ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کے شخصی تاثراتی مضامین کامجموعہ’’قندیلیں‘‘:ایک مطالعہ-انوارالحسن وسطوی

زیرِ نظر کتاب’’قندیلیں‘‘اردوکے معروف ادیب اورناقد ڈاکٹر ممتاز احمد خاں سابق ایسوشی ایٹ پروفیسرشعبۂ اردو بہاریونیورسٹی،مظفرپورکی تازہ تصنیف ہے جوفروری 2021ء میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے۔اس سے قبل موصوف کی نصف درجن کتابیں شائع ہوکر ادب کے پارکھوں اورباذوق قارئین سے خراجِ تحسین حاصل کرچکی ہیں۔زیرِنظرکتاب ’’قندیلیں‘‘میںموصوف نے مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی 64؍شخصیتوں کو اپنی تحریرکا موضوع بنایا ہے۔62؍مضامین کا تعلق مرحومین شخصیتوں سے ہے جبکہ دوزندہ شخصیات کو بھی موضوعِ تحریربنایا گیا ہے۔یہ شخصیتیں ہیں پروفیسرنجم الہدیٰ(مظفرپور)اورپروفیسراحمد سجاد(رانچی)۔ڈاکٹر ممتاز احمد خاں نے اپنی اس تصنیف میں جن 64؍شخصیات کو اپنی تحریرکا موضوع بنایا ہے ان میں اردو شعروادب کی مقتدرہستیاں بھی ہیں،موصوف کے اساتذۂ کرام بھی ہیں،علمائے دین بھی ہیں اوران کے حلقۂ احباب کے افراد بھی ہیں۔حتیٰ کہ ایسے افراد بھی ہیں جنھیں عام طورپر لوگ نظرانداز کرتے ہیں۔لیکن ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کی جوہرشناس نگاہ نے ان کے اندربھی خوبیاں تلاش کرلی ہیں اوارنھیں بھی اپنی تحریرکا موضوع بنالیاہے۔غرضیکہ مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی جن شخصیتوں نے مصنف موصوف کو اپنے اخلاق وکرداراوراپنے طورطریقے سے متاثرکیاہے ان کے اوصاف حمیدہ کو موصوف نے بڑی محبت سے اپنی تصنیف ’’قندیلیں‘‘میں محفوظ کردیا ہے۔جسے پڑھ کر اورجان کر قاری یقینا مستفیض بھی ہوں گے اورانھیں شخصیتوں کو پرکھنے کا سلیقہ بھی آئے گا۔کتاب کے ’’دیباچہ‘‘میں ڈاکٹر ممتاز احمد خاں نے اس کتاب کو تصنیف دینے کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے بجا تحریرفرمایا ہے:
’’انسان بچھڑ جاتا ہے ،مرجاتا ہے مگراپنے کارناموں کے نقوش اوراپنی یادیں دیکھنے اورملنے والوں کے ذہنوں میں چھوڑجاتا ہے۔انسان کو االلہ تعالیٰ نے حافظہ دیا ہے اورقوتِ متخیلہ بھی۔انسان جب چاہے اپنے دوستوں،بزرگوں اورعزیزوں کی تصویریں حافظے کے دفینوں اوریادوں کے نہاںخانوں سے نکال کر دیکھ سکتا ہے۔بچھڑے ہوئے ساتھی،مرحوم دوست کے کارناموں اوراس کی شخصیت کے نقوش کو صفحۂ قرطاس پر منتقل بھی کرسکتاہے۔ایسا کرنے سے اسے یک گونہ تسکین ہوتی ہے۔ذکرِ حبیب ملاقاتِ حبیب کا بدل بن جاتا ہے۔‘‘
(’’قندیلیں‘‘ص۔8)
’’قندیلیں‘‘248؍صفحات پر مشتمل ہے۔کتاب کا ’’مقدمہ‘‘اردو کے مشہورادیب وناقد ڈاکٹر شہاب ظفراعظمی صدرشعبۂ ا ردو پٹنہ یونیورسٹی نے تحریرکیا ہے اورفلیپ کی تحریر پروفیسرڈاکٹر محمد ضیاء الدین احمد پرنسپل گورنمنٹ طبیہ کالج ،پٹنہ اورراقم السطور(انوارالحسن وسطوی)کے تاثرات پر مشتمل ہے اورکتاب کا آخری ورق مصنف کے تعارف سے مزیّن ہے۔
ڈاکٹر ممتاز احمد خاں نے اردو شعروادب کی جن شخصیتوں کواپنی تصنیف ’’قندیلیں‘‘میںاپنی تحریرکا موضو ع بنایا ہے ان میں علّامہ جمیلؔ مظہری،عطاؔکاکوی،کلیم الدین احمد،کلیم عاجزؔ،رشیدحسن خاں،پروفیسرمختارالدین احمد،پروفیسرشکیل الرحمن،پروفیسرمطیع الرحمن،پروفیسرسید عبدالباری،گوپال کرشن مانک ٹالا،رضانقوی واہی،پروفیسرنجم الہدیٰ،پروفیسرثوبان فاروقی،پروفیسراحمد سجاد،پروفیسرقمراعظم ہاشمی،منظرعباس نقوی،احمد یوسف،عزیز ؔبگھروی،جمیل احمد خاں جمیلؔ سلطان پوری،پروفیسرناصررضا خاں جلالی،شمیمؔ ؔفاروقی،پروفیسرنعیم کوثر،بدیع الزماں سحرؔ،محمودعالم اورڈاکٹر ارشدجمیل کے نام بطورخاص قابلِ ذکر ہیں۔یہ وہ شخصیتیں ہیں جن سے ڈاکٹر ممتاز احمد خاں متاثرہوئے ہیں اوران میں سے بعض حضرات سے علمی معاملات میںاستفادہ بھی کیا ہے۔
’’قندیلیں‘‘میںشامل بعض ایسی شخصیتیں ہیں جن سے ڈاکٹر صاحب کی نہ صرف ملاقاتیں رہی ہیں بلکہ ان کی محبتوں ،کرم فرمائیوں اوران کے اخلاق واطوارسے وہ متاثرہوئے ہیں اوربعض حضرات سے مستفیض بھی ہوئے ہیں۔ایسے لوگوں میں مولانا حکیم محمد سعیدخاں،ماسٹر ظہورالحق ،مولانامجیب الرحمن شمسی،حافظ محمد اسحٰق،ماسٹرمحمودعالم،عبدالمغنی صدیقی ایڈوکیٹ ،محمدموسیٰ ،خیرؔوسطوی،مولانانظام الدین خلش،ؔ ابوظفرزین، مصطفی کمال ہاشمی، سید عبدالرافع، سید فصیح الدین احمد، حمید انور،ڈاکٹر عبدالودودعبادی، ڈاکٹر محمد الحسنی،ماسٹر عبدالخالق، محمد یوسف انجینئراورمولوی محمد ادریس وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے والد گرامی رضوان احمد خاں،چچامحترم مولانا حکیم مسعود احمد خاں اورماموں جان جناب مقبول احمد خاں کی شخصیت پر بھی مضامین تحریرکیے ہیں۔جن دیگرحضرات کی خوبیوں سے موصوف متاثر ہوئے ہیں اورانھیں اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے ان میں ماسٹر نورالہدیٰ رحمانی، ڈاکٹر عبدالاحدخاں، ظہیرمحمد عزیزؔفتحپوری، داؤد حسن، حیدرعلی، سیدغلام احمد، سید غضنفرحسین، رام بہادرساہ، صغیر حیدرخاں ،ماسٹر ارشاد احمد خاں، حافظ شمیم احمد ،خورشید عالم، ظفیرالدین، محمد حسن اشرف، محمد زاہد جمال اورڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق کے نام شامل ہیں۔
’’قندیلیں‘‘میںجن مذکورہ شخصیات کوتحریر کا موضوع بنایا گیا ہے ان شخصیتوں میںمصنف نے جو خوبیاں دیکھی ہیں مثلاً صالحیت،دینداری،اسلام پسندی،انسان دوستی وغیرہ اس سے وہ متاثرہوئے ہیں اوران خوبیوں کو اپنی تحریرکے ذریعہ اُجاگرکرنے کی کوشش کی ہے۔اپنے گاؤں مروّت پور(مہنار)کے ایک عالم باعمل مولانا حکیم محمدسعید خاںؒ پراظہارخیال کرتے ہوئے مولانا مرحوم کی جن خوبیوں کواُجاگرکیا ہے وہ یقینا دوسرے لوگوں کے لیے قابلِ تقلید ہے:
’’مولانا سعید احمد خاں صاحب نے علم دین کو معاش کا ذریعہ اورروپے کمانے کا آلہ نہیں بنایا۔وہ وعظ ونکاح کی محفل میںجاتے توکوئی نذرانہ یا فیس نہ طلب کرتے اورنہ قبول کرتے۔جمعہ کی خطابت وامامت بھی پوری زندگی کرتے رہے لیکن کس کی کوئی اُجرت کبھی نہیں لی۔و ہ بڑے مستغنی اورفقیر منش انسان تھے۔ طبابت سے قلیل آمدنی ہوتی اورموروثی زمین سے کچھ غلّہ پیدا ہوجاتا،اسی میںگزربسرکرلیتے اورباعزّت اورپُروقار طریقے سے رہتے تھے۔‘‘
(’’قندیلیں‘‘ص۔18)
اسی طرح ڈاکٹر صاحب نے اپنے مڈل اسکول کے استاد ماسٹر ظہورالحق صاحب کا خاکہ لکھتے ہوئے ان کی ایسی خوبیوں کا ذکر کیا ہے جو خوبیاں آج کے استاد میں عنقا ہیں:
’’ظہورالحق صاحب اپنے شاگردوں کے شفیق استاد اورمخلص رہبرتھے۔یوں تو وہ اردو، حساب، جومیٹری، جغرافیہ وغیرہ کے استاد تھے لیکن ان کی حیثیت اس سے بہت بڑھ کر تھی ۔ وہ ہر آنے والے طالب علم کے مربّی ومشیر ،رہنما اورسرپرست تھے۔خصوصاً اردو بولنے والے بچوں کوتوحید کی تعلیم دیتے ،بُت پرستی اورمشرکانہ طورطریقوں سے بچنے کی تلقین کرتے اوران میں اسلامی غیرت اوراسلامی شعور بیدارکرتے تھے۔‘‘
(’’قندیلیں‘‘ص۔32-33)
پروفسیرسید شاہ عطاء الرحمن عطاؔکاکوی گرچہ ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کے باقاعدہ استاد نہیں تھے لیکن ڈاکٹر موصوف انھیں ہمیشہ اپنا استاداورادبی رہنما سمجھتے تھے اوران کے علم وفضل سے استفادہ کرتے تھے۔ان کے حسنِ اخلاق اوراوصافِ جمیلہ کے تعلق سے موصوف لکھتے ہیں:
’’عطاؔکاکوی صاحب فنا فی الادب تھے۔شاعری اورادب ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔وہ بے حد علم دوست اورادب نواز تھے۔کسی شخص کو جوان سے ملاقات کے لیے آتا،نامرادومحروم واپس نہیں کرتے۔انتہائی ضعف اورعلالت کے زمانے میں بھی ملنے والوں کو بُلاکربٹھاتے اوربات کرتے تھے۔ان کا دروازہ ہر وقت اردو کے استاذوں،ادیبوں اورشاعروں کے لیے کھلا رہتا۔‘‘
(’’قندیلیں‘‘ص۔51-52)
ڈاکٹر ممتاز احمد خاں نے اپنے مضامین میں سچائی ،صداقت اورراست گوئی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔جس شخصیت کو جیسا دیکھابعینہ اس کا خاکہ کھینچنے کی دیانت دارانہ کوشش کی ہے۔مثلاً اپنے والد گرامی جناب رضوان احمد خاں کے تعلق سے لکھتے ہیں:
’’ابّا جان کے پہننے اورکھانے کا ایک معیار تھا،جس میں سادگی بھی تھی اورنفاست بھی۔ان کی قمیص سفید ہواکرتی تھی اورپینٹ اس زمانے کے پینٹ کی طرح ڈھیلا اورخوب استری کیا ہوا ہوتا تھا۔پوری زندگی کلین شیو رہے مگررمضان کے روزے بہت اہتمام اورپابندی سے رکھتے تھے۔اس زمانہ میں نمازیں بھی پڑھتے تھے۔رمضان کے بعدالبتّہ پنچ وقتہ نمازیں چھوٹ جاتی تھیں،مگرپوری زندگی جمعہ کی نماز اہتمام سے پڑھتے تھے اورجمعہ کے روز سفرنہیں کرتے تھے۔‘‘
(’’قندیلیں‘‘ص۔25)
ایک غیر معروف اورگمنام شخص جناب ظفیرالدین عرف لال بابو(محلہ منڈئی،حاجی پور)کا ذکرکرتے ہوئے موصوف نے ان کے احسانات ومحبت کو جس طرح اپنی یادداشت کے نہاں خانہ میںمحفوظ رکھا ہے ایسی توقع ڈاکٹر ممتاز احمد خاں جیسے بامروّت انسان سے ہی کی جاسکتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’محلّہ ابراہیم گنج،منڈئی (مرئی)کے جس مکان میں میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتا تھا اس سے متصل جنوب کی طرف لبِ سڑک ظفیرالدین صاحب عرف لال بابو کا مکان تھا۔لال بابوکی والدہ صالحہ خالہ بہت ہمدرد خاتون تھیں۔ان کی بیٹی سمّی،ان کی اہلیہ میری بیگم کے بلاوے پر آجاتی تھیں اورمختلف کام میں مددکرتی تھیں۔خصوصاً میرے چھوٹے چھوٹے بچوں کی علالت کے زمانے میں دونوں ماں بیٹی آکر خدمت کرتی تھیں۔ان کی بے لوث خدمتوں کو ہم لوگ کبھی نہیں بھول سکتے ۔ایک زمانہ میں میںشدید بیمارہوکر کمزورہوگیا تھا۔لال بابو صاحب نے میری اہلیہ کی گزارش پر ہفتوں خالص دودھ لاکر پہنچایا اورخصّی کی کلیجی خرید کرمیرے لیے لاتے۔ایسی خدمتوں کو احسان فراموش اوربے حس انسان ہی بھول سکتا ہے۔‘‘
(’’قندیلیں‘‘ص۔211)
ڈاکٹر ممتاز احمد خاں اپنے عزیز ترین شاگرد ڈاکٹر مشتاق احمدمشتاق کے احسانات اوران کی فرماں برداری کی یادوں کو ذہن میں محفوظ کیے ہوئے ہیں،جن کا وہ برملا اظہارکرتے رہتے ہیں۔’’قندیلیں‘‘میںموصوف پر لکھتے ہوئے انھو ںنے اپنے شاگرد کی معاونت اورقربانیوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے:
’’1986 میں اپنے تحقیقی مقالے پر کام کررہا تھا۔میںنے مشتاق صاحب سے گزارش کی کہ وہ مقالہ لکھنے کے دوران میری میز پر بیٹھیں اورمقالے کا ڈکٹیشن لے کر میرے کام کو آسان بنادیں۔مشتاق صاحب ساڑھے پانچ مہینے تک مسلسل میری میز پر بیٹھے اورمیرے ساتھ روکھا سوکھا کھا کرکام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔’’اردومیںمرصع نثرکی روایت‘‘کے موضوع پر میرا مقالہ ان کی محنت ومعاونت کے نتیجے میں وقت پر داخل ہوا۔یہی نہیں بعد میں بھی وہ ہمیشہ میرے لیے اپنے وقت کی قربانی دیتے رہے اورمیرے مضامین کی تسوید اوتبئیض میںمیرا ہاتھ بٹاتے رہے۔‘‘
(’’قندیلیں‘‘ص۔236-237)
ڈاکٹر شہاب ظفراعظمی نے ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کی زیرنظر تصنیف ’’قندیلیں‘‘کے تعلق سے جو اہم بات کہی ہے اسے نقل کرتے ہوئے اپنی تحریرکا اختتام کرتا ہوں:
’’قندیلیں میںجتنے شخصی ا ورتاثراتی مضامین ہیں ان سب میں ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کا نقطۂ نظر ،فکری رویّہ اورخلوص بہت واضح طورپر ابھرکرسامنے آتا ہے۔ان کی علمی،ادبی اورتنقیدی صلاحیتوں سے روشناس کرانے کے لیے توبہت ساری کتابیں اورمضامین کا ایک ذخیرہ موجود ہے مگران کی نثرکی شگفتگی،شخصیت کا خلوص اورفکرکی صالحیت جس طرح ان مضامین میںابھرکرسامنے آئی ہے وہ مطالعے کی چیز ہے۔‘‘
(’’قندیلیں‘‘ص۔15)