قلم کا سپاہی حفیظ نعمانی – عارفہ مسعود عنبر

 

رات کے ایک بجے وضوکرکے سونے کے لئے چلے تو پانی کی چھینٹوں سے نیند تھوڑی تنک گئی اور اظہار خفگی کے لئے روٹھ کر دور چلی گئی ۔مانو ان آنکھوں میں واپس کبھی نہیں آئے گی۔لیکن ہم بھی کہاں بستر پر لیٹ کر اسے منانے والے تھے ،جاتی ہے تو جائے ۔بھلا ہو ہماری اسٹڈی ٹیبل اور اس پر رکھی کتابوں کا۔کتابوں کی قطار سے محمد اویس سنبھلی کی مرتب کردہ کتاب” قلم کا سپاہی حفیظ نعمانی ” اٹھائی اور نیند کا منھ چڑا چڑا کر اس کے اوراق الٹنے پلٹنے شروع کئے۔ 350 صفحات پر مشتمل یہ کتاب چار ابواب میں منقسم کی گئی ہے ۔اوراق کی الٹ پلٹ پر سب سے پہلے سہیل انجم صاحب کا مضمون "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں ” سامنے آیا یہ سوچ کر پڑھنا شروع کیا کہ ایک آدھ صفحہ پڑھ کر رکھ دیں گے اتنے میں نیند کی ناراضگی بھی دور ہو جائے گی ۔مضمون کے پہلے صفحہ پر ہی حفیظ نعمانی صاحب کے مضمون "میں آخری جمعہ ہو مگر الوداع نہیں”اس پر کشش عنوان اور اس کی انفرادیت پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ۔زبان اتنی سادہ ،سلیس اور دلکش کہ محو مضمون ہو کر اب نہ نیند کے روٹھ جانے کا احساس رہا نہ منانے کی جستجو۔ اگلے صفحے پر سہیل صاحب نے نعمانی صاحب سے ملاقات کا ذکر اس دلکش انداز میں کیا کہ قارئین کے سامنے نعمانی صاحب کے نہ صرف خلوص و محبت اور مہمان نوازی کے عناصر ابھر کر سامنے آئے بلکہ نعمانی صاحب کی زندہ دلی جینے کا انداز اور گفتگو کا سلیقہ بھی دل پر اثر کر گیا۔ خاص کر حفیظ صاحب سے فون پر ہوئی ڈیڑھ ٹانگ والی بات پہلی ملاقات کے بعد ہی سہیل صاحب کی سمجھ میں آئی سہیل صاحب لکھتے ہیں” میں نے پوچھا کہ بار بار آپریشن کرنے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے ۔آپریشن کے بعد پلیٹ تو لگائی گئی ہوگی اس پر انہوں نے ایسا جملہ ادا کیا کہ زبان کا لطف آ گیا ، ران کی ہڈی میں انفیکشن ہے جس کی وجہ سے اسٹیل کی پلیٹیں بسکٹ کی طرح ٹوٹ جاتی ہیں ” اگلے صفحے پر "بجھے دیوں کی قطار” اور حفیظ صاحب کی جیل ڈائری روداد قفس” کا ذکر ہے ان کتب کا ہم نے بھی لفظ لفظ مطالعہ کیا ہے "روداد قفس” نہ صرف حفیظ نعمانی کی جیل ڈائری ہے بلکہ اس دور کے متعصبانہ حقائق کی تاریخ بھی بیان کرتی ہے ۔اگر نصف صدی سے زائد کے مضامین کو الگ کر دیا جائے تو صرف "روداد قفس” ہی ادب میں حفیظ نعمانی کا درجہ متعین کرنے کے لیے کافی ہے ۔یہ نہ صرف جیل ڈائری ہے،بلکہ نہایت سادہ ،سلیس اور دلکش زبان میں لکھی ہوئی ایسی داستان ہےجو شروع تا اخیر قارئین کو اپنے سحر میں جکڑے رہتی ہے ۔نیند کو اب کچھ احساس ہوا کہ بے وجہ ہی آنکھوں سے خفا ہوئی، اب یہ پلکوں پر سجنے کی خواہش رکھتی ہے لیکن اب کچھ ہی دیر میں وقت تہجد ہوا چاہتا ہے ۔اس لیے اسے بے وجہ خفگی کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑےگا ،نیز ہم نے مطالعہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور مضمون کو اخیر تک پڑھا۔ مضمون کے اخیر میں سہیل انجم صاحب عمر انصاری اور والی آسی کی صحبت کے سبب حفیظ نعمانی کی شعر گوئی کا بھی ذکر کرتے ہیں جسے نعمانی صاحب "بجھے دیوں کی قطار ” میں واضح کر چکے ہیں ۔ سہیل صاحب فرماتے ہیں کہ” ان کا اور نعمانی صاحب کا صرف تعارف تھا تعلق نہیں ۔تعلق جس کا نام ہے وہ دو چار بار کی گفتگو یا ایک آدھ ملاقات کے بطن سے پیدا نہیں ہوتا اس کے لئے برسوں کی شناسائی اور گہری رفاقت کی ضرورت ہوتی ہے”۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تو نعمانی صاحب سے نہ تعلق تھا نہ تعارف ہم نے انہیں کبھی نہیں دیکھا لیکن آپ اپنی تحریروں میں سراپا جلوہ افروز رہتے تھے ۔آپ کی بے باک تحریروں سے ہمیں سچ اور حق لکھنے کا حوصلہ ملتا رہا ہے ۔ خیر اس وقت گفتگو کا موضوع "قلم کا سپاہی حفیظ نعمانی ” ہے۔ شب کی تاریکی آہستہ آہستہ اپنا سفر طے کرتی ہوئی منزل کی جانب گامزن ہے کچھ وقت بعد سورج اپنی ضوباریوں کے ساتھ اس تاریک شب کے سینے پر مسلط ہو کر دنیا کو روشن کرے گا۔ لیکن اللہ اپنے خاص بندوں پر یہ کرم فرماتا ہے کہ شب کے اندھیروں میں بھی علم کی قندیلوں سے روشنی حاصل کر لیتے ہیں ۔خیر شب گزر گئی لیکن "قلم کے سپاہی” نے اپنی قلم کے سحر میں ایسا مقید کیا کہ اب اس کی گرفت سے نکلنا غیر ممکن تھا اور کتاب کا ابتدا تا انتہا مطالعہ کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ کتاب کے پہلے مضمون "مجھے کچھ کہنا ہے ” میں اویس سنبھلی نے کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ کہا ہے ۔حفیظ نعمانی کی سیاسی ،صحافتی،سماجی، علمی اور ادبی خدمات کی ایسی جھلکیاں پیش کیں ہیں ،جس نے حفیظ نعمانی کی پوری شخصیت کا احاطہ بڑے دلکش انداز میں پیش کیا۔ یا یوں کہیے کہ حفیظ صاحب کی قربت، محبت اور ان کی شاگردی میں اویس سنبھلی نے قلم کے وہ سارے ہنر سیکھ لیے ۔ایک سپاہی کو ادبی میدان میں جن کی ضرورت ہوتی ہے یعنی تحریر کا ربط ،جملوں کی ساخت اور اختصار کے ساتھ اپنی بات کو واضح کر دینا یہی وجہ ہے کہ اس چھوٹے سے مضمون میں اویس سنبھلی نے حفیظ صاحب کی شخصیت کا ایسا خاکہ پیش کیا ہے کہ جن قارئین نے حفیظ صاحب کو کبھی نہیں پڑھا ہو وہ بھی ان کی شخصیت اور حوصلہ مندی سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔ اس کے بعد ڈاکٹر مقصود الہٰی،شیخ پروفیسر خاں محمد عاطف ،معصوم مرادآبادی سہیل انجم وغیرہ نامور ادیبوں کے مضامین شامل ہیں ۔جنہوں نے حفیظ نعمانی کی شخصیت اور صحافت پر سیر حاصل گفتگو کی ہےـ
کتاب کو چار ابواب میں منقسم کیا گیا ہے،پہلا باب ” باب حفیظ” کے عنوان سے ہے جس میں حفیظ صاحب کی 14 تحریروں کو شامل کیا گیا ہے ان تحریروں سے حفیظ صاحب کی عملی زندگی اور طرز تحریر کو سمجھنے میں قارئین کو مدد ملے گی۔ بلا شبہ حفیظ صاحب کی تحریروں میں پانی کی سی روانی کے ساتھ ایسی سادگی اور سلاست ہے کہ ایک کم پڑھا لکھا قاری بھی اسے با آسانی سمجھ سکتا ہے ۔حفیظ صاحب کی تحریروں میں انشا پردازی کے گوہر جہاں تہاں بکھرے پڑےہیں۔تحریر پڑھتے وقت افسانے کا سا گمان ہوتا ہے حفیظ نعمانی کی تحریروں کےچند نمونے ملاحظہ فرمائیں۔
"شارب پوری یونیورسٹی میں اپنی بے باکی اور کردار کی عظمت میں سب سے ممتاز تھے ۔جس زمانے میں پوری یونیورسٹی تین خانوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک سیاست دوسرا معاشقہ اور تیسرا تعلیم ،اس وقت بھی شارب صرف تعلیم کو اپنائے ہوئے تھے ۔شارب کی خوبصورتی جامہ زیبی ،انداز گفتگو، مزاج کی نرمی ،اور فرق مراتب کی رعایت کی وجہ سے وہ ہر وقت اس اعتبار کی وجہ سے خطرے میں رہتے تھے کہ ہر خوبصورت لڑکی ان سے کسی نہ کسی بہانے دوستی کرنا چاہتی تھی۔ اور انہوں نے جیسے قسم کھا رکھی تھی کہ اپنے کو ان میں شامل نہ ہونے دیں گے کہ ان کے نام کے ساتھ ایک ایسا نام بھی بڑھ جائے کہ جس پر انگلی اٹھ سکے "ـ (مضمون ۔عطیہ نوری،صفحہ: 62)
حفیظ صاحب وہ ہستی تھے جنہوں نے ہمیشہ قوم و ملت کے درد کو اپنے اندر محسوس کیا ۔قلم کے اس سپاہی نے نہایت جرات اور حوصلہ مندی کے ساتھ حکومت ہند کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسلمانوں کے مسائل کو سامنے رکھا ۔آپ لکھتے ہیں:”ہم مسلمانوں کا تو ملک کے پہلے وزیر داخلہ سردار پٹیل فوج اور پولیس میں داخلہ بند کر گئے تھے ،جن سیاسی لیڈروں کومسلم نواز کہا جاتا ہے ایک بہو گنا جی بھی تھے ان سے ڈاکٹر فرید صاحب نے ایک بار کہا تھا کہ پی اے سی کے متعلق ہر جگہ سے خبر آتی ہے کہ وہ کرفیو کے زمانے میں مسلمانوں کی دکانیں لوٹ لیتے ہیں ایک تو مسلمان مارے جائیں، زخمی ہوں پھر کاروبار بھی ختم ہو جائے "ـ (ہاشم پورہ کے زمہ دار راجیو گاندھی صفحہ117)
بابری مسجد کا مقدمہ ہے ۔ساکشی مہاراج ایک تو یونہی مہاراج ہیں بڑے بڑے نیتا ان کے آگے پیچھے پھرتے ہیں۔ وہ حکمران ممبر پارلیمنٹ ہو گئے یعنی کریلا اور نیم چڑھا ،کیا آئیں گے اور کون انہیں لائے گا؟عدالت کے لیے اچھا یہ ہے کہ مقدمے کو چلتا رہنے دیں اور جب سب دنیا سے چلے جائیں گے تو شاندار ججمینٹ لکھیں اور جتنی بھڑاس نکالنا چاہتے ہیں نکال لیں اس لئے کہ اب جو ملزم رہ گئے ہیں وہ اگر مجرم ثابت ہو بھی جائیں تب بھی سزا تو سی بی آئی نہ دلا پاے گی اس لیے کہ نہ یہ سہراب الدین ہیں نہ خیر الدین ہیں ،مودی حکومت نےثابت کر دیا کہ انہوں نے جو کیا ٹھیک کیا اگر ٹھیک نہ کیا ہوتا تو انہیں حکومت کیسے ملتی”ـ (ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم صفحہ:125)
جی تو چاہتا ہے کہ حفیظ صاحب کے ہر مضمون پر گفتگو کریں کیونکہ حفیظ صاحب کا ہر مضمون نہیں بلکہ ہر ہر سطر قابل غور ہے ، اب ہمیں صحافت کے میدان میں ایسا کوئی سپاہی نظر نہیں آ رہا جو اس خلا کو پورا کر سکے ۔اس مختصر مضمون میں یہ ممکن نہیں اس لیے قارئین سے التماس ہے حفیظ صاحب کی شخصیت ان کے قلم کی رعنائیوں سے روشناس ہونے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں ۔ اب آگے بڑھتے ہیں کتاب کے دوسرے باب کا عنوان "خراج تحسین” ہے اس باب میں اردو کے نامور قلم کاروں کی لمبی فہرست ہے جن کے مضامین کتاب میں شامل کئے گئے ہیں ۔تیسرا باب” روداد قفس” کے نام سے ہے اس باب میں حفیظ نعمانی کی” روداد قفس” پر سیر حاصل تبصرے قارئین کی نظر سے گزریں گے۔کتاب کا چوتھا اور آخری باب اویس سنبھلی کی مرتب کردہ کتاب "بجھے دیوں کی قطار” کے عنوان سے ہے اس باب میں کتاب کی رسم اجرا کے موقع پر پیش کردہ مقالات اور مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والے تبصروں کو شامل کیا گیا ہے ۔جس میں کتاب میں شامل 11 خاکوں پر مختلف اہل قلم کی آرا پڑھنے کو ملیں گی ـ