Home ستاروں کےدرمیاں قیس رامپوری: قوت گویائی سے محروم ایک شاعر – معصوم مرادآبادی

قیس رامپوری: قوت گویائی سے محروم ایک شاعر – معصوم مرادآبادی

by قندیل

 

برادرم ودود ساجد کے توسط سے یہ تکلیف دہ اطلاع ملی ہے کہ ممتازشاعر وخطاط قیس رامپوری ان دنوں سخت علیل ہیں۔ یہ جان کر اور بھی تکلیف ہوئی کہ وہ فالج کے حملہ کے بعد قوت گویائی سے محروم ہوگئے ہیں۔ ناک کے ذریعہ انھیں غذا پہنچائی جارہی ہے۔ کسی فن کار کے لیے اس سے زیادہ اذیت ناک کوئی اور لمحہ نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے جذبات واحساسات کے اظہار سے ہی محروم ہوجائے۔ الفاظ ہی تو انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں اور جب وہ ان کے بیان پرہی قادر نہ رہے تو پھر اس کے پاس باقی کیا رہتا ہے۔ یہ بات ہم جیسے لوگوں کے لیے اور بھی اذیت کا باعث ہے، جنھوں نے انھیں ہمیشہ بولتے، چہچہاتے، لفظوں کا جادو جگاتے اور سدا مسکراتے ہوئے دیکھا ہے۔ وہ لفظوں کونشست وبرخاست کا ایسا سلیقہ سکھاتے تھے کہ ان پر جادو گر کا گمان ہوتا تھا۔ وہ اپنی طرز کے خود ہی موجد تھے اور خود ہی خاتم بھی۔ جب سے اردو خطاطی کا فن کمپیوٹر کے قالب میں ڈھلا ہے تب سے ایسے فن کار معدوم ہوگئے ہیں جو اپنی انگلیوں میں قلم کو ایسی جنبش دیتے تھے کہ الفاظ میں قدرتی حسن کی آمیزش ہوجاتی تھی۔آج بستر علالت پر قیس رامپوری کی ان انگلیوں کو بے حس وبے جنبش دیکھنا کتنی اذیت ناک ہے۔ یہ وہی لوگ جان سکتے ہیں جنھوں نے ان کے ساتھ کام کیا ہے یا انھیں قریب سے دیکھا ہے۔ راقم الحروف بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہے، جس نے برسوں ہفتہ وار ’نئی دنیا‘ میں ان کی رفاقت میں کام کیا۔حالانکہ وہاں میرا میدان صحافت تھا، لیکن کتابت وخطاطی کے فن سے واقفیت کے سبب میرا زیادہ وقت ان کے ساتھ گزرتا تھا۔ جب کبھی وہ چھٹی پر جاتے یا طبیعت ناسازہوتی تو ان کی ذمہ داریاں میرے سپرد کردی جاتیں۔ اس طرح میں ان کی کرسی پر بیٹھ کر اخبار کا لے آؤٹ اور سرخیاں بناتا تھا۔میں نے روایتی خطاطی کی تربیت حاصل کی تھی، جبکہ قیس صاحب کو روایتی خطاطی کے ساتھ ساتھ جدید آرٹ اور تزئین کاری کا بڑا تجربہ تھا۔ اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہیں ہوگا کہ ہفتہ وار ’نئی دنیا‘ کی مقبولیت میں ان کی تزئین کاری اور آرٹ کو بڑا دخل تھا۔ ’نئی دنیا‘ کی منہ بولتی سرخیوں کی بدولت ہی لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ باقی چیخ وپکار اس کے مواد میں ہوتی تھی۔
شاعری قیس رامپوی کاپہلا عشق تھا یا دوسرا، اس کا علم مجھے نہیں ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ اخبار کی سرخیاں لکھتے وقت بھی شعر گنگناتے رہتے تھے۔ ان کی شاعری بھی عصری موضوعات میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ’نئی دنیا‘ کے صفحہ اوّل پر شائع شدہ ان کے ایک شعر نے بڑی دھوم مچائی تھی، جو انھوں 90 کی دہائی میں برپا ہونے والے خونریز فسادات پر کہا تھا۔ شعر یوں تھا
دئیے جلانے کی رسمیں بھلا چکے شاید
ہمارے شہر میں انساں جلائے جاتے ہیں
شاعری ان کا شوق ضرور تھا مگر ان کی سب سے زیادہ دلچسپی خطاطی کے فن میں تھی۔انھوں نے اپنے ذوق لطیف کی بدولت ہفتہ واری صحافت کی منہ بولتی سرخیاں لکھنے اور خوبصورت لے آؤٹ بنانے کا ہنر خود ایجاد کیا تھا۔ نفاست ان کی انگلیوں میں ہی نہیں بلکہ ان کی پوری شخصیت میں ڈھلی ہوئی تھی۔ وہ ہرروز اجلے کپڑے پہن کر دفتر آتے تھے۔ان کی شخصیت تو دیدہ زیب تھی ہی، ان کے جملے اور تبصرے بھی دلچسپ ہوا کرتے تھے۔ پان کھانا ان کی عادت تھی، جو وہ اپنے گھر سے بنواکر لاتے تھے۔ پان کے کثرت استعمال سے ان کی زبان اور ہونٹ ہمیشہ سرخ رہتے تھے۔
شاعری کے حوالے سے ان کا واحد مجموعہ کلام بڑی مشقت کے بعد میرے ہاتھ لگا ہے تو سوچا کیوں نہ اپنے قارئین کو اس سے بھی روشناس کرادوں۔ ’سمندردرسمندر‘ کے نام سے 109 صفحات کا یہ مجموعہ 1987 میں شائع ہوا تھا۔ اس کی اشاعت خود انھوں نے ہی اپنے صدف پبلی کیشنز سے کی تھی جس کا پتہ فراش خانہ میں واقع ان کا گھرہے۔ قیس رامپوری نے پرانی دہلی کے تنگ وتاریک علاقہ فراش خانہ کی گلی راجان میں لمبا عرصہ گزارا۔ اب وہ اپنے بیٹے کے پاس شاہین باغ میں صاحب فراش ہیں۔ اسی مجموعہ میں ان کا ایک اور شعر درج ہے۔
ہمیں اس شرط پر یہ زندگی راس آئی ہے
کہ ہم سانسیں بھی لیں تو دوسروں کے پھیپھڑوں سے لیں
قیس رامپوری کی شاعری میں عصر حاضر کے مسائل کا ہجوم ہے۔ انھوں نے بڑی انقلابی قسم کی شاعری کی ہے۔ ان کے دوست اور ممتاز شاعر امیرقزلباش نے ’سمندر درسمندر‘ میں لکھا ہے کہ:
”قیس رامپوری میرے عزیزترین دوست اور پسندیدہ شاعر ہیں۔قیس کے یہاں ذاتی واردات اور عصر حاضر کے مسائل کی جھلکیاں فنی اہتمام کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ اسلوب بیان انتہائی شاداب اور حسّیت سے لبریز ہے۔ انھوں نے جن خارجی کیفیات کو بنیاد بنایا ہے، وہ کیفیات موجودہ نسل کے چند شاعروں کو ہی میسر ہوئی ہیں۔ان کے ہاں زندگی کے تناظر میں جس باریک بینی سے کام لیا گیا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ چاک دامانی اور آبلہ پائی کے تمام تجربات سے گزرے ہیں۔ وہ معنوی تہہ داری، سیاسی وسماجی نشیب وفراز اور معاشرے میں پھیلی ہوئی مکروہیت سے باخبر ہیں۔ انسانی درد اور رشتوں کا کرب ان کی شاعری کا جزوخاص ہے۔ ان کے یہاں نظم میں موضوع کی گرفت اور غزل میں دروں کاری بڑی خوبی کے ساتھ جلوہ گر ہے۔“(’سمندر درسمندر‘صفحہ 9)
قیس رامپوری کی شاعری کا غالب حصہ عصری موضوعات پر ہے۔ انھوں نے سیاسی،سماجی ماحول کا گہرا اثر قبول کیا ہے۔ شاید اس کی بڑی وجہ اخبارات وجرائد سے ان کی پیشہ ورانہ وابستگی ہو۔ وہ اپنے عہد کے سیاسی مسائل سے بھی نبرد آزما نظر آتے ہیں۔ قومی اور عالمی حالات کی پیچیدگیوں کا کرب ان کی شاعری میں بہت نمایاں ہے۔ ایمرجنسی کے خاتمہ پر کہی ہوئی مختصرنظم ’نیا سویرا‘ ملاحظہ ہو:
چلو سویرا ہوا
اذنِ پرَ کشائی ملا
مگر سوال تو یہ ہے مرے تعاقب میں
دہانے کھولے ہوئے اب بھی بے شمار عفریت
مرے بدن کا لہو چاٹنے کی فکر میں ہیں
قیس رامپوری کی شاعری کا خاصہ یہ ہے کہ انھوں نے سیاسی اور سماجی ماحول کا گہرا اثر قبول کیا ہے۔ اس کا نتیجہ صحافتی شاعری کی صورت میں برآمد ہوا۔ ’نیا سویرا‘ہو یا کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے خلاف ان کی نظم ’ابھی فلسطین جل رہا ہے‘یا پھر بھوپال گیس ٹریجڈی پر ان کی نظم ’شب خون‘۔ یہ سب حالات حاضرہ اور عالمی واقعات پر مرکوز ہیں، لیکن ان میں شاعرکے اپنے جذبات ومحسوسات اور تاثرات موضوع بنے ہیں۔ انھوں نے غنائیہ شاعری کا کافی اثر قبول کیا ہے۔چند اشعار اورملاحظہ ہوں:
یہ تجربہ بھی ہمیں ایک بار کرنا ہے
کہ مڑکے دیکھیں اسے اور سنگ ہوجائیں
اب بہار کو کس نام سے پکاریں ہم
کہ شاخ شاخ پہ خنجر سجائے جاتے ہیں
بار احساں تواٹھائے نہ اٹھا
دوستو، قیس کو مرجانے دو

You may also like

Leave a Comment