قندیلیں: ایک مطالعہ، ایک تاثر-ڈاکٹرعارف حسن وسطوی

ادب وتنقید کی دنیا میں ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کا نام نمایاں اورممتاز ہے۔ادبی محاذپر بغیرکسی لابی اورپبلیسٹی کے وہ پانچ دہائیوںتک لکھنے پڑھنے کا کام کرتے رہے ۔سنجیدہ موضوعات پر اظہارخیال اورعلم وآگہی سے عبارت تحریریں ممتاز احمد خاں کی شناخت ہیں۔ وہ انتہائی ذمہ داری کے ساتھ قلم اٹھاتے اورہرجگہ قلم کی حُرمت کا خیال رکھتے ۔ممتاز احمد خاں کی تحریروں میں موضوع کے اعتبار سے شروع سے آخر تک ایک ربط اورتسلسل پایا جاتا ہے۔ وہ بے کار اورغیرمعیاری مباحثے میں نہیں پڑتے ۔ادبی وقاراوراعلیٰ علمی شان وشوکت ان کی تحریروں میں ہرجگہ پائی جاتی ہے۔ ’’ادب وادبی رویّہ‘‘،’’اقبالؔ:شاعرودانشور‘‘،’’اردومیں مرصّع نثرکی روایت‘‘’’متاعِ لوح وقلم ‘‘اور’’متاعِ نقدونظر‘‘جیسی تصانیف ممتاز احمد خاں کے ادبی مرتبے ،تنقیدی بصیرت اور دانشوری کو واضح کرتی ہیں۔
’’قندیلیں‘‘ ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کی مرحومین وقائمین کی قدردانی کی ایک عمدہ کاوش ہے۔(یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس کتاب میں شامل 64 شخصیات میں صرف دوشخصیتیں پروفیسرنجم الہدی اورپروفیسراحمد سجادہی اب ہمارے درمیان موجود ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ مرحومین کی یادمیں مستقل ایک کتاب تصنیف دینے کے محض دو ماہ بعد ڈاکٹرممتازاحمد خاں خودبھی مرحومین کی صف میں شامل ہوگئے)۔ڈاکٹر ممتاز احمد خاں نے اپنے بزرگوں کی خدمات کے اعتراف میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ وہ فطرتاً محبت کے آدمی تھے۔ان کی یہ محبت اپنے بزرگوں کے تئیں اوربھی پُرجوش ہوتی تھی۔وہ اپنے بزرگوںکی خوبیوں اوراچھائیوں کا برملا اظہارکرتے تھے ۔مذکورہ کتاب میں الگ الگ میدانوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات پرمضامین شامل ہیں۔ان شخصیتوں میںاردو زبان وادب کی چند عبقری شخصیات ہیں،چند کا شمارناموراہل قلم اوراہل علم میں ہوتاہے،بعض شخصیتیں سماجی خدمات کے حوالے سے جانی جاتی ہیں اوربعض کا تعلق ایک مخصوص دائرہ تک محدود ہے لیکن وہ بھی اپنے علاقہ اوربستی کے حوالے سے ممتاز حیثیت رکھنے والی ہیں۔ان شخصیتوںمیں ڈاکٹر ممتاز احمدخاں کے اساتذہ ،ان کے ہمعصر،ان کے رفقاء،رشتہ دار،دوست احباب اورشاگرد سب شامل ہیں۔ڈاکٹر صاحب جس اعتبار سے بھی اپنے شناساؤں سے متاثر ہوئے ہیں ان پر قلم اٹھایا ہے،چاہے ان کی زندگی میں یا ان کی وفات کے بعد۔ظاہر ہے ان تمام شخصیات پر مضامین کسی ایک وقت میں نہیں لکھے گئے ہیں۔مختلف اوقات میں یہ تحریریں اخبارات ورسائل کی زینت بنیں۔ اب ان تحریروں کو کتابی شکل میں پیش کرکے ان کی تاریخ کو محفوظ کردیا گیاہے۔
’’قندیلیں ‘‘کا کینوس بڑا ہے۔ مضامین کا یہ مجموعہ شخصی وتاثراتی نوعیت کی تحریروں پر مشتمل ہے۔ڈاکٹر صاحب نے حتی الامکان شخصیت کا احاطہ کرنے اورکارہائے نمایاں اجاگرکرنے کی سعی کی ہے۔یہ تمام تحریریں ذاتی مراسم،انفرادی تعلقات اورنجی ملاقاتوں اورروابط پر محیط ہیں۔ان تحریروں کے مطالعہ سے قاری ایک خوشگوار احساس سے گزرتا ہے اوریہ بھی محسوس کرتا ہے کہ ایک اہل علم اپنے گردوبیش کی محترم اورمعتبرشخصیتوں پرکیسی پاکیزہ نگاہ رکھتا ہے۔اس کے دل میں ایسے افراد کے لیے کتنی جگہ پائی جاتی ہے اوروہ ان سے کیسی محبت رکھتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے جن شخصیتوں کا تعارف کرایا ہے ،کتاب ترتیب دیتے وقت ان کی کوئی صف بندی نہیں کی ہے۔ظاہر ہے کہ وہ تمام لوگ جن کا ذکر اس کتاب میں ہے وہ سب ان کے نزدیک محترم اورمعتبرہیں۔ وہ کیسے کوئی حد قائم کرتے یا الگ الگ خانوںمیں ان شخصیات کوکیسے بانٹتے؟لیکن کتاب کے مطالعے کے بعد قارئین کے نزدیک مرحومین وقائمین سے ڈاکٹر ممتازاحمد خاں کی شفقت ومحبت واضح ہوجاتی ہے۔دراصل خاں صاحب نے ہر ایک شخص کو انسانی صفات کے ترازوپر پہلے تولا ہے ،اس کی ادبی یاسماجی حیثیت کو دوسرے پائدان پر رکھا ہے۔چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
’’ابا کی زندگی میںعجیب طرح کا سکون اورسادگی تھی۔ان کی زندگی میںکوئی ہنگامہ نہ تھا۔کوئی کروفرنہ تھا۔کسی سے کوئی جھگڑابھی نہیں تھا۔اپنے رشتہ داروں اورپڑوسیوں سے کوئی ٹکراؤ بھی نہیں ۔وہ نہایت کم سخن،محنتی اورصلح پسند انسان تھے۔فضول کاموں میں کبھی اپنا وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔سیاست،گروہ بندی،مسلکی تفریق یہ سب نہیں جانتے تھے۔ان کے تعلقات اپنے علاقے کے ہربرادری،ہرمسلک اورہرسطح کے لوگوں سے مخلصانہ تھے۔‘‘
(رضوان احمد خاں صاحب:ابّا جان،ص:۲۷)
’’استادِ محترم مزاج کے بڑے تند وتیز تھے۔جب تک ان کی صحت اچھی تھی وہ کسی سے دبتے نہ تھے۔مزاج میں زمینداری کا رعب،اس پر ذہانت اورشاعرانہ طبیعت مُستزاد تھی۔علاقے میں اپنی قابلیت اورمعاملہ فہمی کے لیے مشہورتھے۔لوگ ان سے دبتے تھے اوران کی عزّت کرتے تھے۔موضع اورخاندان کے بعض افرادان کے مزاج کی تیزی کی وجہ سے ان سے ناخوش رہتے تھے۔‘‘
(جمیل احمد خاں جمیلؔسلطان پوری صاحب،ص:۴۳)
’’استاذی مظہری(جمیل مظہری)بڑے باکمال اورفنا فی الادب انسان تھے۔دنیوی شہرت وعزّت اورعہدہ ومنصب کی ان کو کوئی پروانہیں تھی۔وہ سادہ اورمعمولی شیروانی میںرہتے تھے لیکن پورا عظیم آبادبلکہ پوری اردودنیا احترام وعقیدت سے ان کے آگے جھک جاتی تھی۔ایسے باکمالوں سے نہ صرف عظیم آباد بلکہ پورا بہارخالی ہوچکا ہے۔میںنے پروفیسراختراورینوی،پروفیسرصدرالدین فضاؔشمسی،پروفیسرمطیع الرحمن،پروفیسرممتاز احمد،پروفیسریوسف خورشیدی،پروفیسرکلیم احمد عاجزؔجیسے باکمال اساتذۂ کرام سے آنرس کے زمانے میں استفادہ کیاتھا،پھر بعد میں پروفیسرکلیم الدین احمد صاحب سے پی ایچ۔ڈ ی کے زمانے میں استفادے کا موقع ملا جب میںنے ان کو اپنے مقالے کا نگراں بننے پر راضی کرلیا۔میںان بزرگوں کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ان بزرگوں کا شاگرد بن کر ان کے قدموں میںبیٹھنے کا شرف واعزاز مجھے حاصل ہے۔‘‘
(پروفیسرجمیل ؔمظہری صاحب،ص:۴۹)
’’میں پٹنہ کے ا س علاقہ میںجب بھی آتا تواپنے دونو ںگھٹنوں میں شدید دردکے باوجودخود کو گھسیٹتا ہواکلیم عاجزؔصاحب کے دروازے تک پہنچاتا تھا،کھڑا رہتا،پھر بیٹھ جاتا۔وہ مجھے ہر حال میں اندربلا لیتے تھے۔کبھی میری حالت دیکھ کر مجھ پر ترس کھاتے۔ایک بار ملنے گیا توانھوں نے ڈاکٹر صاحب(وسیم احمدابن کلیم عاجزؔ)کے ذریعہ مجھے مکان کے اندراس کمرے میں بلا لیا جس میں وہ لیٹے ہوئے تھے۔انھیں تیز بخارتھا۔اس حالت میں بھی انھوں نے ملاقات کی سعادت سے محروم نہیں کیا۔مصافحہ کرکے میری خیریت پوچھی ۔بیشتراورمعمولاً باہرکے کمرے میں بٹھاتے تھے۔بغیرکچھ کھلائے واپس جانے نہ دیتے تھے۔کبھی کھجوریں،کبھی بسکٹ،کبھی پیٹھے یا امرودکافالودہ۔‘‘
(پروفیسرکلیم احمد عاجزؔصاحب،ص:۹۱)
ڈاکٹر ممتازاحمد خاں خالص ادب کے آدمی تھے۔وہ سوتے جاگتے ،اٹھتے بیٹھتے صرف اورصرف ادبی موضوعات پر ہی گفتگو کرنا ان کا شیوہ تھا۔ان کاادبی موقف واضح ہے۔وہ اسلامی ادب کے دلدادہ ہیں۔تہذیب وشائستگی،اعلیٰ اخلاقی قدریں اوراحترام آدمیت انھیں مقدم ہے۔وہ ایسی صفات جس کسی شخصیت کے اندرپاتے ہیں ان کا ادب واحترام کرتے ہیں۔زبانی طورپر بھی اورتحریرکے ذریعہ بھی۔
’’پروفیسرثوبان فاروقی صاحب سے میرے تعلقات اڑتیس(۳۸)سال کو محیط تھے۔۱۱؍جنوری۱۹۸۰ء کو ان سے میری ملاقات ہوئی۔یہ جمعے کا دن تھااورمیںآر۔این۔کالج،حاجی پور میںاردوکے لیکچررکی حیثیت سے پرنسپل کے آفس میں جوائن کرنے کے لیے حاضرہوا تھا۔پروفیسرثوبان فاروقی صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ان کے ملنے بات کرنے میں ایسی سادگی،شائستگی اوراپنائیت میںنے دیکھی کہ میںپہلی ہی ملاقات میںان کا گرویدہ ہوگیا۔پھر توان کی شرافت،نیکی اورشائستگی کی پرتیں کھلتی گئیں اوران کے علم وفضل اوربہترین ادبی ذوق کے ساتھ ان کی وسیع معلومات اورتنقیدی ژرف نگاہی بھی سامنے آتی گئیں۔پھر توروزانہ کا ان کا ساتھ رہا۔شعبۂ اردو میں طلبہ کے کلاسز لینے کے بعد ادبی موضوعات پر ان سے گھنٹوں گفتگو ہوتی تھی اورمیں روزانہ اپنے دامن ادب،علم اورتہذیب کے موتیوں سے بھرکراُٹھتا تھا۔‘‘
(پروفیسرثوبان فاروقی صاحب،ص:۱۱۳)
’’نجم الہدیٰ صاحب بہت خوبصورت،خوب سیرت،مہذب،خوش مزاج،خوش خلق ،شریف اوردیندارانسان ہیں۔خودداری،استغنا،سادگی اورعلمیت وشرافت ان کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی ہیں۔وہ فنا فی الادب ہیں۔زرگری اورعہدہ ومنصب کے حصول میں سرگردانی سے وہ کوسوں دوررہے۔تدریس وتعلیم اورتصنیف وتخلیق ان کا ہمہ وقت وقت کا مشغلہ رہا۔نجم الہدیٰ صاحب کی شخصیت کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ توکل علیٰ اللہ اورمحبتِ رسولﷺ میںسرشار ہیں۔ملّت اسلامیہ کا بہت درد رکھتے ہیں۔انسانی قدروں کے علم برداراورسارے عالم کے انسانوں کے خیرخواہ اورہمدرد ہیں۔عزّتِ نفس کی حفاظت کرنے والے ،غیّورومستغنی ہیں۔وہ اقبالؔشناسوں میں معزز مقام رکھتے ہیں۔وہ علم العروض اورعلم البلاغت کے ماہر ہیں۔‘‘
(پروفیسرنجم الہدیٰ صاحب۔ص۔۲۴۶)
ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کی یہ تصنیف’’قندیلیں ‘‘جب اشاعت کے لیے پریس میں جانے ہی والی تھی کہ ان کے عزیز شاگرداورویشالی ضلع میںاردو تحریک کے ایک سرگرم رکن ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق کا انتقال پُرملال ہوگیا۔خاں صاحب نے کتاب کی فوری اشاعت کو کچھ دنوں کے لیے مؤ خرکردیا۔ عزیز شاگرد کی یاد میں چند سطور لکھے اورپھر کتاب پریس میں گئی۔اپنے شاگرد کو یاد کرتے ہوئے ممتاز احمد خاں لکھتے ہیں:
’’مشتاق صاحب بڑے فرماں بردار،مخلص،نیک طبیعت اوربامروّت شاگرد تھے۔کام کے دوران کسی لفظ کے لکھنے میں اگروہ غلطی کرجاتے تومیں انھیں نہ صرف ڈانٹ دیتا بلکہ سخت لہجہ میں تنبیہ کرتا۔وہ اُف تک نہ کرتے۔خاموشی اورشرافت سے میرا دل جیت لیتے تھے۔بعد میں مجھے خود اپنے رویّے پر افسوس اورندامت کا احساس ہوتا۔‘‘
(ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق صاحب،ص:۲۳۷)
زیرنظرکتاب’’قندیلیں‘‘ہر اعتبار سے ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کی ایک اہم اورقابل قدرتصنیف ہے جس کے مطالعے سے قاری کی فکر مہمیزہوتی ہے۔اورپڑھنے والے کے اندریہ حوصلہ پروان چڑھتا ہے کہ وہ بھی اپنے بچھڑے ہوئے لوگوں کو حافظے کے دفینوں اوریادوں کے نہاں خانوں سے نکال کر دیکھ سکے۔ان کی اچھائیوں کے تذکرے دہرائے اورانھیں اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کرے۔
’’قندیلیں‘‘کا دیباچہ بقلم مصنف لکھا گیا ہے۔مقدمہ معروف ادیب وناقد ڈاکٹر شہاب ظفراعظمی صدرشعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی،پٹنہ نے لکھا ہے۔فلیپ کی تحریریں بالترتیب پروفیسرڈاکٹر محمد ضیا ء الدین پرنسپل،گورنمنٹ طبیّہ کالج، پٹنہ اورانوارالحسن وسطوی جنرل سکریٹری ’کاروانِ ادب‘،حاجی پورنے لکھی ہیں۔۲۴۸؍صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ۴۰۰ روپے ہے۔کتاب کے تعلق سے مرحوم ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کے صاحبزادے ڈاکٹر لطیف احمد خاں سے ان کے موبائل نمبر8873427899پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔