قاضی شریعت مولانا عبد الجلیل قاسمی ہزاروں نم آنکھوں کے بیچ سپرد خاک

 

امیر شریعت مولانا ولی رحمانی اور وزیر اعلیٰ بہار سمیت ملک کی سرکردہ شخصیات کا اظہار تعزیت

پٹنہ :موت سے کس کو رستگاری ہے ، آج وہ کل ہماری باری ہے، بالآخر امارت شرعیہ کے قاضی شریعت مولانا عبد الجلیل قاسمی بھی اللہ کے حضور پہنچ گئے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ، حالانکہ آپ پچھہتر برس کی عمر کوپہنچ گئے تھے اور عمرطبعی گزار چکے تھے ، مگر پھر بھی آپ کے انتقال نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ، روزانہ کے معمول کی طرح دفتر آئے ، روزمرہ کے کام کیے ، مقدمات کی فائلیں دیکھیں ، پھر دفتر نظامت میں آئے اور رخصت لی ، کہا کہ گھر جا رہاہوں ، رشتے داروں سے ملنا ہے ، کسے پتہ تھا کہ یہ رخصت گھر جانے کے لیے نہیں بلکہ دنیا سے جانے کے لیے تھی،بہر حال ہر آنے والا جانے کے لیے آیا ہے اور ’’اوپر جانے والا کب واپس آتا ہے‘‘ ، یہ جملہ قاضی صاحب کی زبان سے انتقال سے چند منٹ پہلے نکلا تھا ، کسے پتہ تھا کہ جانے والے کو اپنے بلاوے کا احساس ہو چکا تھا۔بہر حال قاضی صاحب بھی چلے گئے ، ایک دن ہم آپ بھی چلے جائیں گے،باقی رہنے والی ذات تو اللہ کی ہے ۔ لیکن کچھ جانے والے اپنے اچھے کاموں اورنیک خصلتوں کی وجہ سے یادوں کا ایک قافلہ چھوڑ جاتے ہیں ، قاضی صاحب کی ذات بھی اسی طرح کی تھی جسے لمبے وقت تک یاد کیا جا تا رہے گا، ان کی نیکی، خدا ترسی، مزاج کی سادگی، علم کی گہرائی ، عمل کی پختگی، فیصلے کی قوت ، رائے کی درستگی، وقت کی پابندی، خوش اخلاقی، نرم گفتاری،عاجزی ، انکساری ، نگاہ وفکرکی بلندی ، دور اندیشی ؛ سب چیزیں یاد کی جائیں گی اور مدتوں یاد کی جا تی رہیں گی، امارت شرعیہ کو آپ کی کمی کا احساس برسوں رہے گا۔

کچھ روز قبل دل کے عارضے کی وجہ سے اسپتال میں بھرتی ہوئے تھے اور افاقہ بھی ہو گیا تھا، دفتر آنا بھی انہوں نے شروع کردیا تھا،۱۸؍ فروری ۲۰۲۱ء روز جمعرات کو بھی حسب معمول دفتر آئے ، چھٹی کے بعد با جماعت عصر کی نماز امارت شرعیہ میں پڑھی ، پھر دفتر سے گھر کے قریب کی مسجد میں مغرب کی نماز کے لیے جا ہی رہے تھے کہ مسجد کے قریب بیہوش ہو کر گرپڑے، فوری طور پر انہیں اسپتال لے جایا گیا ، لیکن روح پہلے ہی قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ ان کے انتقال پر امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تجربہ کار،باصلاحیت اور متقی صاحب علم،بابصیرت عالم دین اور کامیاب مدرس تھے ، قضاء کی باریکیوں پر ان کی گہری نظر تھی ،ایک طویل مدت تک انہوں نے امارت شرعیہ کے قاضی شریعت کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں، ان کی خدمات کو لانبے عرصے تک بھلایا نہ جاسکے گا۔امارت شرعیہ ایک تجربہ کار با بصیرت قاضی شریعت سے محروم ہو گئی ۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبرجمیل عطا کرے ، امارت شرعیہ کو بھی اللہ تعالیٰ ان کا نعم البدل عطا کرے ۔ قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا محمد شبلی القاسمی نے ان کے انتقال پرگہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال امارت شرعیہ کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری ملت کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے، انہوں نے کہا کہ اپنے ورع و تقویٰ ، خدا ترسی، للہٰیت ، وقت کی پابندی، معاملات کی صفائی ، قوت فیصلہ اور اصابت رائے کی وجہ سے وہ امارت شرعیہ کے ذمہ داروں میں نمایاں مقام رکھتے تھے ۔ نائب ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ،مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ سمیت امارت شرعیہ کے دیگر ذمہ داروں اور کارکنان کے علاوہ ،ملک کی سرکردہ علمی و ملی شخصیات نے بھی ان کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا ہے ۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی قاضی صاحب کی وفات پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا اور ان کے انتقال کو بہار کے لیے بڑا نقصان قرار دیا، امارت شرعیہ کے دفتر میں کئی اہم سیاسی لوگوں نے پہونچ کر قاضی صاحب کے جسد خاکی کا آخری دیدار کیا ، امارت شرعیہ کے ذمہ داروں کے سامنے تعزیت پیش کی اور رات دس بجے امارت شرعیہ کے اندر ہونے والی پہلی جنازہ کی نماز میں شرکت کی ، ان میں سابق وزیر حکومت بہار جناب عبد الباری صدیقی صاحب، جناب اخترالاسلام شاہین صاحب ایم ایل اے سمستی پور، جناب خالد انور ایم ایل سی، سابق وزیر حکومت بہار جناب شیام رجک صاحب، جناب سید ارشاد اللہ صاحب چیر مین بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ پٹنہ شامل تھے،پہلی نماز مولانا مفتی سعیدالرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ نے پڑھائی۔پہلی نماز جنازہ کے بعددیر شب قاضی صاحب مرحوم کا جسد خاکی سوگوار افراد خانہ کے ساتھ ان کے آبائی وطن دھوبنی روانہ ہوا، امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب کی قیادت میں امارت شرعیہ کے ذمہ داروں کا ایک وفد تجہیز و تدفین میں شرکت کے لیے دھوبنی پہونچا، اس وفد میں مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم ، مولانا سہیل احمد ندوی صاحب نائب ناظم ،مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت، مولانا سہیل اختر قاسمی صاحب نائب قاضی شریعت، مولانا مجیب الرحمن قاسمی دربھنگوی معاون قاضی شریعت ، مولانا مفتی امتیاز قاسمی معاون قاضی شریعت، قاری مجیب الرحمن صاحب ، مولانا شہنواز احمد مظاہری اس وفد میں شریک تھے، ڈھاکہ کے قاضی شریعت مولانا اطہر جاوید قاسمی، بتیا کے قاضی شریعت مولانا نثار احمد قاسمی ، مولانا اشتیاق حیدر قاسمی بسوریا بھی جنازہ میں حاضر ہوئے، مغربی و مشرقی چمپارن اور اس کے مضافات سے عوام و خواص کا جم غفیر جنازے میں موجود تھا ، لوگوں کے ازدحام کو دیکھ کر قاضی صاحب مرحوم کی مقبولیت کا اندازہ ہوا، ان شاء اللہ اپنے ورع و تقویٰ ، خدا ترسی اور للٰہیت کی بنا پر عند اللہ بھی آپ کی مقبولیت دو چند ہوگی ۔ دوسری نماز جنازہ بعد نماز جمعہ قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے پڑھائی،نماز سے قبل مولانا مفتی وصی احمد قاسمی اور مولانا سہیل اختر قاسمی صاحب کا خطاب ہوا، جس میں انہوں نے قاضی صاحب مرحوم کے فضائل و مناقب اور ان کی خصوصیتوں کو بیان کیا۔ نماز کے بعد اپنے آبائی قبرستان میں ہزاروں نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک ہوئے، رہے نام اللہ کا۔ قاضی صاحب کے انتقال پر ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ان کے ہزاروں شاگرد، محبین اور مخلصین غمزدہ ہیں اور دعائے مغفرت کر رہے ہیں ، قارئین سے بھی دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔