طاقتور لہجے کا منفرد شاعر: قیصر شمیم -ڈاکٹر سیفی سرونجی

(مدیر سہ ماہی ’انتساب عالمی‘)
قیصر شمیم کلکتہ کے ان استاد شاعروں میں سے ایک ہیں جن کا نام ادبی دنیا میں بڑے احترام سے لیا جاتا ہے ۔ ’پہاڑ کاٹتے ہوئے‘ ان کا وہ شعری مجموعہ ہے جو نظموں اور گیتوں پر مشتمل ہے ۔ ۱۶۰ صفحات کے اس شعری مجموعے میں بے حد خوبصورت و معیاری نظمیں اور گیت شامل ہیں جن میں شاعر کی پروازِ فکر اپنی اوج پر دکھائی دیتی ہے ۔ کئی نظمیں تو ایسی ہیں جو منفرد ہیں اور اب تک ان موضوعات پر کسی دوسرے نظم نگار نے سوچا تک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں قیصر شمیم نے کسی کا دیباچہ یا پیش لفظ بھی شامل نہیں کیا ہے ،بلکہ پورے اعتماد کے ساتھ ادبی دنیا میں پیش کیا اور ’دائرے‘ عنوان سے خود ہی اپنی شاعری سے متعلق اظہارِ خیال کیا ہے ۔ وہ اپنی شاعری کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’میری نظموں کے پورے پس منظر کی بجائے میرے ذہن اور زندگی کی صرف چند جھلکیاں ہیں جن کی مدد سے مجھے اور میرے فن کو سمجھا جا سکتا ہے ۔‘‘
قیصر شمیم کے فن کو سمجھنے کے لیے ان کی زندگی اور ان کے تجربات کو پڑھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شاعر نے اپنی زندگی میں جو تلخ تجربات کیے ہیں وہ اپنے فنّی لوازمات کے ساتھ اپنی شاعری میں پیش کر دیے ہیں ۔ ان تجربات میں سب سے اہم ہیں ہندوستان کے فسادات جن کے متعلق انھوںنے ’دائرے‘ میں تحریر کیا ہے۔ اپنی کم عمری میں ہی انھوںنے ایسے خونی مناظر دیکھے ہیں کہ ایک سچے حساس شاعر کی آنکھوں میں اسی طرح رچ بس گئے جس کے اظہار پر وہ مجبور ہو گئے اور انھی خیالات نے نظموں ، گیتوں کا روپ اختیار کر لیا ۔ نظم ’کلکتہ‘ دیکھئے :

ظلم ہوتا ہے کہیں تو /سر کو گھٹنوں میں دبائے
سانس رو کے /اپنے ہونٹوں پر کوئی تالا لگائے
بیٹھے رہنے کی تجھے عادت نہیں ہے
سر اٹھا کر تو ہمیشہ چیختا ہے
اور تری چیخ۔۔پھر چاروں طرف کتنے دلوں میں
یوں اتر جاتی ہے ‘جیسے یہ صدا سب کی صدا ہو !
میں صدا کو نعرہ بنتے /نعرہ بن کر نغمہ بنتے
نغمہ بن کر روح میں ڈھلتے ہوئے بھی دیکھتا ہوں
اور اکثر سوچتا ہوں
کیا مری آواز بھی اس روح کے نغمے میں شامل ہو گئی ہے
سوچتا ہوں ۔۔۔ /اور تیرا سرخ چہرہ دیکھتا ہوں
قیصر شمیم صاحب کی صرف ایک نظم پڑھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک حساس شاعر نے کس طرح اپنی اس نظم میں فساد کی منظر کشی کی ہے ۔اس طرح دیگر درجنوں نظمیں ہیں جن میں قیصر شمیم نے اپنے شاعرانہ فنی تقاضوں کو نہ صرف پورا کیا ہے ،بلکہ اپنا دل نکال کر رکھ دیا ہے ۔ یہ نظمیں اتنی پر اثر ہو گئی ہیں کہ پڑھتے ہوئے قاری بھی ایک ذہنی تنائو محسوس کرنے لگتا ہے اور اس پر بھی ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ۔ مثلاٌ ان کی دیگر نظمیں جن کے عنوانات اس طرح ہیں ،’کل اور آج‘،’یہ سرد شب ہے ‘،’زیر دیوار ‘،’دعا مانگو‘،’مجھے چھوڑ‘،’یقینا‘،’تمہاری یاد آتی ہے‘،’درد آنسو مسکان‘،’ مجھے دکھ ہے ‘،’تیاگی ‘،’ ایک پرانا بازی گر‘،’بنسی کے دو بول‘جیسی کئی نظمیں ہیں جن میںکسی نہ کسی اہم پہلو کو نہ صرف اجاگر کیا گیا ہے ، بلکہ بڑے موثر انداز میں اپنی بات کہی ہے ۔ قیصر شمیم کو زبان پر بڑا عبور حاصل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں جہاں ایک طرف زبان کا رکھ رکھائو ہے ، وہیں دوسری طرف ان کی قابلیت بھی جابجا دکھائی دیتی ہے۔شاعر کی نظر نہ صرف عالمی ادب پر گہری ہے ،بلکہ معلومات کا ایک بھنڈار ہے۔یہی وجہ ہے کہ کچھ ایسی نظمیں بھی اس کتاب میں شامل ہیں جن میں ان کی معلومات اور مطالعہ بھی عیاں ہے ۔مثال کے طور پر ’نیل گائے‘ کے عنوان سے جو نظم ہے وہ حریت پسند افریقی شاعر بنجامن مولائز کو ۱۹۸۵ءمیں پھانسی کی سزا دینے پر کہی گئی ہے ۔ اس نظم کو پڑھ کر Imagineکیا جا سکتا ہے کہ شاعر کی عالمی ادب پر بھی گہری نظر ہے،ورنہ ہم اردو والوں کو تو اردو کے ہی شاعروں کے بارے میں معلومات نہیں رہتی۔ نظم ملاحظہ فرمائیے:
شکاریوں کے درمیاں /گھری ہوئی ہے نیل گائے
لہو لہان ہے بدن /شکاریوں کے دانت بھی لہو کی طرح سرخ ہیں !
مگر عجب ہے نیل گائے /اس کی آنکھ میں نہ کوئی خوف ہے نہ بے بسی
ہے آج اس کے سامنے اسی کے ایک بچھڑے کا جوان تن پڑا ہوا
شکاریوں کی رسیوں کی داستاں بنا ہوا !
اس جوان بچھڑے کے لبوں کی آخری صدا
فضا میں آج گونجتی ہے دور تک
شکاریو‘/نجاب نیل گائے کی قریب ہے
قریب ہے نجاب نیل گائے کی
شکاریو! / یہ دیکھ لو کہ نیل گائے کے تمام بچھڑوں میں
ہے جوش انتقام کا
انھیں اب اپنی گولیوں سے روکنے کی کوششیں فضول ہیں !
ا یسی درجنوں نظمیں ہیں جن میں شاعر نے اپنے مختلف تجربات پیش کیے ہیں ۔اس کتاب کی سب سے خوبصورت نظم ہے ’خدمتِ خلق خدا سے ہے منور تیرا نام ‘ جو انجمن مفید الاسلام کلکتہ کی نذر ہے۔قیصر شمیم کو اپنے وطن کلکتہ سے والہانہ پیار ہے جس کا اظہار انھوںنے دیگر نظموں میں بھی کیا ہے۔سچائی یہ ہے کہ قیصر شمیم ایک طاقتور لہجے کے منفرد شاعر ہیں جن کی شاعری میں زندگی کی تلخیوں ،ان کے گہرے تجربات سے شاعر کو ایک مفکر کی سی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔قیصر شمیم نے بہت کچھ لکھا ہے ،کئی اہم کتابیںاور کئی رسائل کے خصوصی نمبر بھی شائع ہو چکے ہیں جن میں فراغ روہوی کا رسالہ ’دستخط‘ نمایاں نام ہے جس کا قیصر شمیم نمبر ۳۸۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ فی الحال ان کی کتاب ’پہاڑکاٹتے ہوئے‘ کی ایک نظم جو مجھے بے حد پسند ہے یہاں پیش کر رہا ہوں جو گاندھی جی کی ۱۲۵ ویں سالگرہ پر کہی گئی بعنوان ’تمہاری یاد آتی ہے ‘:
تمہاری یاد آتی ہے
مگر اس یاد میں آنسو نہیں ہوتے
تمہیں کھونے کا پچھتاوا/بھی اب دل کو نہیں ہوتا
کہ وہ دنیا /بدل کر رہ گئی ہے
جس کی مٹی میں کبھی تم نے /بہت سے خواب بوئے تھے
تمہارے خواب / اسی مٹی میں
یوں بے جان ہو کر رہ گئے ہیں
جیسے اپنی گود کے پالے ہوئے
معصوم بچے /دفن ہوکر رہ گئے ہوں
اپنے ہی آنگن کی قبروں میں !
تمہاری یاد آتی ہے /مگر اس یاد کے پردے پہ
وہ تصویر بھی ہوتی ہے /جو تمہارے نام پر
اس دیش کے بازار میں /ہر روز بکتی ہے
تمہارے جنم دن پر /یا تمہارے مرتیو دِوس پر
یہی تصویر سب کے کا م آتی ہے
اسی تصویر پر مالائیں چڑھتی ہیں
کہ مالائیں چڑھا کر لوگ /اس احسان کا بدلہ چکاتے ہیں
جو اپنی جان دے کر ایک دن تم نے کیا تھا !
تمہاری دیش بھکتی /بند ہے تاریخ کے بوسیدہ پنوں میں
تمہاری وہ اہنسا /جس کے آگے سورما بھی سر جھکاتے ہیں
تمہارے ساتھ ہی اس کو گولی لگ گئی تھی
اب اس کی لاش بھی نہیں ملتی
تمہاری یاد آتی ہے / مگر اس یاد میں آنسو نہیں ہوتے
کہ کوئی دل بھی اب سابر متی کا آشرم
بنتا نہیں ہے !
قیصر شمیم کی یہ وہ چونکا دینے والی نظم ہے جس میں پورے ہندوستان کی تاریخ بیان کر دی گئی ہے کہ جس آزادی کا خواب گاندھی جی نے دیکھا تھا اگر آج وہ زنددہ ہوتے تو خون کے آنسو رو رہے ہوتے۔ اس لیے کہ جو کچھ اب ان کے دیش میں ہو رہا ہے یہ دیکھ کر تو اب ان کی آتما بھی روتی ہوگی ۔نظم کے ایک ایک لفظ میں شاعر نے زندگی کی روح کو سمو دیا ہے اور وہ سب کچھ بیان کر دیا ہے جسے دیکھ کر گاندھی جی کی روح بھی کانپ اٹھے ،لیکن ۔۔واہ رے اِس دیش کے باسی ! گاندھی جی کی تصویر کو تو اتنا سمان،مگر اس دیش کے انسانوں کی لاشوں کو دیکھ کر کوئی ملال نہیں ؟
اس طرح کی بہت سی نظمیں ہیں جن میں شاعر نے اپنی دلی کیفیت کو بڑے درد انگیز لہجے میں بیان کیا ہے جس سے نظموں میں ایک زبردست تاثیر پیدا ہو گئی ہے ۔ افسوس ! ان کے سانحۂ ارتحال سے ادبی و شعری دنیا کا ایسا خسارہ ہوا ہے، جس کی تلافی ممکن نہیں ۔ اللہ مغفرت فرمائے ۔آمین ۔