کہنہ مشق شاعر قمر سنبھلی کا انتقال

 

سنبھل(پریس ریلیز):تاریخی شہرسنبھل سے تعلق رکھنے والے کہنہ مشق شاعر جناب قرسنبھلی کا ۱۴ اگست ۲۰۲۱ بروز سنیچر رات گیارہ بے لکھنو کیپ ویل روڈ پر واقع مکان میں انتقال ہو گیا۔ ،ان کے انتقال کی خبر دنیائے شعر وفن کے لئے بڑی غمناک ثابت ہوئی ،ان کی عمر۸۰ سال تھی ان کی پیدائش ۱۹۴۲ء میں ہوئی مشہور شاعرظاہر حیدرآبادی سے ان کوشعری تلمذ حاصل تھا،ان کے والد قاری حکیم الدین سنبھلی تھے، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سابق شخ التفسیر مولانا محمد برهان الدین سنبھلی کے یہ برادرخورد تھے ، ان کی مطبوعہ تصنیفات میں آواز کالمس ، پھول آنگن کے ، جز میرے خواب کے، روشن روشن حرف ،ادبی شخصیات میری نظر میں ہیں ، اور غیر مطبوعہ دس تصنیفات ہیں ، انہوں نے اپنے پیچھے تین صاحبزادیاں چھوڑی ہیں
، بڑی صاحبزادی مولانا محمد نعمان الدین ندوی ( مدیر معهد الدراسات العلمیہ ندوۃ العلماء) کومنسوب ہیں ان کی نماز جناز ہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے مہتم مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی نے احاطہ دار العلوم میں پڑھائی ، اور ڈالی گنج قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ انھوں نے مولانا نعمان الدین ندوی اور اہل خانہ سے خصوصی تعزیت بھی کی۔ شر کا ئےجنازہ میں ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولاناسید محمد رابع ندوی کے علاوہ اہل تعلق کی ایک کثیر تعدادموجوتھی ۔