پرسکون رہنا، صحت مند زندگی کی طرف پہلا قدم!- نیلم علی راجہ

چینی مارشل آرٹسٹ بروس لی کے مطابق انسان کو زندگی میں سب سے بڑا سبق جو سیکھنا چاہیے وہ ہے پرسکون رہنا۔
اگر انسان یہ سیکھ گیا تو سمجھیں اس نے اپنی زندگی کی آدھی مشکلات حل کر لیں۔ ذرا اپنے ارد گرد نظر دوڑائیے، ہر انسان بے سکونی کا شکار ہے۔ جس کی وجہ سے مختلف قسم کے دماغی امراض میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے۔ بڑی سے بڑی پریشانی آنے پر اگر کچھ دیر پریشان ہونے کی بجائے گہرے سانس لیے جائیں، آنکھیں موند کر یہ سوچا جائے کہ جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ اب آگے کیا کیا جائے۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اب یہ سوچیں کہ جو کچھ پاس ہے اسے کس طرح بہتر کیا جائے۔ مثبت سوچ کر پرسکون رہنے کی کوشش کی جائے اور معاملات کو بہتر انداز سے سنبھال لیا جائے۔

اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو یہ سوچا جائے کہ حالات اس سے بھی بدتر ہو سکتے تھے۔ اس بات کو سوچ کر شکر ادا کیا جائے۔ آپ کی پریشانی صرف آپ کو مزید تکلیف میں مبتلا کرے گی۔۔۔۔۔ آپ کے مسئلے کو حل نہیں کرے گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پرسکون رہا کیسے جائے۔ عموما زیادہ تر لوگ جذباتی ہوتے ہیں۔ اور ان کے لیے پرسکون رہنا کافی مشکل کام ہے۔ پرسکون رہنا بھی ایک فن ہے، ہر اس فن کی طرح جو کہ سیکھا جا سکتا ہے۔ اس کو سیکھنے کے لیے چند باتیں بہت اہم ہیں۔
1۔ اپنی ذات پر دھیان دیا جائے۔ آپ کے موڈ، رویے اور آپ کو کوئی دوسرا کنٹرول نہیں کر سکتا۔ آپ کو خود ہی اپنا کنٹرول سنبھالنا ہے۔ لہذا اپنا مقابلہ کسی دوسرے سے مت کریں۔ خود پر بھروسہ رکھتے ہوئے خود کو پریشان ہونے سے بچائیں۔
2۔ خود کو برتر سمجھ کر دوسروں کو حقیر جاننا، دوسروں کو تکلیف دے کر خوش ہونا، مذاق اڑانا، طنز کرنا، تحقیر آمیز رویہ رکھنا۔ یہ ایسے رویے ہیں جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ آپ کو احساس شرمندگی دلائیں گے اور یہ باور کروائیں گے کہ یہ سب جو کیا وہ وقت کا ضیاع ہی تھا۔ اس کو کر کے خود کو اور دوسروں کو ذہنی اذیت ہی دی۔ ان عادات کو جتنا جلدی ہو ترک کر کے پرسکون رہنے کی شروعات کی جائے۔
3۔ سب سے اہم بات ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنسنا سیکھیں۔ خود پر ہنسنا بہت سے مسائل حل کر دیتا ہے۔ لہذا خود پر ہنسنا سیکھیں۔
4۔ جو کام بھی کریں دل لگا کر کریں اور اسے انجام تک پہنچائیں۔ سنجیدگی سے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کام کریں اور اس کی تکمیل پر آپ خود کو خوش اور پرسکون محسوس کریں گے۔
5۔ لوگوں کی باتوں کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں۔ اس فکر سے اپنا سکون برباد مت کریں کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ خود کو بہتر بناتے ہوئے مثبت سوچ اپنائیں اور لوگوں کی باتوں اور رائے کو خود پر حاوی مت ہونے دیں۔ اپنے شوق پر کوئی کمپرومائز مت کریں۔
6۔ اپنی غلطیوں، کوتاہیوں کو اپنائیں انھیں کھلے دل سے قبول کرتے ہوئے تہیہ کریں کہ آئندہ ان کو نہ دہرائیں گے۔ دوسروں کو اپنی ناکامیوں اور پریشانیوں کا ذمہ دار مت ٹھہرائیں۔ جتنا کم اپنے ذہن کو الجھائیں گے اتنا ہی آپ پرسکون رہیں گے۔
7۔ کسی بھی بات، رویے اور حرکت کا ردعمل فوری طور پر مت دیں۔ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں اور کوشش کریں کہ جو بھی اقدام کریں وہ مثبت پہلو رکھتے ہوں ۔ جب یہ رویہ اپنائیں گے تو آپ کی قوت برداشت میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔ خود کو دوسروں کے معاملات سے جس قدر ممکن ہو سکتا ہے دور رکھیں۔ ہر انسان کو اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ جتنا دوسروں کے معاملے میں ٹانگ نہیں اڑائیں گے اتنے ہی پرسکون رہیں گے۔
پرسکون رہنے کے لیے مراقبہ کریں، ورزش کریں، اچھی غذا کا اہتمام کریں۔ اچھے مشاغل اپنائیں، مثبت سوچیں، خود کو مصروف رکھیں۔ خود کو ہمیشہ یہ باور کروائیں کہ جو ہوتا ہے بہتری کے لیے ہوتا ہے۔

یہ کوشش کریں کہ مسکراتے ہوئے مشکلوں کا سامنا کریں۔ کیوں کہ ہنسنے والوں کا سب ساتھ دیتے ہیں مگر رونے والوں کے ساتھ کوئی نہیں روتا۔ خود بھی پرسکون رہیں اور دوسروں کو بھی پرسکون رہنے دیں۔