قاتل عمار ابو الغادیہ کون ہیں؟- یاسر ندیم الواجدی

فئہ باغیہ کے مصداق کے تعلق سے دو تین روز پہلے راقم نے ایک مضمون سوشل میڈیا کی نظر کیا تھا۔ اس مضمون میں جہاں ایک طرف حدیث رسول میں وارد فئہ باغیہ کے مصداق کی تعیین کی کوشش کی گئی تھی، وہیں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ ابوالغادیہ نام کی شخصیت جن کے بارے میں متقدمین کی بہت سی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ وہ قاتل عمار تھے، ضروری نہیں ہے کہ وہ صحابی رسول ہوں۔ اس کے جواب میں موجودہ فتنہ کا شکار ایک شخص کی تفصیلی تحریر بھی آئی اور دیگر مشوشین کے "واٹ اباوٹ ازم” سے پُر کمنٹس بھی۔ میرا ارادہ نہیں تھا کہ اپنی بات تفصیلی طور پر رکھنے کے بعد کسی بھی تحریر کا جواب دیا جائے اور جواب الجواب کا سلسلہ شروع کیا جائے "اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا”۔ پھر ہوا یوں کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ایک موقر رکن شوری کا میسج آیا کہ آپ کی طرف سے اس تحریر کا جواب آنا چاہیے، گو کہ میں ان کو بھی اپنی نیت سے باخبر کر چکا تھا، لیکن شاید میری سابقہ تحریر کا اثر تھا کہ "صاحب فتنہ” کل پھر اسکرین پر نمودار ہوے اور زور دے کر کہنے لگے کہ ابو الغادیہ ہی قاتل عمار ہیں۔ اس لیے اسی خاص موضوع پر چند معروضات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

"آمدم بر سر مطلب” سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ میری سابقہ تحریر کا تفصیلی جواب دینے والے شخص نے اپنے مضمون کا آغاز یہاں سے کیا کہ میں ایک ویڈیو میں حدیث کی ایسی تشریح کر رہا تھا جو آج سے پہلے شاید کسی نے نہ سنی ہوگی نہ پڑھی ہو گی۔ حالانکہ وہ جس مضمون کا رد کر رہے تھے اسی کے پوائنٹ نمبر آٹھ میں شارح بخاری ابن بطال کا حوالہ موجود ہے۔ وہ یہی تشریح آج سے ہزار سال پہلے کر چکے ہیں۔ اپنے مضمون میں ان صاحب نے سیر الاعلام کے باقاعدہ اسکرین شاٹ لگا کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے احادیث میں تلبیس سے کام لیا ہے۔ مجھے حدیث فہمی کا کوئی دعویٰ نہیں ہے لیکن اس بات پر حیرت ضرور ہے کہ اصول حدیث کی معمولی استعداد رکھنے والا طالب علم بھی وہ باتیں نہیں لکھ سکتا جو یہ صاحب زبان حال سے "#لا فخر” کہہ کر لکھ گئے۔ ہم نے امام ذہبی کے حوالے سے یہ لکھا ہے کہ ان کے نزدیک حدیث ابی الغادیہ منقطع ہے۔ الفاظ یہ ہیں: کلثوم بن جبر عن أبي الغادية قال سمعت عمارا يقع في عثمان يشتمه فتوعدته بالقتل فلما كان يوم صفين جعل عمار يحمل الناس فقيل هذا عمار فطعنته في ركبته فوقع فقتلته فقيل "قتل عمار”. وأُخبِر عمرو بن العاص (مخبر کون ہے؟ ابو الغادیہ ہیں یا کوئی اور شخص. روایت کے شروع سے ابو الغادیہ واحد متکلم کا صیغہ استعمال کر رہے ہیں، لیکن آخر میں صیغہ مجہول ہے، یعنی مخبر معلوم نہیں ہے، پھر الفاظ ہیں: فقال عمرو بن العاص إن قاتله وسالبه في النار۔ امام ذہبی کے مطابق روایت کے آخری الفاظ کلثوم بن جبر کے ہیں اور ان کا سماع حضرت عمرو بن عاص سے نہیں ہے۔ سیر جلد 2 ص 544 پر فرماتے ہیں: إسناده فيه انقطاع.  (اگر کسی کو حوالہ نہ ملے تو مزید محنت کرے). صاحب مضمون نے بڑی محنت سے سیر الاعلام کے دوسرے صفحہ کا اسکرین شاٹ بھی لگایا ہے جس میں یہی روایت لیث بن ابی سلیم سے مروی ہے، وہ ہمیں مشورہ دیتے ہیں کہ دیکھیے قاتل عمار وسالبہ فی النار والی حدیث بالکل ٹھیک ہے۔ ہمارا یہ دعویٰ تھا ہی نہیں کہ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، ہمارا دعویٰ صرف اس حدیث رسول کے مذکورہ بالا سند سے منقطع ہونے کا تھا، جس میں ابو الغادیہ نے اپنا واقعہ بھی ذکر کیا ہے۔

اب آئیے جانتے ہیں کہ ابو الغادیہ کون ہیں۔ اگر ابو الغادیہ حضرت عمار کے قاتل ہیں تو پھر حدیث کے مطابق وہ جہنمی ہیں۔ لیکن دوسری طرف انہی ابو الغادیہ کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ وہ بیعت رضوان میں شامل تھے۔ ابن تیمیہ نے ابن حزم کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ بیعت رضوان میں شامل تھے۔ اس بیعت میں شامل صحابہ کرام کے تعلق سے حضرت جابر کی صحیح حدیث ہے: ” لا يدخل النار أحد ممن بايع تحت الشجرة”۔ صحیح مسلم میں ام مبشر کی روایت ہے کہ: "لا يدخل النار ان شاء الله من أصحاب الشجرة أحد الذين بايعوا تحتها”. امام نووی فرماتے ہیں کہ قال العلماء معناه لا يدخلها أحد منهم قطعا وانما قال ان شاء الله للتبرك لا للشك۔ ان احادیث کی روشنی میں بیعت رضوان میں شامل صحابہ کرام کا نہ صرف یہ کہ جنت میں داخلہ یقینی ہے، بلکہ جہنم میں نہ جانا بھی یقینی ہے۔ لہذا اگر ابو الغادیہ بیعت رضوان میں شامل تھے تو جہنمی نہیں ہیں اور اگر جہنمی ہیں تو بیعت رضوان میں شامل نہیں تھے۔ لہذا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ابو الغادیہ کے بارے میں صحبت رسول کا دعوی کتنا درست ہے۔

ابن حجر عسقلانی نے الاصابہ (1/60) میں صحابیت کے ثبوت کے لیے پانچ ذرائع لکھے ہیں:
1: تواتر سے صحابیت کا ثبوت ہو
2- استفاضہ اور شہرت بنیاد ہو
3- کسی صحابی سے ثابت ہو کہ فلاں صحابی ہے
4- کسی تابعی کا قول ہو کہ فلاں صحابی ہے
5- کوئی خود صحابیت کا دعوی کرے۔ اس کا دعوی قابل قبول ہوگا اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاصر ہو اور عادل بھی ہو۔ (یہاں دو چیزیں ہیں، پہلی چیز تو یہ ہے کہ دعوی صحیح سنت سے ثابت ہو جائے، دوسری چیز یہ ہے کہ دعوی کرنے والا عادل ہو)۔

ابو الغادیہ کا صحابی ہونا نہ تو تواتر سے ثابت ہے، نہ استفاضہ اور شہرت سے ثابت ہے، نہ ان کے بارے میں کسی صحابی کا قول ہے کہ ابو الغادیہ صحابی ہیں، نہی کسی تابعی کا قول ہے کہ ابو الغادیہ صحابی ہیں۔ البتہ ابو الغادیہ خود دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صحابی ہیں، لیکن اگر وہ قاتل عمار ہیں اور اس بنا پر جہنمی ہیں، تو ان کی عدالت کہاں ثابت ہوئی اور ان کے صحابیت کے دعوے کو کیسے قبول کر لیا گیا؟

پھر یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ان کا دعوی صحابیت صحیح سند سے ثابت ہے یا نہیں، تو آئیے ان روایات کا جائزہ لیتے ہیں جو ابو الغادیہ سے مروی ہیں:
1- مسند احمد میں روایت ہے: خرج أبو الغادية وحبيب بن الحارث وأم الغادية مهاجرين إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاسلموا فقالت المرأة أوصني يا رسول الله قال إياك وما يسوء الأذن.
اس روایت میں ابو الغادیہ کا ہجرت کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا مذکور ہے، روایت کا مدار  عاص بن عمرو طفاوی پر ہے جو مجہول ہیں۔ مسند احمد کے حاشیے پر لکھا ہے اسنادہ ضعیف۔

2- مرثد بن عامر الهنائي عن كلثوم بن جبر كنا بواسط القصب… إذ جاء آذن القوم فقال إن قاتل عمار بالباب، فدخل وسلم ثم قال لقد أدركت النبي صلى الله عليه وسلم و إني لانفع أهلي و أرد عليهم الغنم.. (الاحاد والمثاني لابن ابي عاصم 2(209) مرثد بن عامر مجهول ہیں اور یہی مدار سند ہیں۔

3- عن ابن عون عن كلثوم بن جبر قال: كنا بواسط القصب عند عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر قال فإذا عنده رجل يقال له أبو الغادية، وذكر النبي صلى الله عليه وسلم وذكر هذا الحديث لا ترجعوا بعدي كفارا.
اس روایت کی سند صحیح ہے لیکن ابو الغادیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کا دعوی نہیں کر رہے ہیں۔ یہ اہم کیوں ہے اس کی وجہ آگے آرہی ہے۔ اس روایت کو ابن حجر عسقلانی نے تعجیل المنفعہ میں سماع کے دعوے کے ساتھ  ذکر کیا ہے، لیکن پوری روایت بلا سند نقل کی ہے۔

4- عن الهيثم بن حميد حدثنا حفص بن غيلان عن حيان بن حجر عن أبي غادية المزني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سيكون بعدي فتن شداد خير الناس فيها مسلموا أهل البوادي.
(الطبراني في المعجم الكبير( 22/365)
اس روایت کا مدار ہیثم بن حمید ہیں اور وہ ضعیف راوی ہیں
البانی نے سلسلہ احادیث ضعیفہ میں اس روایت کو ذکر کیا ہے۔

5- عن مساور بن شهاب حدثني أبي عن أبيه مسرور بن مساور عن جده سعد بن أبي الغادية عن أبيه قال فقد النبي صلى الله عليه وسلم أبا الغادية في الصلاة فإذا به قد أقبل فقال ما خلفك عن الصلاة يا ابا الغادية.  (فوائد تمام 1/221)
ابن عساکر نے بھی اس روایت کو لیا ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ غريب لم أكتبه إلا من هذا الوجه. مساور بن شہاب مجہول ہیں اگرچہ یہاں ابو الغادیہ صحبت کا دعوی کررہے ہیں۔

6- روى ابن منده في المعرفة من طريق مسلم بن ابراهيم عن ربيعة بن كلثوم عن أبيه قال كنت بواسط القصب عند عبد الاعلى بن عبد الله إذ قال الآذن هذا ابو غادية فدخل فلما دخل قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم بيميني قلت بيمينك؟ قال بيميني. توضیح المشتبہ ( 6/109)

اس روایت میں ابوغادیہ کا دعوی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔ اسی روایت کی بنیاد پر ان کے بارے میں یہ مشہور ہوا کہ وہ بیعت رضوان میں شامل تھے۔ اس روایت کا مدار ربیعہ بن کلثوم ہیں، جن کے بارے میں اگرچہ نسائی نے لیس بالقوی کہا ہے لیکن ابن حجر نے ان کو صدوق يهم لکھا ہے۔

ابن حجر اگر کسی راوی کے بارے میں صدوق یہم کے الفاظ کہیں تو وہ حدیث اس وقت حسن ہوگی اگر ائمہ حدیث میں سے کسی نے اس پر تنقید نہ کی ہو یا اس راوی کی کسی دوسری سند سے متابعت ہو رہی ہو۔ اس روایت پر اگرچہ ائمہ حدیث میں سے کسی نے تنقید نہیں کی ہے لیکن ربیعہ تنہا ان الفاظ کو روایت کرتے ہیں۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ بھی نہیں تھا، لیکن کبار محدثین کے مندرجہ ذیل اقوال کی وجہ سے ربیعہ کے وہم سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔

ابن حبان کے نزدیک ابو الغادیہ تابعی ہیں اور مراسیل روایت کرتے ہیں۔ لہذا اگر ابو غادیہ صرف قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا ذكر النبي صلى الله عليه وسلم کہیں تو وہ روایت مرسل ہوسکتی ہے۔ (اوپر ہم نے ذکر کیا تھا کہ اس کی وجہ آگے آرہی ہے)

ابن عساکر تاریخ دمشق میں لکھتے ہیں کہ: ذكره أبو زرعة في الصحابة ثم أعاد ذكره في التابعين.

ابن سمیع نے ابو الغادیہ المزنی کا طبقات التابعین میں تذکرہ کیا ہے

ابن کثیر البدایہ والنہایہ میں لکھتے ہیں: وكان الذي تولى قتله رجل يقال له أبو الغادية، رجل من أفناد الناس (أي الأخلاط لا يدري من أي قبيلة هم) وقيل إنه صحابي.
ابن کثیر ابوالغادیہ کے بارے میں  دعوائے صحابیت سے واقف تھے اسی لیے قیل کہہ کر اس کا تذکرہ کیا ہے، لیکن انہوں نے جس تحقیر آمیز انداز میں ابو الغادیہ کا ذکر کیا ہے اس کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔

حافظ منذری نے تو پورا منظر نامہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ وہ عبد اللہ بن یزید الخطمی کا تعارف کراتے ہوے کہتے ہیں له صحبة سكن الكوفة وكان أميرا بها كنيته أبو الغادية. (مختصر سنن أبي داود للمنذري 2/174)

ابو نعیم نے معرفہ الصحابہ میں اور بغوی نے معجم الصحابہ میں عبداللہ الخطمی (جن کی کنیت منذری ابو الغادیہ لکھ رہے ہیں) کے بارے میں صراحت کی ہے کہ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے اور حضرت معاویہ کے قریبی لوگوں میں شامل تھے اور انھی کی طرف سے کوفہ کے امیر رہے۔ جب کہ قاتل عمار ابو الغادیہ کا نام تمام محدثین نے یسار بن سبع لکھا ہے۔ اس لئے اب یہ طے کرنا مشکل ہے کہ حضرت عمار کو قتل کرنے والے ابو الغادیہ صحابی رسول تھے یا نہیں۔

ابوالغادیہ کے دعوی صحابیت سے قطع نظر اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ وہی قاتل عمار ہیں تو یہ فیصلہ کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ ابن عبد البر الاستیعاب میں لکھتے ہیں: روى الشعبي عن الاحنف أن أبا الغادية الفزاري طعن عمارا وابن جزء السكسكي اجتز رأسه. اس روایت کے مطابق ابوالغادیہ نے حضرت عمار کے نیزہ ضرور مارا لیکن ان کو قتل ابن جزء سکسکی نے کیا تھا۔

طبقات میں ابن سعد نے لکھا ہے کہ ابو الغادیہ  کہتے ہیں حضرت عمار نے میدان میں دعوت مبارزت دی تو ایک سکسکی آیا دونوں کی تلواریں لڑیں اور عمار نے اس کا قتل کردیا، پھر عمار نے مبارزت کی دعوت دی تو میں آگے بڑھا ہماری تلواریں آپس میں لڑیں میں نے اپنی تلوار سے وار کیا اور وہ ٹھنڈے ہوگئے۔

اب یہ فیصلہ کیسے ہوگا کہ عمار کو ٹھنڈا کرنے والا سکسکی تھا یا وہ پہلے ہی قتل ہو چکا تھا اور ابو الغادیہ نے حضرت عمار کو ٹھنڈا کیا؟

ابو عبداللہ المالقی اپنی کتاب التمهيد والبيان في مقتل الشهيد عثمان میں لکھتے ہیں: قیل: ضربه مروان على ركبته.  (229) اس روایت کے مطابق مروان  نامی شخص کا بھی قاتلین عمار کی فہرست میں اضافہ ہوگیا۔ لیکن یہ فہرست ابھی طویل ہے، اس میں مزید نام جڑنے ہیں۔ اہل سنت کے یہاں قاتلین عمار میں نام کچھ اس طرح آتے ہیں:
ابوالغادیہ المزنی اور ابن حوی سکسکی۔ (طبقات)
ابو الغازیہ اور ابن حوی (ابن اثیر فی الکامل)
عقبہ بن عامر، عمر بن حارث شریک بن سلمہ اور ابوالغادیہ المزنی (حاکم فی المستدرک)

شیعہ مصنفین کے نزدیک قاتلین عمار کے نام اس طرح ہیں:
ابو العادیہ الفزاری، ابن جوین سکسکی (مروج الذہب)
ابو العادیہ العاملی، ابن جوین سکسکی۔ (مروج الذہب)
ابو العادیہ الفزاری، ابن جون (وقعة صفين لنصر بن مزاحم)

ان تمام تفصیلات کی روشنی میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ابو الغادیہ یسار بن سبع کا ابن حجر عسقلانی کے منہج کے مطابق صحابی ہونا طے نہیں ہے، بلکہ متقدمین کی ایک تعداد ان کو تابعی مانتی ہے۔ نیز یہ بھی طے نہیں ہے کہ ابو الغادیہ (جن کی اہل سنت کی کتابوں میں دو نسبتیں ہیں: جہنی اور مزنی ) ہی قاتل عمار ہیں۔ اس لیے یقین کے ساتھ یہ کہنا کہ کہ ابو الغادیہ الجہنی جو کہ صحابی رسول ہیں اور بیعت رضوان میں شریک تھے وہی قاتل عمار ہیں اس ناچیز کی رائے میں درست نہیں ہے۔

میرے سابقہ مضمون کا جواب لکھنے والے شخص نے دو قسطوں میں اپنی تحریر لکھی ہے۔ میری یہ تحریر اس طبقے کے اس دعوے کے جواب میں ہے کہ ابو الغادیہ قاتل عمار صحابی ہی تھے۔ بقیہ پوائنٹس کے جوابات بھی وقتا فوقتاً دیے جاتے رہیں گے۔ خصوصا دوسری قسط میں جو شگوفے چھوڑے گئے ہیں وہ واقعی حیرت انگیز بھی ہیں اور مضحکہ خیز بھی، وقت نے اجازت دی تو ان شاءاللہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کے تمام چور دروازوں کو بند کیا جائے گا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*