پرشانت بھوشن کے خلاف 11 سالہ پرانے توہین عدالت کے کیس میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے مانگی مدد

نئی دہلی:پرشانت بھوشن کے خلاف2009 کے توہین عدالت معاملے میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال کی مدد طلب کی ہے۔ سپریم کورٹ نے وینوگوپال سے اس معاملے پر غور کرنے اور سوال طے کرنے میں مدد کرنے کو کہا ہے۔ واضح رہے کہ پرشانت بھوشن تنازعہ معاملے کی سماعت 12 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔ جسٹس اے ایم کھانویلکر، دنیش مہیشوری اور سنجیو کھنہ پر مشتمل تین ججوں کے بنچ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کیس کی سماعت کی۔واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس ارون مشرا کی بنچ نے معاملے کو چیف جسٹس کے پاس بھیج دیا تھا۔ جسٹس ارون مشرا نے کہا کہ وہ ریٹائر ہو رہے ہیں، ان کا وقت بہت کم ہے۔ اس معاملے کو آئینی بنچ کے پاس بھیجا جانا چاہئے یا نہیں، نیا بینچ فیصلہ کرے گی۔جسٹس ارون مشرا نے کہا تھا کہ ہم اس کیس کو ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن کچھ بنیادی سوالات ہیں کہ اگر آپ کو کسی جج کے خلاف کوئی شکایت ہے تو اس کا طریقۂ کار کیا ہونا چاہئے؟ کن حالات میں ایسے الزامات لگائے جاسکتے ہیں یہ بھی ایک سوال ہے۔ بھوشن کے وکیل راجیو دھون نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو سوال اٹھایا ہے وہ درست نہیں ہے۔ دھون نے تجویز پیش کی کہ توہین عدالت کیس کو بند کیا جائے اور بنچ کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات کو سماعت کے لئے سپریم کورٹ کی بڑی بینچ کو بھیجا جائے۔ وکیل نے دلیل دی کہ بھوشن نے ریٹائرڈ ججوں کے بارے میں کیا کہا تھا، وہ جج اس وقت سپریم کورٹ میں جج کے عہدے پر نہیں تھے، لہذا یہ سپریم کورٹ کی توہین نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ پہلے یہ غور کرنا ضروری ہے کہ آیا اس طرح کا بیان دینے سے پہلے اندرونی شکایت کرنا مناسب ہے یانہیں ؟ 2009 میں گیارہ سالہ قدیم توہین عدالت میں سپریم کورٹ نے پرشانت بھوشن کی صفائی اور افسوس ظاہر کرنے کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ یہ کیس بھوشن کے 11 سال قبل تہلکہ میگزین کو دیئے گئے ایک انٹرویو سے متعلق ہے، جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ہندوستان کے 16 چیف جسٹسوں میں سے نصف کرپٹ ہیں۔ وکیل پرشانت بھوشن کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلانے سے پہلے عدالت فیصلہ کرے گی کہ بھوشن کے لفظ ’’کرپٹ‘‘ کو توہین عدالت سمجھا جائے گا یا نہیں۔ پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ججوں میں بدعنوانی صرف معاشی نہیں ہوتی۔ اپنے عہدے کا غلط فائدہ اٹھانا جیسی بہت سی چیزیںاور اقربا پروری بھی اس کے دائرے میں آتی ہے۔