قومی پارٹیوں کو 20-2019 کے دوران نامعلوم ذرائع سے ملے 3377.41 کروڑ روپے

نئی دہلی: قومی پارٹیوں کو مالی سال 20-2019 کے دوران نامعلوم ذرائع سے 3377.41 کروڑ روپے ملے جو ان کی کل آمدنی کا 70.98 فیصد ہے۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) نے یہ معلومات دی۔اے ڈی آر نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا کہ بی جے پی نے نامعلوم ذرائع سے 2642.63 کروڑ روپے کی آمدنی کا اعلان کیا، جو کہ کانگریس، این سی پی، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم)، ترنمول کانگریس اور بی ایس پی سمیت مختلف پارٹیوں میں سب سے زیادہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 20-2019 کے دوران بی جے پی نے نامعلوم ذرائع سے 2642.63 کروڑ روپے کی آمدنی کا اعلان کیا جو کہ نامعلوم ذرائع سے قومی پارٹیوں کی کل آمدنی کا 78.24 فیصد ہے۔اے ڈی آر نے کہا کہ کانگریس نے نامعلوم ذرائع سے 526 کروڑ روپے کی آمدنی کا اعلان کیا جو کہ قومی جماعتوں کی کل آمدنی کا 15.57 فیصد ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ قومی پارٹیوں کو نامعلوم ذرائع سے 3377.41 کروڑ روپے ملے جو مالی سال 2019-20 کے دوران ان کی کل آمدنی کا 70.98 فیصد ہے۔ نامعلوم ذرائع سے موصول ہونے والے 3377.41 کروڑ روپے میں سے انتخابی بانڈز سے آمدنی 2993.826 کروڑ روپے ہے جو کہ 88.643 فیصد بنتی ہے۔اے ڈی آر نے کہا کہ 2004-05 اور 2019-20 کے درمیان، قومی پارٹیوں کو نامعلوم ذرائع سے 14651.53 کروڑ روپے ملے۔ ڈونیشن رپورٹ کے مطابق اس میں 20 ہزار روپے سے زائد کے عطیات کی تفصیلات ہیں اور 2019-20 میں قومی جماعتوں کو نقد رقم کی شکل میں 3.18 کروڑ روپے ملے۔اے ڈی آر کے مطابق، 2004-05 اور 20-2019 کے درمیان کانگریس اور این سی پی نے کوپن کی فروخت سے 4096.725 کروڑ روپے کی مشترکہ آمدنی حاصل کی۔ نامعلوم ذرائع ایسی آمدنی ہیں جو انکم ٹیکس ریٹرن میں ڈکلیئر کی جاتی ہیں لیکن 20 ہزار سے کم عطیات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جاتی ہیں۔ اس طرح کے نامعلوم ذرائع میں ’انتخابی بانڈز سے چندہ‘، ’کوپن کی فروخت‘، ’امدادی فنڈز‘، متفرق آمدنی، رضاکارانہ عطیات اور پروگرام عطیات وغیرہ شامل ہیں۔ ایسے عطیہ دہندگان کی تفصیلات جنہوں نے رضاکارانہ طور پر چندہ دیا ہو انہیں عام نہیں کیا جاتا۔