پروفیسر زبیراحمد فاروقی: ایک کہنہ مشق،مگر گم نام شاعر

 

ڈاكٹر عبدالملک رسول پوری

شعبۂ عربی ذاكرحسین دہلی كالج
malikqasmi@gmail.com

كہاجاتا ہے كہ شاعری خدائی نعمت ہوتی ہے ‏، جو صرف خاصان خداوندی كے حصے میں آتی ہے، یہ انسان كو وہبی طور پر عطا ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت انسان كی فطرت میں موزونیت ودیعت فرمادیتے ہیں تو اس كی زبان سے نكلنے والے جملوں اور كلموں میں ایک طرح كی نغمگی اور غنائیت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ بولتا ہے تو محسوس ہوتا ہے كہ ایک طرح كا كیف آورساز بج رہا ہے‏،جس كی ترنگیں دل سے نكل رہی ہیں اور دل كی گہرائیوں میں سماتی چلی جارہی ہیں۔ وہ لكھتا ہے تو قاری كو محسوس ہوتا ہے كہ وہ كاغذی سطح پر مرتسم نقوش كو نہیں پڑھ رہا ہے؛ بلكہ كسی محفل سماع میں بیٹھ كر سرود و آہنگ سے محظوظ ہورہا ہے،طبیعت كی یہ موزونیت فطری ہی ہوتی ہے؛ گرچہ بسا اوقات ارد گرد كی بكھری ہوئی زندگی اور قدیم شعرا كے دیوانوں كی خواندگی‏، اس موزونیت كو اور بھی صیقل كردیتی ہیں۔
یہ بھی كہاجاتا ہے كہ شاعری دیوانوں كاجام ہوتی ہے‏، جو غم غلط كرنے كے لیے نوش كیے جاتے ہیں۔ ہمارا دل تو یہ مانتا ہے كہ شاعری عشق و محبت كے تخم سے پیدا ہوتی ہے۔ جب آتش دل بھڑكتی ہے تو غزل بنتی ہے جب غم كی لو بڑھتی ہے تو مرثیہ بن جاتی ہے اورجب دل كیف وسرور كےجذبات سے سرشار ہوتا ہے تو حمد اور نعمت كا پیكر بن جاتا ہے۔ عشق اگر مجازی ہوتا ہے تو معشوق كی دراز زلفوں كے سایے میں بیٹھ كر غزل سرائی كی جاتی ہے اور اگر عشق حقیقی ہو تو پھیلی ہوئی كائنات میں حق كے نظارے سے مسحور ہوكر حق كی شان میں حمدیہ قصیدے كہے جاتے ہیں اور محبوبِ حقیقی كے اوصاف بیان كیے جاتے ہیں۔
طبعی موزونیت كے ساتھ ماحول كا جو اثر ہوتا ہے اس میں نصاب كا كافی دخل ہوتا ہے۔ جس طرح كے دواوین آپ كے زیر مطالعہ ہوں گے‏، آپ كی طبیعت میں اسی طرح كی كیفیت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ اگر بحری قیود سے آزاد شاعری كا مطالعہ كریں گے تو آپ كی گفتگو كا ہر جملہ ایک تفعیلیہ كی شكل اختیار كرلے گااور اگر ردیف وقافیہ میں قید‏ شاعری كو اپنا مطمح نظر بناتے ہیں توآپ كا اشہب سخن اسی جولان گاہ میں قلانچیں بھرنے لگتا ہے۔
ادب كی دیوبندی درس گاہ میں قدیم روایتوں كی پاس داری كی جاتی ہے۔ اسلوب كا جائزہ لیں گے تو آزاد شاعری اس كے نصاب كا حصہ ہی نہیں نظر آئے گی ۔اس درس گاہ میں‏، جس طرح آزاد مزاجی اورآزادروی كو انسانی سماج كے لیے مہلك سمجھا جاتا ہے‏، شاید اسی طرح ردیف وقافیہ سے آزادی كو بھی‏، كسی دوشیزہ كی آنچل بیزاری كی طرح بے حیائی تصور كیا جاتا ہے۔ انھیں یہ تسلیم كرنے میں سرمو تردد نہیں كہ آزاد شاعری میں جذبات كی ادائیگی زیادہ بہتر طریقے سےہوجاتی ہے؛ لیكن ساتھ ہی وہ یہ بھی كہتے ہیں كہ شاعری اگر اسی مقصد سے كی جارہی ہو تو اس كے لیے نثری پیرایہ زیادہ بہتر ذریعہ ثابت ہوگا۔ وہ شاعری ہی كیا جس میں نغمگی نہ ہو،وہ زندگی ہی كیا جس میں قیدیں اور بندشیں نہ ہوں۔
اگر معنی ومفہوم میں غور كریں گے تو ظاہر ہو گا كہ اس درس گاہ میں عشق مجازی اورغم عاشقی كو انسانی تہذیب كا مرض تصور كیا جاتا ہے۔ یہاں جو بھی نظر آتا ہے وہ حقیقت كا جامہ زیب كیے ہوتا ہے، یہاں قلموں كی نوک سے حقیقت كے نقوش بنائے اور سنوارے جاتے ہیں، مجاز اور مجازی كیفیات كا گزر بس گاہے گاہے ہی ہوتا ہے۔ طرز نگارش اور معنی ومفہوم كی اس سچی حقیقت كی وجہ سے اس درس گاہ كے ادبی گوشے میں یاتو حمد ونعت كا بے نظیر و بے بہاذخیرہ ملتا ہے یا مرثیوں میں بہنے والے آنسوؤں كا ایک بحر بے كنار۔
پروفیسر زبیر احمد فاروقی ادب كی اسی درس گاہ كے ہونہار سپوت ہیں۔اسی ماحول میں انھوں نے كئی برس گزارے ہوں گے كئی اساتذہ سخن سے متاثر ہوئے ہوں گے۔ دیوان حماسہ كی گھن گرج كانوںمیں گونجی ہوگی اور متنبی كے پر شكوہ الفاظ نے اپنے دام فریب میں بھی جكڑا ہوگا۔ اساتذۂ سخن كی مجلسوں میں نعتیہ قصیدے بھی سنے ہوں گے اور غم یار میں بنائے اور گائے گئے مرثیے بھی كانوں سے ٹكرائے ہوں گے، وہاں انھوں نے یہ بھی سنا‏، پڑھا اور سیكھا ہوگا كہ شاعری اہل علم كا كام نہیں كہ اس كو مشغلہ بنایا جائے، شاعری تو ایک فریب ہے‏، جوعمل سے كورے انسانوں كا میدان عمل ہوتی ہے۔ اسی میدان میں وہ شتر بے مہار كی طرح گھوم پھر كر طول طویل لن ترانیاں مارتے ہیں،ہاں اگر قلب كی ایمانی كیفیات میں كچھ حرارت اور نشاط ہو تو ذہنی ورزش كے لیے ایک مصرع بنا كر دوسرا مصرع جوڑنے میں عقل و خرد كو كام میں لایا جا سكتا ہے؛ مگر یہ نشے كا وہی غیر منصوص حرام حصہ ہوگا، جسے لوگ بیڑی یا سگریٹ كی شكل میں كش لے لے كر استعمال كرتے ہیں۔
ایسا محسو س ہوتا ہے كہ اس درس گاہ كا یہ سبق پروفیسر فاروقی كے ہمیشہ پیش نظر رہا ہوگا۔ورنہ كیا وجہ تھی كہ طبعی موزونیت اور شعر گوئی كی بے پناہ صلاحیتوں كے باوجود شاعرانہ كلام كسی دوشیزہ كے واحد نقرئی طوق یا كسی عارض گلگوں كے دوچار تل یا چاندی كی طشتری میں سجے ہوئے چند گلہائے یاسمین كی طرح کم ہے؟!
البتہ کم ہونے کے باوجود ان کے کلام كا ایک ایک مصرع خود كار طور پر دل كی گہرائیوں تك پہنچ رہا ہے ‏، مانا كہ یہ طوق صرف ایك ہی ہے ؛لیكن یہ دور اور بہت دور سے بھی دیكھا جاسكتا ہے ، اس كی چمک ایک نہیں كئی ایک آنكھوں كو خیرہ كرنے كی صلاحیت ركھتی ہے۔
تاریخ كی ورق گردانی كی جائے تو پروفیسر زبیراحمد فاروقی كا پہلا شاعرانہ كلام ایک مرثیے كی شكل میں دستیاب ہوتا ہےـ جو انھوں نے دور طالب علمی میں اپنے مایہ ناز استاذ كی ناگہانی وفات كے موقع پر نظم كیا تھا۔ہمیں یہ مرثیہ روزنامہ الجمعیۃ كی خصوصی اشاعت حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نمبر كے دوسرے ایڈیشن میں باصرہ نواز ہوا ہے جو 1998 میں شایع ہوا ہے۔ جب كہ اس كا پہلا ایڈیشن 1958 میں شائع ہوچكا تھا۔ 1958 ء میں كہے جانے والے اس مرثیے میں ہر وہ چیز موجود ہے‏، جس سے شاعری كو امتیاز حاصل ہوتا ہے اور شاعر كی تخلیقی صلاحیتوں كا لوہا مانا جاتا ہے۔ لیجیے آپ بھی پڑھیے اور ’’ہونہار بروا كے چكنے چکنے پات‘‘ كا انداز كیجیے:
گلستاں میں عجب افسردگی معلوم ہوتی ہے
پریشاں گل ہیں رنجیدہ كلی معلوم ہوتی ہے
كسی كی موت كی شاید غمی معلوم ہوتی ہے
جو نرگس آج یہ روتی ہوئی معلوم ہوتی ہے
ستارے نوحہ كن ہیں آسماں مصروف ماتم ہے
زمیں پر ایک ہلچل سی مچی معلوم ہوتی ہے
ہر اک لب پر فغاں ہے اور فریادیں ہیں نالے ہیں
جدھر دیكھو صف ماتم بچھی معلوم ہوتی ہے
حسین احمد تمھاری موت سے دنیا كو صدمہ ہے
جہاں میں آج اک بھاری كمی معلو م ہوتی ہے
یہ آج سے تقریبا ساٹھ سال پہلے كا كلام ہے۔ اس سے شاعر كی شاعرانہ خو اور تخلیقی صلاحیت كی پختگی اچھی طرح معلوم ہوتی ہے۔ حالاں كہ شاعر ابھی اپنی عمر كے ابتدائی مرحلے میں ہے ‏،اس نے ابھی اتنی بہاریں ہی نہیں دیكھیں ہیں كہ بہاروں كے حسن اور كیفیات كی پژمردگی كو اچھی طرح محسوس بھی كرسكے ؛لیكن گلستاں كی افسردگی‏، گلوں كی پریشانی اور كلیوں كی رنجیدگی سے خزاں كی كیفیت كا جو نقشہ كھینچا ہے وہ اس بات كا پیشہ خیمہ ہے كہ شعورو ادراک كی پختگی كے بعد جو شاعری ہوگی وہ اردو دبستان كا امتیازی نشان ہوگی، لیكن نہ توشاعر نے اس شاعرانہ خو كو مشغلہ بنایا اور نہ ہی غلم غلط كرنے یا ذہنی ورزش یا محبت و وارفتگی اور احترام و عقیدت كے اظہار كے لیے كبھی اس پیرایہ سخن كو وقتی طور پر سہی سعادت بخشی ‏،جس كا نتیجہ یہ ہوا كہ شاعر كی ہشت پہلو شخصیت كا یہ گوشہ ہمیشہ تاریكی میں رہا. نہ تو لوگ اس سے آشنا ہوئے اور نہ ہی ادبی محفلوں میں شاعر كی بہ حیثیت شاعر شناخت بن سكی. شاید انھوں نے چاہا ہی نہ ہو كہ علمی دنیا میں ان كا تعارف ایك شاعر كی حیثیت سے ہو۔
اس رثائی شہ پارے كے علاوہ ہمارےحیطۂ تقیق میں پروفیسر فاروقی كی ایك آزاد نظم بھی محفوظ تھی‏، جو انھوں نے عربی زبان كے ایک شامی شاعر نذیر العظمۃ كی آزاد عربی نظم كی ترجمانی كے طور پر لكھی تھی۔ یہ نظم ‎عربی شاعری كی نئی آوازیں نامی كتا ب میں موجود ہے، نظم نقل كرنا مضمون كو لایعنی طول دینا ہوگا۔ اہل ذوق كتاب خرید كر محظوظ ہوسكتے ہیں۔ عربی شاعری كی ان نئی آوازوں كو خود پروفیسر فاروقی نے مرتب كیا ہے اور ساہتیہ اكیڈمی نے 2005 ء میں شائع كیاہے۔ عربی شاعری كو اردو كے قالب میں ڈھالنا اور شعر وشاعری كے موضوع پر كتاب مرتب كرنا یقینا شاعرانہ ذوق اور ادبی شوق كی علامت ہے۔ یہ ذوق پروفیسر فاروقی كے اندر بدرجۂ اتم موجود ہے؛ لیكن شاید كچھ بندشیں ہیں جو محترم كی شاعرانہ خو پر قدغن لگائے ہوئے ہیں۔
ابھی حالیہ دنوں میں كورونا كی زہر آلود فضا سے متاثر پروفیسر فاروقی كے ایک عزیز شاگرد پروفیسر ولی اختر ندوی كو ناگہانی طور پر موت نے آدبوچا ‏،توروح فرسا غموں كی تمازت سے شاعرانہ خو پر لگی ‏ضبط كی ساری كڑیاں پگھل گئیں اور دل كےآنسو قلم سے بہہ كر كاغذ پر ایک مرثیہ كی شكل میں مرتسم ہوگئے۔مرثیہ كیا ہے ،جذبات كی عكاسی ہے ‏، شاگرد سے محبت كی ترجمانی ہے‏، ہر سنگ دل كو اشك فشانی پر مجبور كردینے والی غم ناک اور غم انگیز شاعری ہے۔ پڑھیے اور آنسو بہائیے!
كیسے یقین كروں ولی اختر نہیں رہے
رہتے تھے اپنے ساتھ جو اكثر نہیں رہے
جانے سے ان كے علم كی دنیا اداس ہے
وہ بحر آگہی كے شناور نہیں رہے
آنكھیں ہیں اشكبار تو دل سوگ وار ہے
ہر دل كے ہر نگاہ كے محور نہیں رہے
فیضان علم سب كے لیے جن كا عام تھا
تھی جن كی ذات خیر كا مصدر نہیں رہے
بزم ادب تھی نور فشاں جن سے صبح وشام
وہ آسمان علم كے خاور نہیں رہے
شہرت سے بے نیاز مناصب سے بے نیاز
تھے اپنی ذات میں جو قلندر نہیں رہے

پورا مرثیہ ایک درجن شعروں پر مشتمل ہے ‏، طوالت سے گریز كر كے ہم نے صرف نصف حصہ نقل كیا ہے تا كہ مرثیے كی معنویت اور پروفیسر فاروقی كی شاعرانہ پختگی كی عكاسی ہوسكے۔خاور كی نورفشانی سے ہی تاریک بزم كی تیرگی مٹتی ہے اور شہرت و مناصب سے بے نیازی ہی قلندری كہلاتی ہے۔فیضان علم كا تسلسل یعنی چشمۂ دین ودانش ہی خیر كا مصدر ہواكرتا ہے۔ ایك ایك شعر پڑھتے جائیےاورشعری معنویت اور بلاغت كی داد دیتے جائیے ‏، كہیں سے بھی آپ كو یہ نہیں محسوس ہوگا كہ شاعر ایک كم گو ‏،كم سخن اور كسی دوسرے دبستاں كا گل تابدار ہے۔ ہر شعر سے شاعر كی كہنہ مشقی‏، سخن فہمی اور شاعرانہ پختگی آشكارا ہوتی چلی جائے گی۔
عصر حاضر كے انیس كا تازہ مرثیہ ان كے اپنے ہم وطن ہم زباں ہم رتبہ دوست كی خوبیوں كا مظہر ہے.سال رواں كی 22جولائی كو محترم پروفیسر فیضان اللہ فاروقی دنیا دَنی كو چھوڑ ‏،خلد بریں كی طرف رخصت ہوئے تو پروفیسر زبیر احمد فاروقی پرچھائی ہوئی سابقہ غم كی چادر چھٹنے كے بہ جائے اور بھی دبیز ہوگئی۔غموں كی گھٹا ایك بار اور چھائی اور تیرگی اور بھی مزید ہوگئی ۔ دل كیا تھا؟! غموں سے چور‏ ‏، ذہن كیا تھا‏؟! رنج آلود فكروں كی آماج گاہ۔ ایسے میں دل بہلانے كا ایك ہی طریقہ تھا كہ غموں كو كاغذ پر انڈیل دیا جائے۔ انڈیلا گیا اور مرثیہ وجود میں آگیا، پڑھیے اور رویئے!
پھر بزم دوستاں كو رلایا فلک نے آج
پھر اور اک چراغ بجھایا فلک نے آج
تازہ تھا قلب و جاں میں ابھی ایک سانحہ
اک اور تیر دل پہ چلایا فلک نے آج
اک مظہر كمال كہ فیضاں كہیں جسے
وہ مظہر كمال اٹھایا فلک نے آج
وہ اک ستون قصر ادب قصر علم كا
افسوس وہ ستون گرایا فلک نے آج
اک ذرۂ منیر اٹھاكر زمین سے
اپنی جبیں كو خوب سجایا فلک نے آج
كیا شان تھی كہ اہل زمیں كولبھا گئی
كیا بات تھی كہ پاس بلایا فلک نے آج
مرثیے میں صرف آٹھ شعر ہیں لیكن اٹھارہ پر بھاری ہیں۔ ایک ایک شعر دل میں لگی ہوئی آگ میں پك كر‏، نكھر كر منظر عام پر آیا ہے۔ جس سے اثر انگیزی كی صلاحیتیں بھی دوبالا ہوئی ہیں اور پیرایۂ سخن میں بھی كشش پیدا ہوئی ہے۔ مرحوم كے اوصاف حمیدہ كا برجستہ تذكرہ اور ان اوصاف كی واقعیت مرثیے میں حقیقت كا رنگ بھررہی ہے۔ یقینا وہ ایک ایسے ذرۂ منیر تھے جس سے نہ صرف ان كی اپنی دانش گاہ منور تھی؛ بلكہ تمام علمی اور عربی دنیا ان كے نور سے روشنی حاصل كررہی تھی۔ آسمان نے اس ذرۂ منیر كو زمین سے اٹھاكر اپنی پیشانی كا نگینہ بنالیا۔ مرثیے میں شاعری كی جملہ فنی خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جو ہر شعر سے مترشح ہورہی ہیں۔ اگر تخلیق كار نے شاعری كو اپنا شغل بنایا ہوتا تو یقینا وہ شعری دنیا كا ایک ماہتاب بن كر ابھرا ہوتا۔
پروفیسر فاروقی كے ان تین شہ پاروں كے علاوہ یقینا اور بھی تخلیقات ہوں گی ؛ راقم كا مطمح نظر ان كی نگارشات اورتخلیقات كا تحقیقی یا تنقیدی احاطہ نہیں ہے ؛بلكہ ایک پوشیدہ در نایاب كی رونمائی ہے تاكہ اہل علم اور ارباب شعر وادب ان كی اس خصوصیت سے واقف و آگاہ ہوسكیں۔
پروفیسر زبیر احمد فاروقی ہندوستان میں عربی زبان وادب كا آسمان تصور كیے جاتے ہیں۔ وہ سنگ میل نہیں سراپا منزل ہیں۔ اس راہ كا ہر راہی انہی تک پہنچنا چاہتا ہے ۔ ان كی زبان كا ادبی معیار اور ان كی گفتار كا ادبی سلیقہ دونوں اپنے اندر اتنی جاذبیت اور كشش ركھتے ہیں كہ ہر شاگرد و استاذ انہی كو اپنا نمونہ ‏،اسوہ اور مقتدا بنائے ہوئے ہے۔تعلیمی دورانیے میں دارالعلوم دیوبند سے یونیورسٹی تک تمام سندیں انھوں نے امتیازی نمبروں سے حاصل كیں۔ تدریسی عمل سے وابستہ ہوئے تو ایک نہایت محنتی ‏،وقت كے پابند اور طلبہ كوسب كچھ سكھادینے كا جذبہ ركھنے والے استاذ بنے۔ ان كا ہر طالب علم ان كی شفقت ‏،طرز تدریس اور علم كی منتقلی كی بے نظیر صلاحیتوں كی تعریف كرتے نہیں تھكتا ہے۔ وہ ایک ماہر‏، كہنہ مشق اور آزمودہ كار مترجم ہیں‏، ان كے نپے تلے برجستہ ترجمے میں كہیں سے بھی ترجمانی كی جھلک نہیں محسوس ہوتی ہے۔ ان كی تصنیف كردہ كتابیں ان كی زبان كی پاكیزگی كا اعلی مظہر ہیں۔طویل مدت تک جامعہ ملیہ اسلامیہ كے شعبہ عربی كو اپنی گو نا گوں خدمات سے نوازتے رہے ‏، پروفیسر بنے صدر شعبہ رہے اور سبک دوش ہوكر اس وقت سعودی ایمبیسی كے ثقافتی ملحقیہ میں علمی مشیر كی حیثیت سے بر سر عمل ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*