قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام’عصرِ حاضر میں گاندھی کی معنویت‘پر آن لائن لیکچر،گاندھیائی فکر و فلسفہ کو سماجی زندگی میں شامل کرنے پر زور 

 

نئی دہلی:قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام مہاتما گاندھی کے یومِ پیدایش کی مناسبت سے’عصرِ حاضر میں گاندھی کی معنویت ‘کے موضوع پرجامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر بسوجیت داس کے آن لائن خصوصی لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت کونسل کے وائس چیئر مین پروفیسر شاہد اختر نے کی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ گاندھی ازم سمپل لیونگ اور گریٹ تھنکنگ کا نام ہے۔ اس صدی میں جبکہ اخلاقی و سماجی سطح پر بے شمار خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں ایسے میں گاندھی جی کے نظریات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ غربت کے خاتمے،مذہبی انتہاپسندی ،اخلاقی بحران اور صارفیت کے کے عام مزاج سے نمٹنے کے لیے بھی گاندھی جی کے فکر و فلسفہ پر عمل کرنا ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ خدمتِ خلق اور سماجی کاموں کو انجام دینے کے لیے بھی ہمیں گاندھی جی کے پیغامات و تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔انھوں نے کہا کہاگاندھی جی کے افکار کو پوری دنیا میں پہنچانے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل تعارفی خطاب کرتے ہوئے کونسل کے ڈائریکٹر شیخ عقیل احمد نے تمام مہمانوںکا استقبال کیا اور موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی کے نظریات میں سب سے زیادہ اہمیت اَہنسا یعنی عدم تشدد کے نظریے کو حاصل ہے ،جسے انھوں نے باضابطہ ایک طرزِ حیات قرار دیا اور پوری زندگی اس پرمضبوطی سے عمل پیرا رہے۔انھوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہم ایسی سچویشن میں پہنچ چکے ہیں کہ ہر کسی کو دوسرے سے خطرہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ دنیا صرف طاقتوروں کے رہنے کی جگہ ہے۔اس ماحول میں گاندھی جی کے افکار و فلسفے کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔سیاسی و سماجی افراتفری اور عالمی بحران کے اس دور میں ہمیں نہ صرف گاندھیائی فکر و فلسفہ کو سمجھنے بلکہ اسے برتنے اور عملی زندگی میں شامل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہاکہ گاندھی جی نے عملی زندگی میں صفائی پربھی خاص زور دیااور تاحیات اس کی تبلیغ کرتے رہے۔مودی حکومت نے ملک کی تعمیر و ترقی کے تعلق سے جہاں دیگر اہم اقدامات کیے ہیں وہیں ’سوچھتا ابھیان‘کی شروعات کی،جس کے تحت ملک بھر کے شہریوں کو صفائی کے سلسلے میں بیدار کیاگیا اور گاندھی جی کے پیغام پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی۔وزیر اعظم نے خود اس مہم کی شروعات کی اور پورے ملک میں اس تحریک کو پھیلایاگیاجس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔اس کے علاو ہ مودی حکومت نے اپنے دیگر کئی اہم منصوبوں کی شروعات گاندھی جی کے نظریے اور فلسفے سے متاثر ہوکر کی ہے۔ڈاکٹر عقیل نے کہا کہ زبان کے تعلق سے بھی گاندھی جی کا ایک واضح نظریہ تھا اور انھوں نے مادری زبان کے تحفظ و فروغ پر خاص توجہ دی ۔ مادری زبان کے تعلق سے گاندھی جی بہت حساس تھے اور کسی بھی حال میں نہ تو وہ اپنی مادری زبان سے دست بردار ہونا چاہتے تھے اور نہ ہی دوسروں کو اس حق سے محروم کیے جانے کے قائل تھے۔ مودی حکومت نے مادری زبان کے تعلق سے گاندھی جی کے نظریے کو خاص اہمیت دیتے ہوئے نئی تعلیمی پالیسی مرتب کی ہے اوراس کے نافذ ہونے کے بعد بچوں کو پانچویں کلاس تک لازمی اور آٹھویں کلاس تک اختیاری طورپر مادری زبان میں تعلیم دینی ہوگی۔

پروفیسر بسوجیت نے اپنے لیکچر میں گاندھی جی کی زندگی اور فلسفہ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی اور آج کے عہد میں گاندھی کے افکار کی معنویت پر بصیرت افروز گفتگو کی۔انھوں نے کہا کہ گاندھی جی مذہب کو ایک درخت مانتے تھے اوران کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام مذاہب اسی درخت کی شاخیں ہیں،لہذا مذہب انسان کا انفرادی معاملہ ہے اسے سیاسی اور قومی معاملات میں خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔اسی وجہ سے گاندھی جی کا نظریہ تھا کہ جدید ہندوستان کی بنیادکسی مذہب پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ عوامی فلاح و بہبود پر ہونی چاہیے۔پروفیسر بسوجیت نے کہا کہ گاندھی جی کے افکار میں مرحلہ وار ترقی ہوئی ہے اور انھیں اسی اعتبار سے دیکھنا اور پڑھنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ زبان کے معاملے میں بھی ان کا نظریہ واضح تھا اور وہ زبان کو تہذیب و ثقافت اور خیالات و افکار کے اظہار کا ذریعہ سمجھتے تھے۔وہ جدید تقاضوں اور ضروریات سے آگاہ تھے اور اسی کے مطابق لکھتے اور بولتے تھے۔گاندھی جی نے سودیشی کو فروغ دینے اور قومی معیشت کی ترقی کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جن میں کھادی موومنٹ کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ پروفیسر موصوف نے کہا کہ گاندھی جی کا تصورِ قومیت فرد کی بیرونی آزادی سے زیادہ داخلی آزادی پر زور دیتا ہے،ان کی زندگی اور افکار و نظریات کو آج کے پس منظر میں سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔