قلم سچائیاں لکھتے ہوئے کیوں خون روتا ہے

عارفہ مسعود عنبر 

مرادآباد

آج ملک بھر میں جتنی اموات کرونا وائرس کے قہر سے ہو رہی ہیں، اور جتنے افراد کرونا سے متاثر پائے جا رہے ہیں، اور جتنے صحتیاب مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ان سب کی اعداد و شمار سرکاری اداروں میں موجود ہے کثیر تعداد میں ملک کا ذی ہوش طبقہ کرونا سے ہوئ اموات اور متاثرین کی اپ ڈیٹ رکھ رہا ہے لیکن ان افراد کی بھی کیا کوئ فہرست ہے جو اس اچانک ہوئ تالا بندی کے زیر اثر دانے دانے کو محتاج ہو گئے؟ کیا ان لوگوں کا بھی کوئی رجسٹر بنا ہوا ہے جو بھوک سے بے حال ہیں؟کیا ان اشخاص کی بھی تعداد و شمار موجود ہے جو مزدور اور غریب لاچار شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں اور گاؤں میں ان کے اہل خانہ معصوم طفل بھوک اور گھر کی دیگر ضروری اشیاء کے لئے تڑپ رہے ہیں؟اس تالا بندی کے سبب ہوے ان پریشان بدحال لوگوں کا کوئی ڈاٹا کسی کے پاس موجود ہے جو روز کمانے والے مزدور اور غریب لوگ انتہائی کسمپرسی کی حالت سے دوچار ہیں؟ ہزاروں دعوؤں کے باوجود بھی حکومت ان کی خبر گیری اور انہیں تحفظ پہنچانےمیں ناکام ہے؟ اترپردیش کے بدایوں میں تھانہ کنور گرام پہرلاد پور میں شمیم جس نے اپنی زندگی کی صرف 28 بہاریں ہی دیکھی تھیں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتی تھی اس کا شوہر شہر میں یومیہ مزدور تھا اچانک ہوئ تالا بندی کے سبب شوہر شہر میں اور شمیم دو بچوں کے ساتھ گاؤں میں تنہا رہ گی شوہر کے پیسے آنے بند ہو گئے اب گاؤں میں نہ اسکے پاس کوئی کام تھا نہ پیسے ،غریب بچوں کی فاقہ کشی کو دور کرنے کا کیا انتظام کرے، وہ تو احسان ہے اس حکومت کا جس نے راشن کارڈ یافتہ غریبو کو دس کلو گیہوں اور کچھ دالیں تقسیم کرنے کا اعلان کیا غریب کو اس فاقہ کشی میں دس کلو گیہوں سایہ فگن محسوس ہوے اور دو دن سے بھوک سے بےحال بچوں کو گھر چھوڑ کر راشن کی دکان پہنچی دکاندار نے اگلے دن آنے کا فرمان جاری کر کردیا "مرتا کیا نہ کرتا” بھوکی پیاسی اگلے دن دوباہ پہنچی تو دکان دار نے قطار میں کھڑے ہونے کا حکم نامہ جاری کیا دھوپ تیز تھی فاقہ کی مار اور دھوپ کی شدت سے تھوڑی ہی دیر میں شمیم چکر کھا کر بے ہوش ہو گئ اس کے پاس کھڑے لوگ اسپتال لیکر بھاگے لیکن شمیم نے راستے میں ہی دم توڑ دیا ،خبر ملنے پر پولیس اور محکمہ فراہمی کے کارکنان موقع پر پہنچے لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی شمیم دو معصوم بچوں کو چھوڑ کر اس سراے فانی کو الوداع کہ گئ یہ کرب ناک واقعہ رقم کرتے ہوے میری چشم ہی پرنم نہیں قلم بھی خون رو رہا ہے ایسی نہ معلوم کتنی ہی شبنم بھوک سے جنگ لڑتے لڑتے زندگی ہار گئی ہیں اور کتنوں ہی نے ان حالات سے مجبور ہوکر اپنی جان لے لی ہے وزارتِ داخلہ کے حکم جو جہاں تھا وہیں رہے نے کتنے ہی غریبوں کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہر روز بھوک اور پیسوں کی تنگی سے تنگ آکر زندگی سے ہار ماننے کی روح فرساں خبریں سامنے آ رہی ہیں بھدوہی ضلع جہانگیر نگر میں ایک مزدور خاتون نے اپنے پانچ بچوں کو گنگا ندی میں پھینک دیا کیوں کہ وہ اپنے بچوں کو بھوک اور پیاس سے بےحال ہوکر تل تل مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی، گڑگاوں میں چھابو نام کے ایک مزدور نے اپنے آخری اثاثے موبائل کو بیچ کر بچوں کے کھانے کا انتظام کیا اور خود کشی کر لی گجرات سے بھی بہت سے مزدوروں کے مرنے کی خبریں سامنے آئیں شہروں سے گاؤں اپنے گھروں کے لیے پیدل اسفار میں 40 سے 50 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ ہندستانی تزاد کے تین ماہر معاشیات "ریزرو بینک آف انڈیا” کے سابق گورنر "رگھورام راجن” ،بھارت رتن اعزاز اور نوبیل ایوارڈ یافتہ "ابھی جیت بینرجی” اور ‘امرتہ سین” ان تینوں ماہرین نے مل کر "دا انڈین ایکسپریس” میں ایک مضمون شایع کیا جس کے مطابق "دا فوڈ کورپوریشن آف انڈیا "کے پاس 7کروڑ ٹن غلہ کے اسٹوک سے تین گنا زیادہ ہے اور کروڑوں روپیہ پی ایم کیئر فنڈ میں امداد ہؤے ہیں اس حساب سے ملک میں کوئ بھوکا نہیں ہونا چاہیے پھر کیا وجہ ہے کہ فاقہ کشی سے بے حال غریبوں کو خود کشی کی نوبت درپیش آرہی ہے ملک کی 103 کروڑ یعنی 80 فیصد غریب عوام کے لیے کیا اقدامات لیے جا رہے ہیں تالا بندی نے ان کامگاروں کو برباد کرکے رکھ دیا ہے نہ ان کے پاس کھانے پینے کو ہے نہ رہنے کی جگہ ان لوگوں میں کورونا سے نہیں لیکن فاقہ کشی سے موت کا خوف زیادہ ہے ، بین الاقوامی مزدور تنظیم کی رپورٹ کا کہنا ہے کووڈ 19 کی وجہ سے بھارت میں 40 کروڑ غیر رسمی کامگار متاثر ہوئے ہیں جن کے لیے زندگی بے حد دشوار ہو گئ ہے اسکفیم کی حالیہ ریپورٹ کے مطابق ملک کے ایک فیصد امیر لوگوں کے پاس 70 فیصد یعنی 95 کروڑ سے زیادہ آبادی کی کل دولت کی چار گنا ہے ،ملک کے سب سے غریب 50 فیصد لوگوں کی کل مالیت کے برابر دولت ہے اس لیے غریبی اور امیری نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے فرق اتنا ہے کہ غریبوں کی تعداد زرداروں کے مقابلے میں بہت ذیادہ ہے اس رپورٹ کے مطابق ملک کے ایک فیصد امیر دو ہزار دو سو کروڑ روپیہ یومیہ کماتے ہیں جبکہ غریب کو دو وقت کی بھر پیٹ روٹی میسر نہیں ہے ملک زبردست معاشی اور اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے اس صورتحال میں ایکٹوسٹ ساکیت گوکھلے کی اطلاع کے مطابق بھارت سرکار نے ملک کے 50 بے حد غریب افراد کی فہرست جاری کی ہے جو لوگ حکومت کو انتہائی غریب محسوس ہوے ان کا 68,670 کروڑ روپیہ قرض معاف کر دیا گیا ہے اس میں میہول چوکسی کا 500 کروڑ روپیہ نیرو مودی کا 9 ہزار کروڑ روپیہ بابا رام دیو کی” بوچی سویا انڈسٹری "کا دو ہزار کروڑ روپیہ معاف کر دیا گیا ہے سرکاری کام بھی اسی برق رفتاری سے جاری ہیں پھر چاہے وہ 12,450 کروڑ روپیہ کے بجٹ کی نئی پارلیامینٹ کی تعمیر ہو ،یا پھر وزیر اعظم کے لیے8,498 کروڑ روپیہ کے نئے جیٹ طیارے کی خریداری، چاہے صوبائی سرکاروں کے گراے اور بناے جانے کی مہم ،باقی بھارت بھوکا اور بے روزگار رہے تو کیا فرق پڑتا ہے اس مصیبت اور پریشانی کے وقت ہم سب کو متحد ہوکر لڑنا ہے ہمیں اپنے ہمت اور حوصلے کو برقرار رکھ کر ان پریشانیوں کا سامنا کرنا ہوگا ایک دوسرے سے محبت ہمدردی اور بھائ چارے کو قائم رکھنا ہوگا کسی سے مدد کی امید کیے بنا ہمیں اپنی مدد خود کرنی ہوگی ہر اندھیری رات کے بعد آفتاب پوری شان و شوکت سے فلک پر نمودار ہوتا ہے انشاءاللہ یہ رات بھی گزر جائے گی ۔

لہو روتے ہوئے تھکنے لگا ہے اب قلم میرا
مگر یہ داستانے ظلم پوری ہی نہیں ہوتی

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)