قدیم نالندہ یونی ورسٹی کے زوال کا حقیقی سبب کیا ہے؟صفدر امام قادری

وزیر اعلی بہار نے سیاسی کارندوں سے گفتگو کے دوران اس قدیم تعلیمی ادارے کے زوال کا سبب بختیار خلجی کو قرار دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی کے تاریخ و تہذیب کے مسخ کرنے کے پروگرام کی توسیع کی ہے جب کہ تاریخی حقائق کچھ اور کہتے ہیں ۔
گذشتہ پارلیمانی انتخاب کے دوران امت شاہ نے بنارس میں ایک انتخابی نشست میں مورخین کو مخاطب کرتے ہوئے یہ با ت کہی تھی کہ ہمیں راشٹروادی تاریخ نویسی کی بنیاد قائم کرنی ہے۔ کمیونسٹ اور کانگریسی تاریخ دانوں کی مذمت کرتے ہوئے انھوں نے لوگوں سے یہ کہا کہ ہمیں ان سے سوال و جواب میں نہیں پڑنا ہے بلکہ ہمیں اپنے نقطۂ نظر سے تاریخی مواد کو پیش کرکے راشٹروادی اتہاس لیکھن کے کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ اس کے بغیر ان کے مطابق راشٹر نرمان ممکن نہیں ۔ گذشتہ روز بہار کے وزیر اعلا نے جب یہ بتایا کہ بختیار خلجی نے قدیم نالندہ یونی ورسٹی کو اجاڑا تھا جسے انھوںنے اپنے دور میں نئے سرے سے آباد کرکے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا تو مجھے امت شاہ کی بات یاد آنے لگی۔ اندیشہ یہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ وہی راشٹروادی ایجنڈا تو نہیں کہ ہم اپنے نقطۂ نظر سے نئی تاریخ نویسی کا کام کریں گے۔ یوں بھی انتخاب قریب ہے اور مشترکہ حکومت ہے تو خیالات میں یک رنگی آجائے تو کوئی مشکل اور حیرت انگیز بات نہیں سمجھی جانی چاہیے۔
نتیش کمار نے اپنے سیاسی کارندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات بھی بتائی کہ بودھوں کے لیے مقدس مقامات راج گیر، بودھ گیا اور نالندہ اور نوادہ تک گنگا جل پہنچانے کی ایک سرکاری اسکیم بنائی گئی ہے۔ اس سے پہلے کے انتخابات میں بودھ سرکٹ اور صوفی سرکٹ پر نتیش کمار کا زور ہوتا تھا مگر اب اس میں گنگا جل کی شمولیت سے ایک نیا مذہبی اور سیاسی تناظر پیدا کرنے کی کوشش شروع ہوئی ہے جس کے مقاصد پوشیدہ نہیں۔ خاص طور سے بختیار خلجی پر حملہ کرکے اسے مسمار کرنے والا بتانا اور خود کو معمار قرار دینا ایک نئی فکری جست کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔
ہندستان کی قدیم تاریخ میں تعلیمی اداروں کے سلسلے سے بودھوں کی بڑی اہمیت ہے۔ تکشیلا، نالندہ اور وکرم شیلا اپنے زمانے میں رہائشی یونی ورسٹی کا بدل تھے۔ اتفاق سے ان تعلیمی اداروں کا جس عہد میں زوال ہوتا ہے، وہ وہی زمانہ ہے جب ہندستان کے طول و عرض میں مسلمان حکمراں پھیل جاتے ہیںاور عہد سلطنت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ بعض انگریز مورخین اور ان کے اتباع میں بہت سارے فرقہ پرست تاریخ دانوں نے ان قدیم تعلیمی اداروں کے زوال یا انہدام کے پیچھے مسلمان حملہ آوروں کو بنیادی سبب کے طور پر پیش کیا۔ انگریز مورخین کا بھی ایک خفیہ ایجنڈا تھا اور اپنے دور کے حکمرانوں کی صورت مسخ کیے بغیر وہ اس ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم کا کام پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے تھے۔ انیسویں صدی میں فرقہ وارانہ ماحول بڑھنے کے بعد ہم وطنوں میں بھی ایسا ایک طبقہ سامنے آیا جس نے انگریزوں کی ہاں میں ہاں ملا کر بہت سارے معاملات میں مسلمانوں کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی ۔ یہ تمام کوششیں چوں کہ تعصب کی بنیاد پر قائم ہوئی تھیں، اس لیے مقبول عام باتوں کی تشہیر کا نشانہ رکھا گیاتھا مگر تحقیق و تفتیش اور یونی ورسٹیوں کے جائے وقوع کی کھدائی میں ملے آثار سے نئے نتائج کی طرف بڑھنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ تبتی ذرائع سے جو حقائق معلوم ہوئے،ان سے تحلیل و تجزیہ کی یکسر کوششیں نہیں کی گئیں۔ انھی وجوہات سے ایک بڑے حلقے کے سامنے بختیار خلجی کی افواج کی گردن پر نالندہ اور وکرم شیلا یونی ورسٹیوں کا خون قائم رہا اور ایک دوسرے سے سنتے ہوئے عوامی حافظے میں ان باتوں کو جبریہ طور پربٹھانے میںکامیابی ملی۔ وزیر اعلا بہار کے بیان کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
قدیم نالندہ یونی ورسٹی کی تاسیس کمار گپت اول کے زمانے میں ہوئی۔ اسے مورخین ۴۵۰ء کا زمانہ تسلیم کرتے ہیں۔ اس سے پہلے تین چار صدیوں یا اس سے قبل سے اس علاقے میں بودھ مندر کے آثار ملتے ہیں۔ ۴۱۰ء میں جب مشہور چینی سیاح فاہیان نالندہ پہنچا تھا تو اسے کوئی مہاویہار جیسی سرگرمیاں نظر نہیں آئیں۔ ہرش وردھن نے اپنے دور میں اس یونی ورسٹی کو کافی فروغ دیا تھا اور سو گائوں کی آمدنی کو نالندہ کے اخراجات کے لیے وقف کردیا تھا۔ پال بادشاہوں نے سب سے زیادہ نالندہ اور وکرم شیلا یونی ورسٹیوں کو اپنی فیاضی سے ترقی دی۔ جس زمانے میں یہ یونی ورسٹی عروج پر تھی ،اس وقت دس ہزار کے قریب طالب علم اور پندرہ سو اساتذہ موجود تھے۔ مختلف زمانوں میں اس میں کمی بیشی دیکھنے کو ملتی ہے۔ تعلیم کے معیار کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نالندہ میں چین، جاپان، تبت، کوریا، منگولیا، شری لنکا، جاوا اور سوماترا جیسے ممالک سے طالب علم آکر اپنی اعلا تعلیم کو تکمیل تک پہنچاتے تھے۔ فاہیان، ہین سانگ اور اِت سنگ جیسے مشہور بودھ ماہرین نے یہیں تعلیم حاصل کی تھی،پھر اپنے وطن واپس ہوئے تھے۔ تاریخی آثار اس بات کے ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ بہت سارے غیر ملکی طالب علم تعلیم حاصل کرکے یہیں بودوباش اختیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس زمانے میں یہاں کے فارغین مختلف بادشاہوں یا ممالک میں جاکر مذہبی تعلیم کی باضابطہ تبلیغ و اشاعت بھی کرتے تھے۔ اس وجہ سے قدیم نالندہ یونی ورسٹی کو مشرقی خطے کی عظیم درس گاہ ہونے کا امتیاز حاصل ہوا۔
یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ یہ تینوں قدیم یونی ورسٹیاں بودھ مذہب کی تعلیم کے لیے وقف تھیں۔ مہاتما گوتم بدھ نے ذات پات کی تفریق اور مورتی پوجا پر سخت چوٹ کی تھی ۔ ہندو دھرم کی تعبیرات کے مطابق وہ مکمل طور پر ناستک تھے۔ نابرابری کی بنیاد پر قائم برہمن دھرم کو مہاتما بدھ نے کامیابی کے ساتھ اپنے انقلاب آفریں پیغام سے للکارا تھا۔ تعلیمی اداروں کے قیام کا واضح مطلب یہ بھی تھا کہ بودھ عام تعلیم کے طرف دار تھے اور برہمنوں کی طرح خواتین اور شودروں کو دور رکھنے کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ اس لیے بودھ مذہب کی توسیع کے مرحلے میں برہمن دھرم سے واضح رسا کشی اور تعلیم اور مذہبی امور میں شدید اختلافات کے اسباب آغاز سے ہی نظر آتے ہیں۔ یوں بھی پورے ہندستان میں جس طرح چھٹی صدی قبل مسیح سے بودھ مذہب نے اپنے پرپھیلائے، اسی وقت سے برہمن مذہب کی اندرونی شکست اور منظرنامے سے غیاب کے نتائج عام ہوتے ہیں۔
مہاتما بدھ اور اشوک کے بعد خود بودھ مذہب میں اچھی خاصی تبدیلیاں آنے لگیں۔ پہلی دوسری صدی عیسوی میں بودھ وہاروں میں مورتیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور خود مہاتما بدھ کی مورتیوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ مختصر منتربنائے گئے اور پوجا پاٹ اور تنتر منتر کی شمولیت ہوئی۔ پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں منتریان اور تنتریان مسالک کا فروغ ہوا جسے مہاتما بدھ سے اشوک کے عہد کے مذہبی تصور ات سے واضح طور پر علاحدہ مانا جاسکتا ہے۔ پورے صوبۂ بنگال (مع بہار) کے علاقے میں آٹھویں صدی عیسوی میں وجریان مسلک بہت تیزی سے پھیلا۔ نویں سے گیارہویں صدی عیسوی کے دوران وجریان کے فروغ نے بودھ مذہب میں مختلف طرح کے اخلاقی زوال کی بنیادیں استوار کیں۔ بودھ وہاروں میں شراب نوشی، گوشت خوری اور جنسی ترغیب کے کام کے اچھے خاصے ثبوت ملتے ہیں۔ بنگال کے پال راجائوں نے مالی طور پر اس ادارے کی زبردست پشت پناہی کی تھی۔ ان کی معاونت سے بودھ مذہب کی تانترک شق کا اضافہ ہوا جس سے گیارہویں صدی آتے آتے بودھ مذہب کے مذہبی تصورات میں اچھی خاصی تبدیلیاں ہوچکی تھیں۔ پال بادشاہوں کے حالات بھی دگرگوں ہورہے تھے۔ نے پال کے عہد میں انتشار بڑھ گیا تھا۔ عوام اور بادشاہوں کے درمیان کچھ ہموار رشتے کا سراغ نہیں ملتا۔ سماجی انتشار کا تو یہ حال تھا کہ وکرم شیلا کے مشہور استاد دیپنکراتیش واپس جانے لگے تو انھیں راستے میں لوٹ لیا گیا۔ گیارھویں صدی کے آخر میں ایک سفیر جئے شیل کا بیان ہے کہ نالندہ میں صرف ترپن بھکشو یعنی طالب علم رہ گئے تھے۔ وکرم شیلا میں بھی اس نے سو طالب علموں کی بات کہی ہے یعنی یہ تعلیمی ادارے دس ہزار کی تعداد سے گھٹ کر سو اور پچاس پر پہنچ گئے تھے۔
مورخین ایسے حقائق بھی پیش کرتے ہیں کہ پال راجائوں کے کمزور ہونے سے برہمن طاقتوں کے اُبھرنے کے مواقع پیدا ہوئے۔ یوں بھی بودھ مذہب پوجا پاٹ اور مصنوعی وضع اختیار کرکے اپنے حقیقی مذہب سے بہت دور جاچکا تھا۔ برہمنوں نے بیچ کا راستہ نکالتے ہوئے مہاتما بدھ کو وشنو کا دسواں اوتار تسلیم کرکے آپسی رسّہ کشی کے دروازے بھی بند کردیے۔ اس سے نالندہ اور وکرم شیلا جیسی یونی ورسٹیوں کے تعلیمی مقاصد کی اب ضرورت نہ رہی۔ یہ پورا تعلیمی نظام جس مذہبی تعلیم و تبلیغ کے لیے قائم ہوا تھا، اب نئے اور بدلے ہوئے بودھوں اور برہمنوں کے زیر اثر آئے ہوئے بودھوں کے لیے کارِ فضول تھا۔ اس لیے دیکھتے دیکھتے نالندہ جیسا عالمی ادارہ اپنے فکری تضادات اور تعلیمی مقاصد میں چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے اپنے وقار کے منصب سے نیچے آگرا۔ اب اس کی عالمی پہچان بھی ختم ہورہی تھی اور وہ گلیمر بھی باقی نہیں تھا۔ غیر ملکی اساتذہ اور طلبہ تو پہلے سے ہی خلطِ مبحث کی وجہ سے یہاں سے واپس ہورہے تھے۔
قدیم نالندہ یونی ورسٹی کا آخری عینی شاہد وہاں کا تبتی طالب علم دھرم سوامن تسلیم کیا جاتا ہے جس نے آچاریہ راہل شری بھدر کی نگرانی میں تعلیم حاصل کی تھی۔ دھرم سوامن نالندہ مہاوہار میں ۱۲۳۴ء سے ۱۲۳۶ء تک زیرِ تعلیم تھا۔ اگر بختیار خلجی کی افواج نے ۱۱۹۳ء میں نالندہ یونی ورسٹی کو منہدم کردیا اور وہاں کی لائبریری میں آگ لگا دی تھی تو اس کے چالیس برس بعدتک وہاں تعلیم و تربیت کا سلسلہ کس طرح قائم تھا؟ ۱۲۰۶ء میں تو بختیار کی وفات بھی ہوچکی تھی۔ اس لیے جن تحقیقی وسائل کا استعمال کرکے نالندہ یونی ورسٹی کے زوال کا سبب مسلمان حکمرانوں اور حملہ آوروں کو بنایا جاتا ہے، یہ قطعاً غیر مصدّقہ ہے اور تاریخی تعصب کا مظہر ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بودھ مذہب کے اندرونی انتشاراور برہمن مذہب کی سازشوں نے نالندہ یونی ورسٹی کے تعلیمی نظام کو بے اعتبار، کھوکھلا اور سماج اور اصل مذہبی تعلیم سے اس قدر دور کر دیا تھاکہ اس کے زوال سے کسی کو پریشانی نہ ہوئی۔ اگر نالندہ یونی ورسٹی کی عظیم الشان لائبریری میں آگ لگنے یا لگانے کے بعد چھے مہینوں تک کتابیں جلتی رہیں اور آس پاس کے گانو یا علاقے سے کوئی اسے بجھانے کے لیے نہیں آیا تو اس کے پیچھے بھی اس بے اعتبار اور بگڑی ہوئی مذہبی تعلیم کا ہی ہاتھ ہے جو نالندہ یونی ورسٹی کی فصیل کے اندر دی جارہی تھی اور جسے باہرکی دنیا کو کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ادارے اپنے سماج کی ضرورت کے مطابق نہ چلیں تو وہ اپنے آپ زوال تک پہنچ جاتے ہیں۔ نالندہ یونی ورسٹی اسی کی سب سے عبرت آمیز مثال ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)