قتیل شفائی:ایوانِ ادب سے فلم جگت تک-ضیافاروقی

قتیل شفائی کی شاعری سے میں اپنی اوائل عمری ہی سے متاثر رہا ہوں ۔ان کا کلام اس وقت کے مقبول رسائل میں بہت اہتمام سے شائع ہوتا تھا یا پھروہ فلمی نغمے تھے جو سماعتوں کو مہکاتے رہتے تھے لیکن ان کی شخصیت کے بہت سے اوراق اس وقت میری نظر میں آئے جب ان کی شاگردہ رشمی بادشاہ سے میری ملاقات ہوئی۔رشمی کے پاس ان کا بہت سا کلام ہی نہیں یادوں کا ایک بڑا ذخیرہ بھی موجود تھا جس سے میں مستفید ہوا ، یہی نہیں بلکہ پچھلی صدی کے آخری دنوں میں دو مرتبہ رشمی کے توسط سےٹیلی فون پر میری گفتگو بھی قتیل شفائی سے ہوئی ۔اس وقت وہ لاہور میں تھے اور بہت بیمار تھے لیکن دونوں مرتبہ وہ بڑی اپنائیت سے دیرتک بات کرتے رہے اور میں اپنے محبوب شاعر کی دلچسپ گفتگو سے سرشار ہوتا رہا ۔ان کے انتقال کے بعد میں نےایک مختصر سا مضمون خراج عقیدت کے طورپر لکھا تھا جو آج اتفاق سے پرانے کاغذات میں نکل آیا ۔ یادرفتگاں کے تحت ہدیۂ ناظرین ہےـ

بیسویں صدی کے ربع ثانی میں جب عالمی سطح پر زندگی کے نئے زاویہ ہاے نظر متعارف ہو ئے اور ان کا اثر فنون لطیفہ پر مختلف تحریکوں اور فکری رویوں کی صورت میں ظاہر ہونے لگا تو اردو شعر و ادب بھی اس سے متاثر ہوا ۔دوسری طرف برصغیر میں ظل ال٘ہیوں کے زوال کے سبب وہ درباری ادب جو کسی حد تک ذریعۂ معاش بھی تھا اس پر بھی زوال آیا ۔ ایسے میں اردو شاعروں اور ادیبوں کے سامنے جہاں بدلتی ہوئی ادبی اور تہذیبی قدریں تھیں،وہیں معاشی مسائل کا سامنا بھی تھا اسی زمانےمیں جب بولتی فلموں کو عروج حاصل ہواتو اردو شاعروں اور ادیبوں کا ایک بڑا طبقہ معاشی اور ذہنی طور پر اس سے متعلق ہو گیا ۔سلولائڈ کی اس دنیا میں وہ شعرا بھی آئے جو لکھنؤ اسکول کے نمائندے تھے اور وہ بھی جو ادبستان دہلی کے علم بردار تھے ۔ اشتراکیت کے بڑھتے اثرات نے اردو والوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ چنانچہ کچھ شاعر تو سنجیدگی کے ساتھ ترقی پسند تحریک کا علم بلند کئے ہوئے تھے اور کچھ محض ہوا کا رخ دیکھ کر اس کارواں کے ساتھ تھے ۔مجھے نہیں معلوم کہ صوبہ سرحد کے ہری پور ہزارہ کا نوجوان اورنگ زیب خاں جب 1946 میں لاہور آکر ادبی دنیا میں قتیل شفائی کے نام سے متعارف ہوا تو وہ کس حد تک ترقی پسند تحریک سے متاثر تھا مگر اس کی بیباک طبیعت اور مارکسی تحریک کے مبلغ شعرا کی رفاقت اس بات کی غماز ہے کہ یہ شاعر فطرتاً ترقی پسند نظریات کا حامی ضرور تھا اور محتاط انداز میں ہی سہی جبر اور ظلم کے خلاف اس نے آواز بلند کی:

زندگی بھوک مٹائے کہ ہوا سے کھیلے
مطمئن پیٹ نہیں ہے تو وفا کیسی ہے

کون اس دیس میں دے گا ہمیں انصاف کی بھیک
جس میں خونخوار درندوں کی شہنشاہی ہے

جس میں غلہ کے نگہباں ہیں وہ گیدڑ جن سے
قحط و افلاس کے بھوتوں نے اماں چاہی ہے

مندرجہ حوالوں کے باوجود مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ترقی پسندی کے حوالے سے قتیل کے یہاں وہ شدت یا لہجے کی وہ گھن گرج نہیں ملتی جو سردار جعفری ،مخدوم محی الدین اور فیض وغیرہ کی شناخت ہے ۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ قتیل بنیادی طور پر جمالیات کے شاعر ہیں چنانچہ اس میدان میں وہ قیوم نظر ، ممتاز صدیقی ،جاں نثار اختر اور میرا جی کے زیادہ نزدیک نظر آتے ہیں ۔ دراصل ان کی صلح کل طبیعت ، ان کا رومان پسند مزاج اور سب سے بڑھ کر شاعری میں غنائیت اور موسیقیت کی پاسداری نے ان کو "حلقۂ ارباب ذوق ” کے زیادہ قریب رکھا۔
انھوں نے اپنی نوجوانی میں ہی یعنی ۱۹۴۷ میں ایک ہفتہ وار فلمی میگزین "اداکار” کی ادارتی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں اور اسی زمانے میں انھوں نے پہلی بار بحیثیت نغمہ نگار ایک فلم "ادھورے خواب ” کےلئے دو گانے بھی ریکارڈ کرائے یہ فلم لاہور کے محبوب اختر امان اللہ خاں بنارہے تھے جو ۱۹۴۷ میں تقسیم وطن کے ہنگامے میں کہیں گم ہوگئی مگر قتیل شفائی گم نہیں ہوئے اور اس میدان میں ان کی پیش رفت جاری رہی ،چنانچہ آگے چل کر انھوں نے برصغیر کی فلم نگری کو وہ بہترین نغمے دیے جو آج بھی اپنی دلفریبی ،اپنی نغمگی اور اپنی معنی آفرینی کے سبب تروتازہ ہیں ۔ ان کا تمام شعری سرمایہ خواہ وہ ادب لطیف کے حوالے سے لکھا گیا ہو یا کسی فلم کی سچویشن کے دباؤ میں زبان و ادب کے معیار کو کہیں مجروح نہیں کرتا ہے ۔ان کے کلام میں موضوع کا تنوع بھی ہے اور ہمہ گیری بھی ۔ یہ ان خوش نصیب شاعروں میں ہیں جن کا کلام اگر ایک طرف عوام الناس کے دلوں کی دھڑکن بنا رہا تو دوسری طرف خواص کی محفلوں میں بھی باوقار رہا۔
قتیل شفائی کے کلام کو ہمہ گیر شہرت دینے میں سازوآواز کا ہاتھ بھی بہت رہا ہے ۔ان کے کلام کا ایک بڑا حصہ اپنے وقت کے مشاہیر اہل فن کے لبوں کی زینت بنا اور آفاقیت حاصل کی اور آج بھی ان کے اشعار کسی مغنی کےہونٹوں کا لمس پا کر محفل کو مسحور کر دیتے ہیں:

تمھاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے
چلو اچھا ہوا کام آگئی دیوانگی اپنی
وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

گرمیِ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

جب بھی آتا ہے ترا نام مرے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے تھے

اس موقع پر راقم الحروف کو وہ اشعار بھی یاد آرہے ہیں جن کی حیثیت اردو کے ایوان سخن میں گل سرسبد کی طرح ہے:
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے ہمیں
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے ہمیں

نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں
ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیں

رقص کرنے کا جو موقع ملا دریاؤں میں
ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں

کیا ملے گا تجھے بکھرے ہوئے خوابوں کے سوا
ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے

گرتے ہیں سمندر میں بہت شوق سے دریا
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

کیوں بخش دیا مجھ سے گنہگار کو مولا
منصف تو کسی سے بھی رعایت نہیں کرتا

غزلوں کے علاوہ قتیل شفائی کے گیت بھی الفاظ کے دروبست اور غنائیت کے سبب بہت مقبول ہوئے اورآج بھی ان کے گیتوں کا مداح ایک زمانہ ہے:

کچھ مجھ پہ نیا جوبن بھی تھا
کچھ پیار کا پاگل پن بھی تھا
کبھی پلک پلک مری تیر بنی
کبھی زلف مری زنجیر بنی
لیا دل ساجن کا جیت
وہ چھیڑے پائلیا نے گیت
کہ گھنگھرو ٹوٹ گئے
قتیل شفائی ان خوش نصیبوں میں ہیں جن کو بھارت اور پاکستان دونوں جگہ بڑے بڑے اعزازات دیے گئے ۔ان کے لاتعداد شعری مجموعے شائع ہوئے ۔انگنت ریکارڈ تیار ہوئے ۔ خود ان کی شخصیت اور فن پر کئی کتابیں لکھی گئیں اور بازار ادب میں ہاتھوں ہاتھ لی گئیں ۔ فراق گورکھ پوری نے کتنی سچی بات کہی ہے کہ اگر کوئی شاعر مرنے سے پیشتر سو(100) ایسے اشعار ادب کو دے جائے جو کبھی باسی نہ ہوں تو اس نے دنیائے ادب کو بہت بڑی نعمت دے ددی۔ قتیل اگرچہ ۱۱ جولائی ۲۰۰۱ کو اس عالم فانی سے عالم جاودانی کی طرف انتقال کر گئے لیکن اپنے پیچھے ایسا شعری سرمایہ چھوڑ گئے ہیں، جو اس وقت تک مہکتا رہے گا جب تک انسان میں حس لطیف موجود ہے:

درو دیوار پہ حسرت سی برستی ہے قتیل
جانے کس دیس گئے پیار نبھانے والے

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*