قاضی صاحب :یادوں کے انمٹ نقوش-شمیم اکرم رحمانی

 

انسانوں کے ازدحام میں کچھ لوگ اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں اور جب اس دنیائے اب و گل کو الوداع کہتے ہیں تو اپنی اوصاف حمیدہ کی بنیاد پر دیر تک یاد رکھے جاتے ہیں، استاد محترم حضرت مولانا قاضی عبدالجلیل قاسمی صاحب بھی ایسی ہی شخصیت کے مالک تھے جن کی وفات کل مورخہ ١٨فروری ٢٠٢١ روز جمعرات کو ہوگئ اور امارت شرعیہ ایک نیک انسان اور قدآور علمی شخصیت سے محروم ہوگئ، چونکہ خدا کے نظام تکوینی میں ہر واقعہ اپنے وقت پر ہی ظہور پذیر ہوا کرتاہے اس لیے بے وقت موت کی تعبیر شرعا درست نہیں ہے لیکن یہ بات سچ ہے قاضی صاحب کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پر ہونا بظاہر دشوار ہے،

اللہ تعالیٰ نے قاضی صاحب کو گوناگوں اوصاف سے نوازا تھا علمی گہرائی، فقہی بصیرت، اور امور قضاء کی انجام دہی میں مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ سادگی، تواضع، اور اخلاص و للہیت کےاونچے درجے پر فائز تھے، مجھ جیسے کوتاہ علم سے بھی اہم معاملات میں مشورے کرلیا کرتے تھے، کئ بار ایسا ہوتا کہ دیر تک علمی موضوعات پر گفتگو کرتے اور میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتا تو صاف کہتے کہ دیکھیے مجھے اس بات کا احساس ہے کہ میرے معلومات کم اور مجہولات زیادہ ہیں، ایک دن بات چلی تو کہنے لگے کہ مجھے اس وقت شرم آتی ہے جب لوگ بڑاعالم سمجھ کر میری عزت کرنے لگتے ہیں،المعہد العالی میں طلبہ کے درمیان سرعام کہتے کہ فلاں عبارت میں نہیں سمجھ سکا اگر آپ لوگوں میں سے کسی کی سمجھ میں آجائے تو مجھے بھی بتادیجئے گا، جو عبارت سمجھ میں نہیں آتی اس کی جیسی تیسی تشریح کرنے کے بجائے سیدھا سیدھا کہتے میں اسے نہیں سمجھ سکا پھر عام طور پر عبارت کی ترکیبی غلطیوں کی نشاندہی کرتے لیکن اس دوران کہیں پر علمی رعب جمانے کی تھوڑی سی بھی کوشش نہیں کرتے، ان کی علمی گہرائی مسلم تھی جب بھی کوئ اہم مسئلہ پیش آتا تو اچھے خاصے لوگ ان کے پاس جاتے اور ان سے گفتگو کرنے کے بعد انشراح کا اظہار کرتے، ان کے پاس دارالقضا کی فائلیں پہونچتیں تو وہ ہر ہر صفحے کا مطالعہ کرتے اس کے بعد کوئی رائے قائم کرتے بسااوقات الجھن بھی ہوتی کہ حضرت اتنے آسان سے معاملے میں وقت کیوں لگارہے ہیں لیکن وہ ٹھیک کرتے تھے بہت سی چیزیں بظاہر چھوٹی اور آسان لگتی ہیں لیکن گہرائی میں جانے کے بعد چیزوں کی نوعیت بدل جایاکرتی ہے کئ بار ایسا ہی ہوتا بھی –

 

وہ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد ایک لمبے عرصے تک فریضہ تدریس سے بھی وابستہ رہے جس کی وجہ سے نحو و صرف کے قواعد اخیر عمر تک ذہن نشیں تھے افتا اور قضا کے طلبہ کو جب "معین الاحکام” پڑھاتے توساتھ ہی نحو و صرف کے نکتے خوب لطف لے کر بیان کرتے اور طلبہ سے اس سلسلے میں پوچھتے بھی تھے، چند فقہی مسئلے ایسے بھی تھے جن میں وہ عام علماء کے بالمقابل الگ رائے رکھتے اور جب کبھی بات چلتی تو دلائل کے ساتھ اپنی بات رکھ کر دوسروں کے اعتراضات سنتے اور جوابات بھی دیتے، پہلے پہل علمی گفتگو کرنے والا ان سے زیادہ بات نہیں کرسکتا تھا اس لیے کہ ان کی آواز اونچی ہوجاتی اور لہجے کی سنجیدگی بھی بظاہر ختم ہوجاتی لیکن دوتین بار گفتگو کرلینے کے بعد بات سمجھ میں آجاتی اور پھر دوران گفتگو مزہ بھی آتا

 

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

افسوس تم کو میرؔ سے صحبت نہیں رہی

 

میر تقی میر

 

یوں تو دفتری اوقات میں مجھے خاص طور پر قاضی صاحب کے ساتھ رہنے کا موقع ملا جہاں پورا دن امور قضا کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ استفادے میں بھی گزرتا لیکن یاد آرہاہے ایک دفعہ ان کے ساتھ مغربی چمپارن کا سفر بھی ہوا تھا، سفر ایک ہفتے کا تھا دوران سفر کچھ پروگرام ایسی جگہوں پر بھی ہوئےتھے جہاں سے ان کا گھر قریب تھا لیکن وہ گھر نہیں جاتے بلکہ کہتے پہلے اپناکام تو کرلیں، میرا نکاح بھی قاضی صاحب نے پی پڑھایاتھا میں نے جب ان درخواست کی فلاں تاریخ کو نکاح ہے میری خواہش ہے کہ آپ ہی پڑھائیں تو انہوں نے کہا کہ اب عمر زیادہ ہوچکی ہے اور نکاح پڑھانے کےلئے پٹنہ سے سوپول جانا مشکل ہے لیکن جب میں نے کہا کہ نکاح مسجد میں ہوگا، ہر طرح کی لین دین سے پاک ہوگا، اور بارات وغیرہ کا کوئی سسٹم بھی نہیں رہے گا تو انہوں نے کہا تھا کہ ٹھیک ہے جاؤنگا چنانچہ میلوں کی دوری طے کرکے قاضی صاحب میرے یہاں تشریف لے گئے اور نکاح پڑھایا، اس طرح کی اور بھی بہت سی یادیں قاضی صاحب کی ذات سے وابستہ ہیں لیکن طول کلامی سے اجتناب کی کوشش ان کے تذکرے سے روک رہی کل ملا کر قاضی صاحب کی شخصیت کچھ خامیوں کے باوجود حقیقی معنوں میں قابل قدر تھی ان کی وفات مجھ جیسے سیکڑوں افراد کے لئے ذاتی خسارے کی طرح ہے بس دعا گو ہوں کہ

 

اب خدا مغفرت کرے اس کی

میرؔ مرحوم تھا عجب کوئی

 

غلام ہمدانی مصحفی

 

Shamimimarat@gmail.co