قاضی عبد الغفار ایک بلند پایہ مصنف اورادیب

عارفہ مسعود عنبر مرادآباد

 

یہ مرادآباد شہر کی خوش قسمتی ہے کہ سر زمین مرادآباد نے قاضی عبد الغفار جیسے بلند پایہ مصنف ،ایک صاحب طرز انشاء پرداز ،ایک کامیاب صحافی اور اردو زبان و ادب کی ایک ناقابلِ فراموش ہستی کو پیدا کیا ،قاضی عبد الغفار اپنی شخصیت ،تعلیم ،اور ادبی شعور کے اعتبار سے ایک قابلِ قدر اور لائق احترام ادیب ،صحافی ،اور مصنف تھے ۔انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1913 سے کیا اور یہ کہنے میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی کہ ان کے قلم کی روشنائی تادم حیات خشک نہیں ہوئ ہے۔وہ تادم آخر لکھتے رہے ،سوچتے رہے اور کسی نہ کسی دائرے میں ادبی سفر کو جاری رکھا۔ آپ کے کارنامے غیر معمولی فکری صلاحیتوں کے مظہر ہیں ،قاضی عبد الغفار ایسی عہد ساز شخصیت کا نام ہے جنہوں نےاردو صحافت اور ادب کو اتنا کچھ دیا ہے کہ کوئ بھی ادبی مورّخ اس نام کو فراموش نہیں کر سکتا ،قاضی صاحب کا ذکر کیے بغیر اردو صحافت کی تاریخ نہیں لکھی جا سکتی ۔
قاضی عبد الغفار کے دادا قاضی حامد علی سنبھل میں تحصیل دار تھے ۔قاضی حامد علی کے والد کو بہادر شاہ ظفر کے دربار سے ‘قاضی کا خطاب ملا تھا ۔انقلاب 1857 کے زمانے میں قاضی حامد علی کے مکان پر چند انگریز افسروں نے پناہ لی۔ غدر فرو ہونے کے بعد قاضی حامد علی کو صرف اس جرم کی پاداش میں پھانسی دے دی گئی تھی کہ انہوں نے انگریز افسروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ،لیکن ان انگریز حکام نے بحفاظت انگلستان پہنچنے پر مرادآباد کے انگریز کلکٹر کو ایک خط ارسال کیا ۔اس خط میں قاضی حامد علی کے سلوک کی بہت تعریف کی گئی تھی ۔خط پڑھ کر مرادآباد کے انگریز کلکٹر کو حامد علی کو پھانسی دینے کا بہت افسوس ہوا ۔ان کے ماموں قاضی محمود علی نے اس سلسلے میں انگریز کلکٹر سے ملاقات کی تو اس نے ان کی ضبط شدہ جائداد میں دو گاوں اور چار مکان ان کے بڑے بیٹے ابرار کے بالغ ہونے پر ریلیز کرنے کا وعدہ کیا ۔قاضی عبد الغفار سمیت چھ بہن بھائ میں سے تین فوت ہو گئے تھے۔ ایک بہن افسری بیگم تھیں۔ ان کے چھوٹے بھائی قاضی عبد الجبار جو’ اچھن بھیا’ کے نام سے مشہور تھے معمولی تعلیم یافتہ تھے ۔آپ کے والد قاضی ابرار مرادآباد میں اسپیشل مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز تھے۔ آپ کی والدہ سلمیٰ خاتون ایک دیندار اور گھریلو خاتون تھیں جو پیار سے عبد الغفار کو پیارے میاں کہہ کر پکارتی تھیں ۔قاضی عبد الغفار نے ابتدائی تعلیم مرادآباد کے مختلف اسکولوں سے حاصل کی۔ گورمنٹ انٹر کالج سے میٹرک پاس کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انٹر میڈیٹ کی سند لی اور بی اے کا امتحان دیے بغیر علی گڑھ کو خیر باد کہہ کر مرادآباد واپس آ گئے۔اس پر ان کے ساتھیوں تصدق حسین خاں شیروانی ،عبد الرحمن صدیقی، شعیب اور سعید الرحمن قدوائی کو بڑا تعجب ہوا ،مگر ان کے والد کی انگریز حکام تک پہنچ اچھی تھی انہوں گورنر سے کہہ کر عبد الغفار کو آب پاشی کے محکمہ میں ملازمت دلوا دی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کوئی ہندستانی انگریز افسر سے ملنے جاتا تو اسے جوتےباہر اتار کر ننگے پیر جانا پڑتا تھا ،اور یہی صورت قاضی صاحب کے ساتھ بھی پیش آئی۔ حالانکہ یہ فل سوٹ بوٹ زیب تن کئے ہوئے تھے ۔اس واقعہ کا قاضی صاحب کو بہت صدمہ پہنچا لیکن بادل ناخواستہ انہیں سرکاری نوکری قبول کرنا پڑی ۔زندگی میں یہ صرف دو بار سرکاری ملازمت سے منسلک رہے ایک مرتبہ نوجوانی میں اور دوسری مرتبہ 1846 میں ۔
پہلی ملازمت چھوڑنے کا قصہ بڑا دلچسپ ہے قاضی صاحب یوپی کے اس علاقے میں تعینات کئے گئے تھے جس کی سرحد نیپال سے ملتی ہے۔ ایک دفعہ یہ دورے پر گئے اور اپنا سامان ڈاک بنگلے میں رکھ کر دفتر کے معائنہ کو چلے گئے ۔اور جب واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا سامان ڈاک بنگلے کے صحن میں پڑا ہوا ہے۔ اور ایک انگریز مادر زاد ننگا ان کے کمرے میں براجمان ہے اس پر قاضی صاحب کو بڑا طیش آیا ۔کہ اس انگریز افسر کی چھڑی سے اتنی پٹائ کی کہ وہ آگے آگے بھاگ رہا تھا قاضی صاحب چھڑی لیے اس کے پیچھے پیچھے ۔جب وہ ادھ مرا ہو کر بھاگ نہیں سکا تو ایک درخت کا سہارا لیکر کھڑا ہو گیا۔ تب قاضی صاحب نے اسے چھوڑ دیا اور واپس ڈاک بنگلے آکر اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے کر مرادآباد واپس چلے آئے۔
قاضی صاحب کی اخبار نویسی کی ابتداء 16سال کی عمر میں ہوئ۔ جب وہ ہائی اسکول کے طالب علم تھے ۔مرادآباد سے ابنِ علی صاحب کی ادارت میں اخبار "نیر عالم ” نکلتا تھا جس میں ان کا تحریر کردہ ایک خبر نامہ شائع ہوت اتھا ۔ اس کے بعد متعدد اخبارات میں لکھتے رہے ۔اصل اخبار نویسی کی ابتداء 1913 میں ہوئ ،جب مولانا محمد علی جوہر نے دہلی سے ،”ہمدرد” نکالا "ہمدرد” کے معیار کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت کے بڑے بڑے ادیب” ہمدرد ” میں چھپنا اپنے لئے باعث عزت سمجھتے تھے ۔پریم چند کا افسانہ 1931 میں” ہمدرد” میں شائع ہوا تھا جس کا انہیں معاوضہ بھی ملا تھا ۔ "ہمدرد ” میں ان کے شرکاء میں مولانا ظفر علی خاں مولانا شرر اور جالب دہلوی قابلِ ذکر ہیں۔ 1914 میں مولانا محمد علی کو نظر بند کر دیا گیا تو قاضی صاحب نے مولانا محمد علی کے اشارے پر کلکتہ سے "جمہور” نکالا جو بقول قاضی صاحب ” جمہور ” میرا سب سے کامیاب اخبار تھا جس کی اشاعت 13 ہزار تک پہنچ گئی تھی ۔یہ وہ زمانہ تھا جب مولانا آزاد بھی نظر بند کر دیئے گئے تھے۔ 1914 میں قاضی صاحب کو بھی چھ ماہ کے لیے نظر بند کیا گیا ۔اور اس کے بعد انہیں کلکتہ سے چلے جانے کا حکم ملا تاہم یہ مرادآباد چلے آئے لیکن پھر انہیں نظر بند کر کے نینی تال بھیج دیا گیا ۔جس پر قاضی صاحب نے اپنے ایک دوست کو لکھا میں اپنے دادا کی سنت پر عمل کر رہا ہوں ۔
قاضی صاحب بڑے وجیہ، خوش خوراک و خوش پوشاک انسان تھے۔ کھلتا ہوا گندمی رنگ ،اونچا قد،چوڑی پیشانی ،خشخشی داڑھی ،گداز جسم ، چہرے پر متانت اور آواز میں خود اعتمادی ۔ان خوبیوں کے سبب ہر ملنے والا ان کا گرویدہ ہو جاتا ،وہ نئے لکھنے والوں کی ضرورت سے زیادہ حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے ،وہ قلم کے دھنی تھے لکھنا پڑھنا ان کا محبوب مشغلہ تھا ۔چنانچہ وہ اپنے لکھنے کے انداز پر یوں رقم طراز ہیں کہ
"میری لکھائ کا ڈھنگ ایسا ہے کہ جب لکھنے کا دورہ پڑتا ہے تو لکھے چلا جاتا ہوں اور اس کے لیے صبح و شام کی قید نہیں” ۔بیسویں صدی میں جن اکابرین اور مجاہدین نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں حصہ لیا ان میں قاضی صاحب کا نام اہمیت کا حامل ہے صحافت اور سیاست ان کی دلچسپی کے دو اہم میدان تھے ۔
قاضی صاحب نے ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے انہوں نے ڈرامے بھی لکھے اور شاعری بھی کی۔ وہ ایک کامیاب ڈرامہ نگار تھے شعر کہنا وقت گزاری کا محبوب مشغلہ تھا ۔وہ جس کاغذ پر شعر لکھتے اسے خود ضائع کر دیتے لیکن پھر بھی ان کی کچھ نایاب نظمیں اور اشعار موجود ہیں ۔شعر ملاحظہ ہوں۔:
پروانہ اپنی منزل آخر پہ آ گیا
باقی ہے ایک شمع عزادار آرزو
اس نامراد دل کی جسارت کا کیا کروں
ہے بد نصیب اب بھی طلب گار آرزو
بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ ان کا قلمی نام”ق” "ع” کے علاوہ "خاموش” بھی تھا ان کی ایک نظم "نواے خاموشی” کے عنوان سے 1926 کے ادبستان میں شائع ہوئ تھی۔ قاضی صاحب ایک کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے وہ ایک منفرد ادیب اور بے مثل انسان تھے جہاں یہ دونوں باتیں اکھٹا ہو جاتی ہیں وہاں ادبی اور انسانی دونوں معیار بلند ہو جاتے ہیں۔ ہمارے بزرگ ادیبوں میں شاید ہی کوئ ادیب ہو جس نے لکھنے والوں کی اتنی حوصلہ افزائی کی ہو ۔
قاضی صاحب اس کارواں میں شامل تھے جس میں حکیم اجمل خاں ،مولانا محمد علی جوہر ،مولانا ابوالکلام آزاد شامل تھے ۔قاضی صاحب کا تصنیفی سرمایہ چودہ کتابوں پر مشتمل ہے ۔ لیلیٰ کے خطوط،مجنوں کی ڈائری ،عجیب، تین پیسے کی چھوکری ، سیب کا درخت ،آثار ابوالکلام آزاد، آثار جمال الدین افغانی،حیات اجمل ،نقش فرہنگ ، اس نے کہا ،مذہب اور دھرم ، مشترکہ زبان ،ان کی تصانیف میں "لیلئ کے خطوط” اور "مجنوں کی ڈائری” کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی ۔نوجوان طبقہ اس سے بہت متاثر ہوا ۔ان کی قابلِ فخر تصانیف "آثار جمال الدین ” آثار ابو الکلام تاریخی اہمیت رکھتی ہیں "لیلی کے خطوط ” ابتداء میں ماہ نامہ نیرنگ خیال میں 1930 سے 1933 تک قسط وار شائع ہوئے۔ 1934 میں کتابی شکل میں منظر عام پر آئی ۔یہ فرضی خطوط ہیں ان خطوط کی مجموعی تعداد 52 ہے ۔جس میں ایک طوائف کی زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔ دراصل لیلیٰ کی زندگی کی تین منزلیں ہیں جو لیلیٰ کی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں اگر ان کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک طوائف کی داستان نہیں بلکہ مجموعی طور پر عورت کی مختلف ذہنی کیفیتوں کی ترجمانی اور احساسات و جذبات کا نفسیاتی مطالعہ ہے۔ بقول قاضی صاحب ” لیلیٰ کے قلم سے جو خطوط لکھوائے گئے ہیں ان کا مقصد نہ انشاء پردازی کی مشق ہے نہ زور قلم کا مظاہرہ بلکہ ان کے خطوط میں جو کچھ لکھ سکتے ہیں اپنے لیے لیلی کا تبسم ایک فوارۂ خون ،ایک فریاد اور اس کی ظرافت کی ایک دکھی پکار ہے ۔اس کی شوخیوں میں اس کے دل کا درد مستور ہے ‘لیلیٰ کے خطوط’ مقدمہ قاضی عبد الغفار خاں صفحہ 8″
مجنوں کی ڈائری”اس روز نامچے کا سلسلہ قاضی صاحب کی پہلی تصنیف” لیلیٰ کے خطوط "سے ملتا ہے لیلیٰ کے خطوط کا مقصد طبقہ نسواں کے ایک گروہ کی عکاسی کرنا ہے تو اس روزنامچے کا مقصد نوجوان طالب علموں کی طرز زندگی ،انداز فکر اور عمل میں اصلاح کرنا ہے ۔ ” عجیب "میر امن کی کتاب باغ و بہار کی طرز پر لکھی گئی کتاب ہے ۔”تین پیسے کی چھوکری” 1937 میں منظر عام پر آئی حالانکہ اس کا تخلیقی عمل کافی پہلے سے شروع ہو چکا تھا۔ قاضی صاحب نے اپنے مخصوص طریقہ اندازکو اس دیباچے میں بھی برقرار رکھا ہے ۔اس میں اہل بصیرت کے لئے بڑی عبرتیں پوشیدہ ہیں ۔یہ ایک معمولی لڑکی کی داستان ہے جو محض اپنے حسن اور جوانی کے بل پر ہزاروں دلوں پر راج کرتی ہے ۔رفتہ رفتہ ایک نوجوان شہزادے کو اپنے فریب میں پھانس لیتی ہے اور اس کی ملکہ بن جاتی ہے کیونکہ وہ ایک معمولی لڑکی ہے اس لیے اس کے دل میں تکبر آجاتا ہے اور وہ ایک ظالم ملکہ بن جاتی ہے۔
اس طرح قاضی صاحب نے تعلیم سے متعلق ہر موضوع کو اپنی فکر و عمل کی جولان گاہ بنایا ہے۔ مسلمانان ہند کی ترقی اور کامرانی کا جو خواب انہوں نے دیکھا تھا اسے حقیقی روپ دینے کی پوری کوشش کی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ قوم جب تک تعلیم حاصل نہیں کرے گی اس میں شعور پیدا ہونا ممکن نہیں ہے۔ قاضی صاحب کے قلم نے جو سرمایہ جمع کیا ہے وہ معیاری ہے ،باقی رہنے والا ہے۔ جب صدیوں بعد بھی ہماری نئی نسلیں اپنی منزلوں سے گزر کر فنا ہو چکی ہوں گی لیکن قاضی صاحب کی فکرو نظر کے یہ شاہ کار اپنے مقام پر باقی رہیں گے۔ ان سے بجھڑے ہوئے ایک عرصہ ہو گیا لیکن دل یہ کہنے پر مجبور ہے ۔
بجھ چکی شمع نور باقی ہے