پوپ فرانسس کی عظمت کو بھی سلام کیجیے ـ مالک اشتر

کیتھولک عیسائیوں کے اعلی ترین روحانی قائد پوپ فرانسس 84 برس کے ہیں۔ 2013 میں پوپ نے انکشاف کیا کہ وہ Sciatica نامی طبی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اس پریشانی میں کمر کے نچلے حصے سے لے کر ایک یا پھر دونوں ٹانگوں میں شدت کا درد اٹھتا ہے۔ پوپ فرانسس بھی اس تکلیف سے رہ رہ کر گذرتے رہے لیکن ادھر کچھ مہینوں سے درد بہت بڑھ گیا ہے۔ پچھلے سال کی آخری شام ان کا یہ درد اتنا شدید تھا کہ ویٹکن میں ہونے والی خصوصی سالانہ دعائیہ تقریب میں بھی نہیں جا سکے۔ اگلے دن نئے سال کی دعائیہ مجلس کی صدارت بھی ان کے بجائے ان کے ساتھی علما نے کی۔ کیتھولک عیسائیوں کی روحانی قیادت سنبھالنے کے بعد پوپ فرانسس کی ان دعائیہ تقریبات سے یہ پہلی غیر حاضری تھی۔ پوپ فرانسس پر سائیٹکا کے درد کا حملہ سیدھی ٹانگ میں ہوتا ہے۔ یہ وہ حالت ہوتی ہے جب چلنا تو دور ان کے لئے کھڑے رہنا تک مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی سال 29 جنوری کو رومن روٹا نامی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے اپنی تقریر ان الفاظ کے ساتھ شروع کی کہ ‘میں کھڑے ہوکر آپ سب کو خطاب کرنا چاہتا تھا لیکن سائیٹکا بہت تکلیف دے رہا ہے اس لئے آپ سب سے معذرت کے ساتھ میں بیٹھ کر ہی تقریر کروں گا’۔
6 مارچ کی صبح نجف کی تنگ اور پیچیدہ گلیوں میں پیدل چلتے ہوئے پوپ فرانسس اس مکان میں پہنچے جہاں عراق کے اعلی ترین مذہبی لیڈروں میں سے ایک آیت اللہ علی السیستانی رہتے ہیں۔ ملاقات کو جاتے اور آتے ہوئے پوپ کی تصاویر پوری دنیا میں نشر ہوئیں۔ پیدل چلتے ہوئے پوپ فرانسس کا ایک طرف جھک کر چلنا بتا رہا تھا کہ انہیں اس وقت سائیٹکا کے درد کا سامنا تھا لیکن چہرے پر تکلیف ظاہر کئے بغیر پوپ فرانسس ملاقات کے لئے بڑھتے گئے تاکہ عراقی عیسائیوں پر ہونے والی زیادتیوں کی روک تھام کے لئے بااثر مذہبی رہنما سے بات کر سکیں۔
پوپ اور آیت اللہ کی ملاقات کی تصویریں شیئر کرتے ہوئے بہت سے لوگوں نے اسے آیت اللہ سیستانی کی عظمت سے تعبیر کیا۔ ویٹیکن نے پوپ کے عراق دورے میں اس ملاقات کو جتنی اہمیت دی اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ سفر کا اصل مقصد یہ ملاقات ہی تھی اور اس سے آیت اللہ سیستانی کی اہمیت اچھی طرح ظاہر بھی ہو جاتی ہے۔ البتہ اپنے مذہب کا سب سے بڑا روحانی لیڈر ہونے اور درد کی وجہ سے چلنے میں ہو رہی تکلیف کے باوجود پوپ فرانسس کا تنگ گلیوں کو عبور کرکے پہنچنا بھی پوپ کے پختہ عزم، انکساری اور اچھے اخلاق کا اتنا ہی بڑا اظہار ہے۔
وعظ و نصیحت میں انکساری اور سادگی کا سبق دینا آسان بھی ہے اور سننے میں بھی بھلا لگتا ہے لیکن اس کو زندگی میں اتارنا اتنا ہی مشکل ہے۔ یوں بھی اب تو ایک آسان سی دلیل ہاتھ آ گئی ہے کہ جب بھی واعظین خوش بیان کی چکاچوندھ پر آپ کوئی تبصرہ کریں تو ادھر سے جواب آ جاتا ہے کہ ہم تو یہ پسند ہی نہیں کرتے لیکن کیا کریں کہ مریدین کا دل رکھنے کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ اب یہ وہ تاویل ہے جس پر مزید اعتراض کی گنجائش نہیں ہوتی اس لئے کہ دل رکھنا بھی تو بڑے ثواب کا کام ہے۔
درد کے باوجود پیدل چلتے پوپ کو دیکھ کر خیال ہوتا ہے کہ یہ ظرف اب نایاب ہے۔ جب رکھ رکھاؤ اہل روحانیت کی شان بن جائے تو مرید دل ہی دل میں شکوے سے زیادہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟ میرے ایک دوست نے بتایا کہ اپنے حجرے میں فارغ بیٹھے ان کے جلیل القدر استاد (جو کہ ایک بڑے عالم اور مذہبی ادارے کے سربراہ ہیں) اکثر اپنے سامنے رکھے موبائل کی گھنٹی بجنے پر دوسرے کمرے میں موجود خادم کو طلب فرماتے اور حکم دیتے کہ فون اٹھاکر بولو کہ شیخ ابھی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں آپ دو گھنٹے بعد فون کریں۔
ایسا نہیں ہے کہ ہر طرف یہی تکلفات اور چوبدار کی ‘ہٹو بچو’ کی صدائیں ہوں لیکن یہ رویہ ان اصحاب کی نصیحتوں سے اتنا متصادم ہے کہ دو چار جگہ بھی ہو تو کھٹکنے لگتا ہے۔ یہ المیہ ہی تو ہے کہ چمکیلی مُٹھ والے عصا سے ٹک کر قناعت کی فضیلتیں بیان کی جائیں یا پھر فائیو اسٹار ہوٹل میں رہنے کی شرط پر محرم کی مجلس پڑھنے آیا ذاکر سادگی کی تعلیم دینے کی کوشش کرے۔
سیدھی ٹانگ کے درد کی وجہ سے ایک طرف جھک کر چل رہے پوپ فرانسس کی نجف کی تنگ گلیوں کی تصاویر اس لئے خاص ہیں کہ نہ تو پوپ کوئی سیاستداں ہیں جنہیں ووٹ مانگنے کے لئے دروازے دروازے جانا ہی پڑے اور نہ ہی وہ آیت اللہ سیستانی کے مرید ہیں جو اپنے رہبر کی دست بوسی کے لئے ہر مشکل کو عبور کرتے ہوئے دوڑے چلے جا رہے ہوں۔
پوپ فرانسس مذہبی قیادت کا اعلی ترین منصب پہلے ہی پا چکے ہیں اور ان کی ایسی کوئی بھی مجبوری نہیں تھی کہ انہیں وبا اور سکیورٹی خدشات کے باوجود ہر حال میں ایک جنگ زدہ ملک کا دورہ کرنا ہی پڑے۔ ان سب کے باوجود انہوں نے یہ سب کیا۔ کیوں؟۔
یہ ایک مذہبی قائد کا اپنی برادری کے لوگوں سے اظہار یکجہتی تھا۔ اس کام کے لئے ویٹکن کا کوئی سفیر بھی لگایا جا سکتا تھا جو عراقی حکام سے جاکر مل لیتا اور آیت اللہ سیستانی کے یہاں پوپ فرانسس کا خط دے آتا لیکن ان سب کے بجائے پوپ خود بغداد اور نجف آ گئے۔ یہ فکرمندی کا علامتی اظہار بھی تھا اور اپنے لوگوں کے لئے کمٹمنٹ ظاہر کرنے کی شاندار مثال بھی۔
چلتے چلتے دو باتیں اس پر بھی ہو جائیں کہ پوپ فرانسس نے یہ دورہ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟۔ ایسا کون سا ہدف ہے جس کو پانے کے لئے پوپ نے نجف پہنچ کر آیت اللہ سیستانی سے خود ملاقات کرنا ضروری سمجھا؟۔ دراصل عراق اور شام میں عیسائیوں کو پچھلے لمبے عرصے سے سخت مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ دونوں ملکوں میں برپا خونریزی نے اس طبقہ کے لئے حالات مزید سنگین کر دیئے ہیں ایسے میں ان کے اعلی ترین مذہبی رہنما کا وہاں پہنچ کر بااثر لوگوں سے رابطہ کرنا عراقیوں کے لئے ایک پیغام ہے کہ کیتھولک عیسائیوں کی روحانی قیادت اپنی برادری کے لیے کتنی فکرمند ہے؟۔
عراق میں آیت اللہ سیستانی کو جو مذہبی درجہ حاصل ہے اس کو دیکھتے ہوئے پوپ کی یہ کوشش کچھ نہ کچھ نتیجہ ضرور دے گی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ عراق میں مذہبی عناصر سیاسی عمل کے ساتھ ساتھ با اثر غیر سیاسی تنظیموں کی شکل میں بھی سرگرم ہیں۔ ویسے تو ان تنظیموں میں ایک ہی مکتب فکر کے باوجود کچھ آپسی اختلافات بھی ہیں لیکن آیت اللہ سیستانی کو تقریبا ان سب کے یہاں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس لئے ان کی طرف سے عراقی عیسائیوں کے حقوق اور آزادانہ زندگی پر زور دینے والی بات کی گونج دور تک سنے جانے کا امکان ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*