قلم توڑ دیے جائیں گے اور زبانیں کھینچ لی جائیں گی

 

محمد شعیب رضا نظامی فیضی

ایڈیٹر: ہماری آواز، گولا بازار گورکھپور

9792125987

عالمی پیمانے پر آج کے ناگفتہ بہ حالات سے کون بے خبر ہے؟ گاؤں، شہر، ضلع، صوبہ اور ملک کی بات ہی درکنار نصف دنیا قرنطینہ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ سماجی دوری کی بات بام عروج پر ہے، ہر طرف بس یہی نعرہ ہے کہ سوشل ڈسٹینسنگ برقرار رکھی جائے، گھر سے باہر نہ نکلا جائے، اسی پریشانی کے عالم میں غریبوں کی مدد کی جائے، بیماروں کی صرف بیمار پرسی نہیں بلکہ بہترین سہولت کے ساتھ علاج ومعالجہ کی راہ ہموار کی جائے۔ یہ نعرے یا جملہ بازی پوری دنیا کر رہی ہے، ہمارا ملک ہندوستان بھی کچھ پیچھے نہیں، بارہاں ملک کے وزیر اعظم صاحب یہی بات دوہرا رہے ہیں، ٹیلی ویژن اور سماجی رابطوں سے اسی بات کی دہائی دی جارہی ہےمگ ملک میں کچھ شدت پسند، فرقہ پرست تنظیموں نے ملک کی انتظامیہ پر کچھ اس قدر پکڑ بنا رکھی ہے کہ انتظامیہ کا ایک بڑا حصہ ان کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر یوں ناچ رہا ہے کہ سیکڑوں مظلوم بے دریغ اس کی چپیٹ میں آرہے ہیں۔ اور سوے اتفاق کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے موجودہ حکمراں بھی تقریبا تقریبا سب ایسی تنظیموں کے سر گرم عمل رکن ہیں یا رہ چکے ہیں اور آج حق نمک ادا کر رہے ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ میری یہ حقیقت بیانی غیروں کو چھوڑئے بہت سارے اپنوں کے حلق تلے نہ اترے کہ تلخ اور شدید تلخ ہے مگر ان تکلیفوں سے تلخ نہیں جو ملک کی ایک بیٹی جو حالت حمل میں بھی جیل میں رہ کربرداشت کر رہی ہے۔ ان آنسوؤں سے تلخ نہیں جو ملک کی بے شمار مائیں اس وبائی گھڑی میں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بچھڑتے دیکھ ضبط نہیں کر پا رہیں۔ ان جذبوں کا گلا گھوٹنے سے تلخ نہیں جو ملک کی آن، بان، شان اور قانون ودستور کی حفاظت میں بر سر پیکار رہتے ہیں۔ ان امیدوں کو ملیا میٹ کرنے سے تلخ نہیں جس نے ملک کے غیور شہریوں کو اقلیتی طبقہ کے قدم بقدم کردیا تھا کہ شاید حکومت کو (سی۔اے۔اے۔ وغیرہ معاملات( میں اپنی چوک کا احساس ہوجائے۔ ان بھروسوں کو پیروں تلے کچلنے سے تلخ نہیں جو عوام ملک کی عدلیہ پر آنکھ موند کر کرتی ہے، کہ شاید عدلیہ درمیان میں پڑ کر ملک کی آئین اور جمہوریت کی لاج رکھے۔

اس وبائی ماحول میں جب کہ جیلوں سے قیدیوں کو باہر نکالنے کی بات ہورہی ہے کہ وہاں اکٹھے رہے تو کورونا مہا ماری کا شکار ہونے کا خطرہ ہے۔ مگر گزشتہ دنوں سے جس طرح دہلی انتظامیہ نے سی۔اے۔اے۔، این۔آر۔سی۔، این۔پی۔آر۔ مخالف احتجاج کرنے والے نوجوانوں اور بزرگ شہریوں سمیت ملک کی حاملہ بیٹیوں کو بھی اٹھا اٹھا کر جیل میں ڈال رہی ہے وہ ناقابل یقین اور برداشت سے باہر ہے۔ بات ان دنوں کی ہے جب ملک میں پاس ہوئے کالے قانون کی مخالفت میں ملک کی تاریخ نے ایک جن سیلاب دیکھا، ملک کا بہت بڑا حصہ اس کالے قانون کو واپس لینے کی ضد میں سڑکوں پر آگیا، مظاہر بھی پر امن تھا، حکومت کے دانت کھٹے ہونے لگے، اسے کچھ سوجھ نہیں رہا تھا تب ملک کی سب سے بڑی فرقہ پرست اور اگر یوں کہیں کہ دہشت پسند تنظیم نے اپنے آدمیوں کو میدان میں اتارا؛ پہلے تو جگہ جگہ ان کالے قانون کی حمایت میں ریلیاں نکالی گئیں پھر منصوبہ بندی کے تحت ان جگہوں پر پتھر بازی، فائرنگ اور آگ زنی کرکے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ کالے قانون مخالفین غیر امن طریقے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا یہ منصوبہ کامیاب بھی ہوگیا کیوں دیگر شعبہ جات کی طرح میڈیا میں بھی اکثریت اسی تنظیم کے پروردہ لوگوں کی تھی، تو میڈیا نے بھی نمک،مرچ لگا کر خبریں پھیلانی شروع کردی اور بجاے ان لوگوں کو غلط دکھانے کے جنھوں نے دنگے اور فساد کروائے انھیں ظالم اور متشدد دکھانے لگی جنھوں پر امن طریقے سے اپنا احتجاج درج کروایا اور ملک کی شان ترنگا اور دستور کی کتاب ہاتھ میں لے کر اپنے حقوق کی بحالی کے لیے 100 دنوں تک مظاہرہ کیا۔

پھر جب ان لوگوں کی گرفتاری کی مانگ اٹھنے لگی جنھوں نے دنگا، فساد کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا، حتی کہ عدالت عظمیٰ کے جج نے بھی یہ مانگ کی۔ جس پر حکومت اور انتظامیہ نے یہ جواب دیا کہ ابھی ان کی گرفتاری کا مناسب وقت نہیں ہے۔ تعجب کی بات ہے!!!جن کی وجہ سے ملک میں نفرت کی آگ جل رہی تھی انھیں گرفتار کرنا مناسب نہیں تھا، لیکن ڈاکٹر کفیل جیسے لوگوں کو گرفتار کرنا مناسب تھا؟؟؟ ڈاکٹر صاحب نے جو بیان دیا وہ بھڑکاؤ تھا یا نہیں یہ الگ بات ہے البتہ اتنا ضرور ہے کہ جیسا بیان ڈاکٹر صاحب نے دیا اس سے بھی سخت بیان نشہ اقتدار میں کپل مشرا جیسے کئی لوگوں نے دیا۔ مگر اسی وقت ڈاکٹر کفیل جیسوں کی گرفتاری مناسب تھی اور کپل مشرا جیسوں کی گرفتاری نامناسب تھی؟؟؟

اس قوم کے ساتھ تقدیر نے بھی عجیب مزاق کیا جب اسی درمیان کورونا وائرس نے اپنا پیر جمانا شروع کردیا اور یہ عظیم مظاہرہ لاک ڈاؤن کی نذر ہوگیا، حکومت کو اس سے راحت مل گئی مگر اسے اس بات کا یقین تھا کہ اس مہاماری سے نجات کے بعد اسے ایک بار پھر حق پسندوں کی بے باکی کا سامنا کرناپڑے گا، اس سے یہ مظلوم قوم کے قلم اور زبان سوال ضرور پوچھیں گے، لہذا کچھ ایسا کیا جائے کہ قلم اٹھانے اور زبان کھولنے کی کوئی جرات ہی نہ کرسکے۔ پھر شروع ہوا انتظامیہ کا وہ گھناؤنا کام جس نے ایک اور کالے قانون کا سہارا لے کر ان غیرت وحق پسند لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا۔ جس کی بھینٹ آصف اقبال تنہا جیسے نوجوان جو اس قوم کی مستقبل ہیں، صفورہ زرگر جیسی بیٹیاں جو اس ملک کی ناموس ہیں اور ڈاکٹر ظفرالاسلام جیسے تعلیم یافتہ اور سماجی فلاح وبہبود میں پیش-پیش رہنے والے بزرگ جو اس ملک کے باعزت شہری ہیں۔ انھیں گرفتار کرکے ملک کی تمام اقلیت کو ہٹلر کا تانا شاہی پیغام دے دیا کہ عوام کو اتنا نچوڑو کہ وہ زندہ رہنے کو ہی ترقی سمجھے۔ مطلب کی زبان کھولنے کی کوئی ہمت نہ کرسکے۔

اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ حقوق انسانی ادارے، مسلم تنظیمیں اور اقتدار کی کرسی سے دور دیگر سیاسی پارٹیاں بھی اس مسئلہ پر خاموشی کی نیند سو رہی ہیں۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تووہ دن دور نہیں جب قلم توڑ دیے جائیں گے اور زبانیں کھینچ لی جائیں گی۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)