قاسم رسول الیاس صاحب! ایسے ہم عمر خالد کی لڑائی کیسے لڑ سکیں گے؟ ـ شکیل رشید 

 

ملی قائدین کہلانے والے ان لیڈروں کا رویہ، جو اس خطاب پر فخر سے سینہ پھلا لیتے ہیں، ہمیشہ ہی قابل افسوس رہا ہے ۔ چاہے سیاسی لیڈر ہوں یا مذہبی اور سماجی رہنما یہ ان افراد کے جذبے کی قطعی قدر نہیں کرتے جو ان کے بارے میں نہ جانے کیا کیا سوچ کر انہیں سر پر بٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے ۔ کچھ پہلے میرا ایک ملی قائد کے ہمراہ مہاراشٹر کے ایک شہر جانا ہوا تھا، ان کی جماعت کا ایک بڑا جلسہ عام تھا ۔ ان سے مجھے انٹرویو کرنا تھالیکن انہیں یہ لگ رہا تھا کہ وہ مجھ پر احسان کر رہے ہیں، حالانکہ وہ اپنے حلقوں میں اردو اخبارات پر نکتہ چینی کرتے رہے تھے کہ اردو والے ان کی خبریں شائع نہیں کرتے ۔ یہ شکایت ہر ملی قائد کو ہے باوجود اس کے کہ اردو اخبارات ہی ان کی خبریں زیادہ بلکہ ہر روز شائع کرتے ہیں ۔ ہوا یہ کہ ان کے والد محترم کا کوئی چاہنے والا اس جگہ اور اس کمرے میں پہنچ گیا جہاں وہ آرام فرما تھے اور مارے محبت کے ان کے پیر دبانے کی کوشش کی، اس کے نتیجے میں اس کو انہوں نے سب کے سامنے بے عزت کردیا ۔ ایک صاحب تو ایسے ہیں کہ وقت دے کر بھول جاتے ہیں کہ وقت دیا ہے ۔ ملی قائدین میں ایک بڑی بیماری فون نہ اٹھانے کی ہے، اور فون اگر اٹھتا بھی ہے تو کوئی اور اٹھاتا ہے اور جواب ملتا ہے کہ صاحب بعد میں بات کریں گے ۔ ایک صاحب سے بلکہ ملی قائد سے میرا ابھی دو روز قبل پالا پڑا اور میں نے کان پکڑ لیے کہ اب ان سے فون تو دور سامنے موجود رہے تب بھی بات نہیں کروں گا ۔ میں ان کا ذکر بہت افسوس کے ساتھ کر رہا ہوں لیکن ذکر ضروری ہے ۔ میں بات قاسم رسول الیاس کی کر رہا ہوں جو جماعت اسلامی میں رہے اب مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن ہیں، ان کے صاحبزادے عمر خالد کو ابھی ابھی دہلی فسادات کے سلسلے میں یو اے پی اے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ عمر خالد کو جلد رہائی ملے، آمین ۔ گرفتاری کے بعد قاسم رسول الیاس کے چند بیانات انگریزی میڈیا میں دیکھے تو یہ طے کیا کہ اردو اخبار کے لیے ان سے راست بات کی جائے ۔ چونکہ میرے پاس ان کا موبائل فون نمبر نہیں تھا اس لیے اپنے ایک صحافی دوست سے رابطہ کیا کہ مجھے قاسم رسول الیاس کا موبائل فون نمبر درکار ہے، وہ بولے کہ نمبر دے دیتا ہوں مگر وہ فون اٹھاتے نہیں ہیں ۔ میں نے کہا کہ نمبر دے دیں نہیں اٹھائیں گے تو واٹس ایپ پر بات ہو جائے گی ۔ نمبر ملا، لگایا، نہیں اٹھایا گیا ۔ کئی بار لگایا نہیں اٹھایا گیا، پھر یہ سوچ کر کہ شاید کسی وکیل کے ساتھ بیٹھے ہوں واٹس ایپ کیا ۔

السلام علیکم

آپ کے صاحبزادے عمر خالد کی گرفتاری افسوسناک بھی ہے اور تشویش ناک بھی کیونکہ اس سے فاسشت عناصر کے مذموم عزائم کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے ۔ اس لڑائی میں، میں آپ کے ساتھ ہوں۔

اس موضوع پر میں ایک اسٹوری کر رہا ہوں اس کے لیے چند سوالات ہیں

1۔عمر خالد، دیگر طلبا اور حقوقِ انسانی کے علمبرداروں کو گرفتار کرکے مودی سرکار کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟

2۔کیا دہلی فسادات کے سازشیوں کو بچانے کے لیے یہ سب کیا جارہا ہے؟

3۔کیا سی اے اے مخالفین کو ڈرانے اور دھمکانے کی یہ کوشش ہے اور اگر ہے تو کیا آئندہ سی اے اے کے خلاف تحریک نہیں چل سکے گی؟یہ حکومت کس حد تک جا سکتی ہے؟

4۔ عمر خالد پر کیا اور کس طرح کا دباؤ ڈالا جا سکتا ہے؟ایک باپ کی حیثیت سے اس گرفتاری پر آپ کیا کہیں گے؟

5۔عمر خالد کی والدہ کا کیا ردعمل ہے؟

والسلام

شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

اس واٹس ایپ کا پورے دن جواب نہیں آیا، میں نے ان کے ایک شناسا کو فون کیا انہوں نے میری بات ان تک پہنچائی، ان کا جوابی فون آیا اور انہوں نے وعدہ کیا کہ مغرب تک جواب دیتا ہوں لیکن دو دن گزر گئے نہ ان کے لیے مغرب ہوئی اور نہ ہی انہوں نے میرے مسلسل بجتے فون کو ریسیو کیا۔ ان سے اور ان ہی جیسے دیگر ملی قائدین سے سوال ہے کہ اگر اردو اخبارات کو نظر انداز کر کے، اس رونے کے ساتھ کہ، اردو والے ہماری خبریں نہیں شائع کرتے انگریزی میڈیا سے ہی آپ چپکے رہیں گے تو اردو والے کیسے ملی مسائل اورملی معاملات میں آپ کے ساتھ کھڑے ہو سکیں گے؟ قاسم رسول الیاس آپ کے ساتھ مل کر ہم کیسے عمر خالد اور آئین، جمہوریت و سیکولرزم کی جنگ لڑ سکیں گے؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*