19 C
نئی دہلی
Image default
بین الاقوامی خبریں

پرامن مظاہرہ کے خلاف تشددناقابل برداشت:امریکی ممبران پارلیمنٹ

واشنگٹن:
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرامن احتجاج جاری ہے،لیکن اس احتجاج کی مخالفت میں برپاکیے گئے تشدد پر امریکی ممبران پارلیمنٹ نے سخت رد عمل کا اظہار کیاہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بھارت دورے کے ساتھ ہی میڈیا ان واقعات کی بھی خبریں دے رہا ہے۔ امریکی لیڈرپرملا جے پال نے کہا کہ بھارت میں مذہبی عدم برداشت میں اضافہ خوفناک ہے۔جے پال نے ٹویٹ کیاہے کہ جمہوری ممالک کو تقسیم اور تفریق برداشت نہیں کرنی چاہیے یاایسے قانون کو فروغ نہیں دینا چاہیے جو مذہبی آزادی کو کمزور کرتا ہو۔انہوں نے کہاہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے۔لیڈرایلن لووینتھال نے بھی تشددکواخلاقی قیادت کی المناک ناکامی قراردیاہے۔ انہوں نے کہاہے کہ ہمیں بھارت میں انسانی حقوق پر خطرے کے بارے میں بولنا چاہیے۔صدرکے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی دعویدار اور رکن پارلیمنٹ الزبتھ وارن نے کہاہے کہ ہندوستان جیسے جمہوری شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا اہم ہے لیکن ہمیں اقدار پر حقیقت سے بات کرنی چاہیے جن میںمذہبی آزادی، اظہار رائے کی آزادی شامل ہے۔پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد قابل قبول نہیں ہے۔کانگریس رکن رشیدہ طالب نے ٹویٹ کیاہے کہ اس ہفتے ٹرمپ بھارت گئے لیکن فی الحال تو دہلی میں حقیقی خبر فرقہ وارانہ تشدد ہونا چاہیے۔ اس پرہم چپ نہیں رہ سکتے۔ میڈیا نے بھی ان واقعات کو پوری توجہ دی ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاہے کہ یہ فسادات متنازعہ شہریت قانون پر ماہ تک چلے مظاہروں کے بعد انتہائی پر پہنچے کشیدگی کو دکھاتے ہیں۔ساتھ ہی یہ وزیر اعظم نریندر مودی حکومت کے حامیوں اور ناقدین کے درمیان بڑھ رہے اختلافات کو بھی دکھاتا ہے۔وہیں نیو یارک ٹائمزنے لکھاہے کہ صدر ٹرمپ جب بھارت کے دارالحکومت کے دورے پر تھے اسی دوران وہاں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے۔بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن نے ٹویٹ کرکے کہاہے کہ نئی دہلی میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی خوفناک بھیڑکے تشددکی خبروں سے پریشان ہیں۔کمیشن نے مودی حکومت سے بھیڑ کو کنٹرول کرنے اور مذہبی اقلیتوں کی حفاظت کرنے کی اپیل کی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment