاں نہ تو الفاظ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں اور نہ معنی مرکز ثقل سے جدا ہوتاہے۔یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ مصنف کے مزاج میں سادگی،صفائی اور ٹھہرائو ہے اوروہ اپنی باتوں کو ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھا کر پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔یہ خوبی ایک اچھے استاد کی تحریر میں ہی پیدا ہوسکتی ہے۔
ہر اچھی اور نئی کتاب مزید مطالعے کے لیے قارئین کی ذہن سازی کرتی ہے،مجھے یقین ہے کہ ’’قندیلیں‘‘ نہ صر ف اچھی کتاب پسند کرنے والے قارئین کی فکر کو مہمیز کرے گی بلکہ انہیںاسلاف کی بے لوث علمی و سماجی خدمات اور زندگی کی صالح قدروں سے متاثر بھی کرے گی۔