پرامن عید سعید گزرنے پر خوشگوار حیرت ـ مسعود جاوید

 

اللہ کا شکر و احسان ہے ملک کے طول و عرض میں عید الفطر کا تہوار پر امن اور پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا ۔ عید کے دن سے کئی روز قبل تک ہر حساس شخص مختلف اندیشوں کے پیش نظر سہما ہوا تھا اور اللہ سے دعا گو تھا کہ وہ شرپسندوں کی شرارت اور جذباتی مسلمانوں کے ردعمل سے اس مقدس تہوار کو محفوظ رکھے۔ خدشات خاص طور پر ان کے دلوں میں زیادہ تھے جن کے ذہنوں میں مرادآباد عید گاہ کا دردناک منظر تھا ۔ عیدگاہ میں موجود لوگوں کے ساتھ معصوم بچوں اور عورتوں کی موت ! تصادم کی کوئی معقول وجہ نہیں! حکومت سیکولر کانگریس کی !
مسلمانوں کی عید ہو یا بقرعید یا کوئی اور تہوار، تصادم کی گنجائش اس لئے نہیں ہوتی کہ دین اسلام میں عبادت سکون اور توجہ الی اللہ چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی تہوار میں خاموشی سے عبادت گاہوں تک جانا اور واپس آنا ہوتا ہے۔ مجمع کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اور عبادت گاہوں تک آنے جانے والوں کی تعداد کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو ، مسلمانوں کے تہوار اور جلسے کبھی بھی لاء اینڈ آرڈر کے لئے مسئلہ نہیں بنتے ۔ خود تو منظم اور پر امن ہوتے ہی ہیں اسی کے ساتھ رضا کاروں کی جماعت کو ڈیوٹی پر لگا کر ٹریفک اہلکاروں کے کام بھی ہلکا کر دیتے ہیں جس کی ستائش خود انتظامیہ بھی کرتا ہے۔

مرادآباد کا منظر اس لئے ابھر کر سامنے آیا کہ اس وقت بھی تصادم کی وجہ بالکل پھسپھسی تھی ؛
خنزیر کا گوشت اور گاۓ کا گوشت !

انگریزوں کے زمانے سے یہ گوشت ویلن کا رول ادا کرتا رہا ہے! حالانکہ مسلمان اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں تو خنزیر کا گوشت یا شراب کی بوتل مسجد کے احاطہ میں پھینکے جانے پر بہت زیادہ مشتعل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ خنزیر کا گوشت ہو یا الکحل شراب اس کا استعمال استہلاک حرام ہے۔ اگر بدن پر لگ جائے تو دھو کر اسے پاک کیا جا سکتا ہے۔

لیکن برا ہو سیاست دانوں کا اور ناخواندہ یا خواندہ مگر جذباتی مسلمانوں کا جو خنزیر اور شراب کو کفر اور اسلام کا مسئلہ اور چیلنج کی علامت کے طور پر لیتے رہے ۔
جس طرح غیر مسلم گاۓ کے گوشت کو علامتی تقدس کے طور مان کر مشتعل ہوتے ہیں مسلمانوں کے لئے بلا وجہ معقول خنزیر اور شراب حساس ہیں ۔

گرچہ فرقہ وارانہ فساد کی یہ وجہ بالکل پھسپھسی ہے لیکن مسجد کے دروازے پر یا احاطے میں خنزیر کا گوشت یا شراب کی بوتل یا مندر کے دروازے پر گاۓ کے گوشت کا پایا جانا بے شمار فرقہ وارانہ فسادات کے سبب بنتے رہے ہیں۔

انگریزوں کے زمانے میں بندوق کے کارتوس کے اجزاء میں خنزیر کی چربی کہہ کر مسلم مجاہدوں کو اور گاۓ کی چربی کی افواہ پھیلا کر ہندو سوتنترا سینانیوں کو گولی چلانے سے باز رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی.

یہ جذباتی حماقت میں سمجھتا تھا کہ صرف بر صغیر ہند و پاک و بنگلہ دیش کے لوگوں تک محدود ہے مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے شارجہ دبئ میں دیکھا کہ میرے بچوں کی عربی نصابی کتب میں مصری ، اردنی ، اساتذہ نے خنزیر اور اس کی تصویر کو قلم سے مسخ کر دیا ہے۔ ان پڑھے لکھے جاہل اور متعصب اساتذہ (مطوع مولوی ٹائپ کے) سے میں نے جب سوال کیا تو انہوں نے بے سر پیر کی بات کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی اور جب مجھے مطمئن نہیں کر سکے تو یہود و نصارٰی سے اپنی نفرت کو سبب بتایا اور جو مسلمان نفرت نہ کرے اسے گمراہ قرار دیا ۔۔۔۔۔ میں نے کہا قرآن مجید میں متعدد مقامات پر خمر ، میسر اور خنزیر کا ذکر ہے کیا نعوذباللہ اسے بھی مسخ یا حذف کریں گے !

مرادآباد سانحہ اس بار اس لئے بھی ذہن کے پردے پر دوبارہ ابھرا کہ اس بار بھی عید الفطر سے پہلے ایودھیا میں گوشت کے ٹکڑے اور مقدس کتاب کے اوراق عبادت گاہ کے احاطے میں پھینکے گئے تھے۔ تقریباً سو سال پرانی وہی ٹرک یعنی رات کے اندھیرے میں گوشت کے ٹکڑے ڈالا جائے جسے صبح صبح عبادت کرنے کے لئے آنے والے لوگ دیکھیں اس کے بعد لوگ جمع ہوں گے، جذباتی باتیں کی جائیں گی اور ہندو مسلم فساد ہوں گے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے شرپسندوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

اس طرح کی اشتعال انگیزی بلا شبہ ناقابل برداشت ہے اور جرم ہے لیکن بحیثیت مسلمان اگر تصادم سے بچنا چاہیں تو معاملہ کو طول دینے کی بجائے اور فرقہ وارانہ فسادات تک پہنچنے کی بجائے ، پولیس کو رپورٹ کریں اور گوشت کے ٹکڑے یا شراب کی بوتل اٹھا کر پھینک دیں اور عبادت گاہ کو تین بار دھو کر پاک کر دیں۔‌

اشتعال انگیزی کے معاملے رک نہیں رہے ہیں۔ کبھی حجاب تو کبھی مخصوص علاقوں میں مسلم دکانداروں کی تجارت پر پابندی ، کبھی مسلم ہوٹل کافیٹیریا میں چاۓ میں بانجھ پن کی اشیاء کی ملاوٹ تو کبھی اذان!
مسلمانوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان سب بیانیوں کے پیچھے جو محرک ہے وہ ہے ہندو مسلم کی بنیاد پر پولرایزیشن لام بندی کر کے انتخابات میں فتحیاب ہونے کی کوشش کرنا اور عام شہریوں کے حقیقی مسائل مہنگائی اور بے روزگاری سے لوگوں کی توجہ ہٹانا۔
اگر آپ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں تو پھر آپ قطعاً مشتعل نہ ہوں ۔ ٹی وی ڈیبیٹ میں حصہ نہ لیں، کسی چینل کو بائٹ نہ دیں، سوشل میڈیا پر ردعمل کا اظہار نہ کریں اور صبر و تحمل کے ساتھ خاموش تماشائی بن کر شرپسندوں کی سازش کو ناکام بنا دیں ۔

اذان کا مسئلہ ہے آپ یہ سوچ کر چلیں کہ کچھ لوگوں کو آپ نے صبح صبح نیک کام کرنے ہنومان چالیسہ پڑھنے پر لگا دیا ہے۔ تین منٹ میں پوری ہو جانے والی اذان کی آواز سے مقصود مسجد کے پڑوس میں رہنے والوں کو خبر کرنا اور بلانا ہے۔ حکومت کے مقرر کردہ وولیوم میں اذان دے کر فارغ ہو جائیں اور اس طرح شرپسندوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لیں۔

راج ٹھاکرے ان دنوں اپنے لیے سیاسی زمین تلاش کر رہا ہے لیکن شیو سینا ہو یا منسے ، کانگریس ہو یا عاپ یا سپا اور بسپا ان سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ اصل ہندوتوا پراپرٹی رائٹ بھاجپا کے پاس ہے۔ راہل گاندھی نے جنیو پہن کر اور اکھلیش نے گنگا اشنان کر کے دیکھ لیا تو یہ راج ٹھاکرے کہاں بستا ہے اس کا سیاسی وجود ممبئی میونسپل بی ایم سی میں ایک سیٹ تو مہاراشٹر ودھان سبھا میں زیرو ہے۔ اور اسے جواب دینے کے لئے شیو سینا کافی ہے مسلمان اس میں پارٹی نہ بنیں تو بہتر ہو گا۔