دہلی فسادات: قتل اور فسادات کے الزام میں گرفتار 3 افراد کودہلی ہائی کورٹ سے ملی ضمانت

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے گذشتہ سال شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران پتھراؤ کرنے والے غیر قانونی طور پر جمع ہونے والے ہجوم کا حصہ بنے تین افراد کوایک شخص کے قتل اور اس کے بیٹے کو زخمی کرنے کے معاملے میں ضمانت منظور کرلی ہے۔ہائی کورٹ نے ملزم شبیر علی، مہتاب اور رئیس احمد میں سے ہر ایک کو25 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کی ضمانت پر رہا کرنے کی ہدایت دی۔ جسٹس مکتا گپتا نے کہا کہ ضمانت درخواست میں مسئلہ یہ تھاکہ کیا درخواست گزار غیر قانونی طورپرجمع اس بھیڑکاحصہ تھا، جنہوں نے فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی کی برہم پوری گلی میں نتن کمار اور اس کے والد ونود کمار کو نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے میں نتن زخمی ہوئے تھے اور اس کے والد کی موت ہوگئی تھی۔عدالت نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ واقعے کے دن 11 بجے کے بعد ملزمان گلی نمبر ایک اکھاڑے والی گلی میں جمع ہجوم میں موجود تھے۔ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ تینوں ملزمان چھڑیوں، لاٹھیوں، پتھروں، تلواروں، چھریوں سے لیس ہجوم میں موجود ان چند افراد میں شامل تھے جنہوں نے رات کے قریب 10.30 بجے گلی نمبر ایک برہم پوری میں پتھراؤ کیا، جس کی وجہ سے نتن زخمی ہوا۔ساتھ ہی اس کے والد ونود کمار کی موت ہوگئی۔ عدالت اس بنیاد پر درخواست گزاروں کو ضمانت منظور کرلی۔شبیر علی کی جانب سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ پریتیش سبروال نے بتایا کہ استغاثہ کے مطابق جیکٹ پہنے ہوئے علی کو صرف دو سیکنڈ کے لیے  دیکھا گیا جب وہ گلی سے باہر آرہا تھا۔ انہوں نے (استغاثہ) یہ بھی اعتراف کیا کہ علی کے پاس اسلحہ نہیں تھا اور جیکٹ میں موجود شخص ملزم سے مماثلت بھی نہیں رکھتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے کسی عینی شاہد نے یہ نہیں بتایا کہ علی بھیڑ میں شامل تھا۔ برہم پوری گلی نمبر ایک میں ایک شخص زخمی اور ایک کی موت ہوگئی۔ دیگر دو ملزمان کے لئے پیش ہونے والے وکیل نے بھی بتایا کہ دونوں ملزمان بھی 24 فروری 2020 کی شب واقعہ کی اطلاع ملنے پر اکھاڑولی گلی کے لوگوں کے ساتھ وہاں ایک ہی سڑک کے کنارے کھڑے تھے لیکن یہ لوگ ونود اور نتن پر حملہ کرنے والے ہجوم میں شامل نہیں تھے۔