پوکھر میں سنگھاڑے

نظمیہ مجموعہ :شکیل اعظمی
تاثرات: عبید طاہر (دوحہ قطر)

میں نہیں جانتا یہ شکیل اعظمی کا پہلا مجموعہ ہے یا بیسواں لیکن اس بات کا یقین ہے کہ اگر دس بیس کلیات بھی آجائیں تب بھی اس پوکھر کے سنگھاڑے ہرے کے ہرے رہیں گے اُن زخموں کی طرح جو شاعر کی روح میں زندہ اور اس کے وجدان کا لازمی حصہ ہیں۔ جب جب یہ زخم رستے ہیں پوکھر میں ایک اور سنگھاڑا جنم لیتا ہے، آہوں اور آنسؤوں میں لتھڑی ایک اور نظم وجود میں آتی ہے اور پڑھنے والے کو تار تار کرجاتی ہے۔
شکیل اعظمی آج آسودہ اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں، شہرت بھی ہے اور عزت بھی لیکن ان کے اندر ایک ترسا ہوا بچہ آج بھی بلکتا ہے، اس کی آنکھیں اشکوں کی جھالروں کے پار اپنی خون تھوکتی ماں کو آج بھی بے چارگی سے دیکھتی ہیں، اس کا بچپن آج بھی ننگے پاؤں گاؤں کی پگڈنڈیوں پر مارا مارا پھر رہا ہے، اس کو ماں کی گود کی کمی تڑپائے رکھتی ہے، وہ اپنی ہر کامیابی کے بعد آسمان کی طرف نگاہ اٹھاکر خدا سے کہتا ہے: خدایا یہ نام و نمود، یہ اعزازات اور بلندیاں، سب لے لے لیکن ایک بار ماں کا چہرا دکھا دے، ایک بار ماں کو لوٹا دے؛ میرا جسم تو گرم بھی نہ ہوا تھا کہ تُونے وہ گود ہی چھین لی…. اس پوکھر میں نانی کی لوریاں اور ممانی کی مامتا بھی ہے اور سوتیلی ماؤں کا برا سلوک اور باپ کی مجبوریاں بھی۔
شکیل اعظمی اپنی رومانوی شاعری کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔ فلموں میں ان کے گیت بوڑھوں کو جوان کرجاتے ہیں اور مشاعروں میں ان کے نازک اشعار حاضرین کو اچھلنے پر مجبور کردیتے ہیں لیکن “پوکھر میں سنگھاڑے” کی شاعری بالکل مختلف ہے۔ اس کتاب میں شامل نظمیں شاعر کی آپ بیتی سناتی ہیں اور بیانیہ اس قدر پاورفُل ہے کہ پتھر کی آنکھیں بھیگ جائیں۔ یہ ایک جان لیوا مجموعہ ہے جو پڑھنے والے کو اپنے ساتھ ماں کی لوریوں سے محروم ایک ایسے بچے کے ساتھ گاؤں کے مناظر میں دُھول مٹی کے حوالے کر دیتا ہے جو رو رو کے رُلاتا ہے، جو نہ خود بڑا ہوتا ہے نہ قاری کو بڑا ہونے دیتا ہے، جو کورس میں بٹھا کے سب کو نِہارتا ہے اور پھر بڑی بے رحمی کے ساتھ اپنے زخموں کی پپڑی اکھاڑتا ہے اور نظموں کی شکل میں قطرہ قطرہ خون پڑھنے والوں میں تقسیم کرتا جاتا ہے۔
اس مجموعے کو پڑھنے کے لیے مضبوط دل گردے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ زخموں کو لفظوں میں سلگتا دیکھ سکتے ہیں اور ان کی تپش برداشت کرسکتے ہیں تو “پوکھر میں سنگھاڑے” آپ کے لیے ہے۔

آخری کھلونے کا ماتم

میں سوتیلا بیٹا اپنے باپ کی تیسری بیوی کا
ان تینوں میں پہلے میری ماں آئی
ماں نے مجھ کو جنم دیا
لیٹا
بیٹھا
کھڑا ہوا دیوار پکڑ کر
چلنا جب آیا تو ماں کو روگ لگا
میرے کھلونے سستے اور مٹی کے تھے
کھیل کھیل میں ٹوٹ گئے
باری باری سب کی خاطر رویا میں
لیکن ماں کے مرنے پر میں رویا نہیں
ٹوٹا تھا اور بکھرا تھا
جیسے میرے کھلونے ٹوٹے بکھرے تھے
میرا بچپن میرا آخری کھلونا تھا
جس کی کرچیں اب بھی مجھ میں چبھتی ہیں
اور ٹوٹنے کی آوازیں گونجتی ہیں

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)