پروفیسر ولی اختر ندوی:رفتید ولے نہ از دلِ ما-ڈاکٹر محمد ابوتراب

سنا تھا کہ جب انسان بہت زیادہ مغموم ہوتا ہے تو غم اس پر سوار ہوجاتاہے، غم اس کو کاٹ کھاتاہے، اسے ڈنک مارتاہے، اسے ٹیس دیتا ہے، اسکی آنکھوں کو اشک بار کرتاہے، اسکی دنیا کو تہ وبالاکر ڈالتاہے، کبھی آنسووں کا وہ طوفان کہ اسکی ہچکیاں بندھ جاتی ہیں اور وہ پھر پرانی یادوں میں کھو جاتاہے۔ دنیا کی ہر نعمت میسر ہونے کے باوجود اسے یہ دنیا سونی سونی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ آج کچھ یہی کیفیت ہم اپنے مشفق و مربی استاذ اور شعبٔہ عربی، دہلی یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسر ولی اختر صاحب کے سانحۂ ارتحال پر محسوس کر رہے ہیں۔ شاید پچھلے بیس برسو‎ں میں یہ وہ پہلا موقع ہے جب میں اتنا ٹوٹا ہوا محسوس کر ربا ہو‏ں‏۔ آپ کا یوں اچانک ہمارے بیچ سے چلا جانا ہمیں بے چین ومضطرب کررہاہے اور کئی دن گذر جانے کے بعد بھی بے اختیار کیفی اعظمی کا یہ شعر ہر وقت ہمارے ذہن و دماغ میں گونج رہا ہے :
رہنے کو سدا دہر میں تو آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
یہ فطری بات ہے کہ جب کوئی انسان داعئ اجل کو لبیک کہتا ہے تو ہمیں بھی کرب و اذیت محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر وہی انسان کوئی قریبی رشتہ دار ہو یا پھر اس سے گہرے مراسم ہوں تو غم کا سہنا کسی کوہ گراں سے کم نہیں ہوتا، پس ِمرگ اس انسان کا وجود یادوں کی ایک دنیا چھوڑجاتاہے، اس کی ہر بات، ہر ادا آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔ اس کی خوبیاں اور اس کے محاسن وکمالات کا تذکرہ دل کے لیے ایک گونہ سکون فراہم کرتا ہے، اس لیے ذیل میں آپ کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں جو میرے تحت الشعور ہیں آپ کے طلبۂ واساتذہ اور محبین ومتوسلین کے لیے صفحۂ قرطاس کے حوالے کر رہاہوں۔
استاذ مرحوم کے بارے میں ہمارے محترم استاذ پروفیسر ایوب تاج الدین (حفظہ اللہ ) کا یہ جملہ نہایت معنی خیز ہے: "ہر ایک کو لگتاتھا کہ وہ ہم سے قریب تھا لیکن وہ سب سے قریب تھا:
مثلِ خورشید ِ سحر فکر کی تابانی میں
شمع محفل کی طرح سب سے جدا سب کا رفیق
میرے ساتھ بھی حضرت استاذ مرحوم کا تعلق بہت ہی مخلصانہ ومشفقا نہ تھا۔ ویسے تو آپ سے میری پہلی ملاقات سنہ 2009 ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک وایوا میں ہوئی، لیکن آپ کوقریب سے جاننے کا موقع اس وقت ملا جب سنہ 2017ء میں دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی میں گیسٹ فیکلٹی کے طور میرا انتخاب عمل میں آیا اور وباں مجھے دو سالوں تک تدریسی خدمت انجام دینے کا موقع ملا۔ وباں کے خوشگوار علمی ماحول میں شعبہ کے دیگر مشفق اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ آپ سے بھی استفادے کا خوب خوب موقع حاصل رہا، جس کے لیے وہاں کے تمام اساتذہ کا ميں ممنون ومشکورہوں۔ تعلیمی امور کے سلسلہ میں استاذ مرحوم سے نئی نئی چیزیں سیکھنے کو ملتی رہيں۔ آپ کبھی عربی ‌زبان کے قواعد، کبھی علم بلاغت اور کبھی ترجمے اورکبھی اصولِ ریسرچ وتحقیق کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار فرماتے ۔ آپ نے ہمیشہ میری ہمت افزائی کی اور علم وتحقیق کے میداں میں نئے گوشوں پرکام کرنے کا مشورہ دیا۔ مجھے وہاں رہتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ آپ نہایت قابل استاذ، ا پنے اصولوں کے پابند، ایک کامیاب مصنف، حاذق ناقد، ادب و بلاغت کے رمزشناس، اہل علم کے قدردان، قابل رشک والد، انتہائی مخلص اور ملنسار انسان ہیں۔ جہد مسلسل، شرافت ومحبت، حق گوئی وبےباکی، خودداری وخورد نوازی ،خوش اخلاقی و سادگی اور دیانت ودینداری آپ کی شخصیت کے نمایاں عناصر ہیں۔ آپ اِنہی گوناگوں صفات کی وجہ سے اپنے معاصرین میں ممتاز اور اپنے اساتذہ وطلبہ کے محبوب نظرتھے۔آج کے اس قحط الرجال کے دور میں ایسی علمی اور بے لوث شخصیات خال خال ہی نظر آتی ہیں:
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
آپ ایک مخلص استاذ کے طور پر درس تدریس کے باوقار پیشہ سے منسلک رہے اور پڑھنے لکھنے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا- آپ ہمیشہ تصنیف و تالیف میں بھی لگے رہے۔ آپ کی چند نمایاں تصنیفات میں مندرجہ ذیل کتابیں بہت اہم ہیں: تعلیم اللغة العربية: طريقة عملية: یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے، اس میں عربی زبان کے بنیادی قواعد کوسہل انگریزی زبان میں پیش کیا گیا ہے۔ تیسیر الصرف: یہ کتاب بھی عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں موجود ہے جو عربی زبان کے شائقین کے لئے ایک انمول تحفہ ہے۔ اسی طرح حالیہ دنوں میں زیور طبع سے آراستہ ہوکر آنے والی کتاب "My Arabic Reader” بھی ابتدائی مراحل کے طلبہ کے لئے انتہائی مفید ہے۔
اس میں کو‏ئی شک نہیں کہ یہ دنیا عبرت گاہ ہے، دارالامتحان ہے، آج جو یہاں بوئے گا ، وہی وہاں کل کاٹے گا۔ خوش بخت ہیں وہ لوگ جو رب کریم کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر چلے جاتے ہیں، جو نہ صرف اپنے لیے جیتے ہیں، ہلکہ دوسروں کے لیے بھی اپنے آپ کو نچھاور کرنے میں سکون محسوس کرتے ہیں، ہمارے استاذ مرحوم بھی اس خوبی کے ساتھ متصف تھے۔ آپ میں غریب پروری اور انسانیت نوازی کا عنصر بہت نماں تھا ، وہ ہمیں اپنی عملی زندگی سے یہ سبق دے کر چلے گئے:
بارے دنیا میں رہو غمزدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
انہوں نے ہمیں جھنجھوڑکر بتلا دیا:
فرصتِ کار فقط چار کھڑی ہے یارو
یہ نہ سمجھو کہ ابھی عمر پڑی ہے یارو
شاید بات طویل ہو چلی ہے، باتیں بہت سی ہیں اور یادیں بھی، جن کے بارے ميں بہت سے اصحاب قلم لکھ رہے ہیں اور آئندہ بھی لکھتے رہیں گے، لیکن آخر میں چند بہت خاص باتیں جو میرے علم میں ہیں آپ کے سپرد کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ میں نے نسبتاً مختصر مدت میں آپ سے بہت کچھ سیکھا، آپ نے حقیقت پسند اور حق شناس انسان بننے کے لیے ابھارا۔ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا، میں بلا تامل آپ سے پوچھ لیتا۔ آپ کےعلمی انہماک کا اندازہ ا س بات سے لگائیے کہ چھ (6) جون کو جب کہ آپ کی طبیعت کافی ناساز ہو چکی تھی اور شاید آپ آئی سی یو میں داخل بھی ہو چکے تھے، عارضہ لاحق ہونے کا علم نہ ہونے کی وجہ سے ، ایک لفظ کی تحقیق کے لیے میں نے آپ کوایک ٹکسٹ میسیج بھیجا، تو شام 6:25 پر نہ صرف یہ کہ آپ کا جواب آیا بلکہ اسکی تحقیق کے لیے آپ نے ایک اسکرین شاٹ بھی ارسال کیا۔ اسے علم دوستی نہیں تو اور کیا کہیں گے؟ دوسری اہم بات پورنیہ یونیورسٹی میں شعبۂ عربی کے قیام کے تعلق سے ہے۔ اس مقصد کے لیے آپ ہی نے سب سے پہلےعزت مآب وائس چانسلر کے نام ایک لیٹر ڈرافٹ کر کے بھیجا اور مثبت جواب موصول ہونے پر بے انتہا خوش ہوئے، آپ کی خوشیوں سے یہ جھلک رہاتھا:
اپنا تو کام ہے کہ جلا تے چلو چراغ
رستے میں خواہ دوست یا دشمن کا گھر ملے
میں سمجھتا ہو ں کہ اگر اجتماعی اورانفرادی کوششوں سے اس کام کو پایۂ‌ تکمیل تک پہنچا دیا جائے، تو یہ بھی آپ کے حق میں ایک خراج عقید ت ہوگا۔ سولہ (16) مارچ کو آپ نے مجھے یادکیا ، تو میں گھر پر حاضر ہوا ، آپ کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ آپ کے حالیہ دنوں کے عزا‏ئم میں تین چیزیں ترجیحی بنیادوں پر شامل ہیں (1) قرآن پروجکٹ جس میں دوسرے احباب کے ساتھ میں بھی سر کے ساتھ شامل تھا۔ (2) ایڈوانسڈ لیول کے طلبہ کے لیے "مائی عربک ریڈر” کی دوسری جلد تیار کرنا اور غالبا آپ نے اس پر کام بھی شروع کردیا تھا (3) آپ بیس پچیس طلبہ کی کیپی سٹی والا ایک انسٹی ٹیوٹ بھی قا‏ئم کرنا چاہتے تھے جس کا مقصد مدارس اسلامیہ کے چنندہ طلبہ کو انگریزی زبان میں مہارت کے ساتھ ساتھ اعلی سطحی امتحانات کی تیاری کرانا تھا۔ اس مقصد کے لیے آپ سو (100) گز کے فلیٹ کی تلاش میں تھے۔ جب آپ نے پہلی بار گھر بلایا تھا ، تو آپ کی سادگی دیکھ کر مجھے بڑا رشک آیا تھا ، ایک چھوٹا سا کمرہ ، ایک کرسی اورا یک ٹیبل جس پر ایک کمپیوٹر رکھا ہوا، نیچے بستر لگا ہوا ، نہ کوئی صوفہ اور نہ ہی وہ عیش وعشرت کےوہ سامان جس سے عام طور سے لوگ اپنے ڈرائنگ روم کو سجایا کرتے ہیں ، بالکل ایک طالب علمانہ زندگی ، زیرلب مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے ” یہیں بیٹھ کر میں کام کرتا ہوں”۔ آپ مجھے اکثر خود ہی کال کر لیا کرتے تھے، فون پر آپ سے میر ی آخری بات چیت دو (2) جون کو ہوئی ۔ شام 8: 20 کا وقت تھا کہ جب میرے فون کی گھنٹی بجی، دیکھا تو سر کا نمبر تھا آپ سے تقریبا آٹھ منٹ بات چیت ہو‏ئی ، دوران گفتگو کہنے لگے ، یہ کیسا زمانہ آ گیا ، یہ محبوس زندگی کوئی زندگی ہے؟ میں چلنے پھرنے والا آدمی، اب گھٹن محسوس ہونے لگی ہے۔ یہ جو ویبینار وغیرہ چل رہا ہے ، اسی سے کچھ دل بہل جاتاہے۔بہرحال نو (9) جون کی شام، یہی کچھ سا‎ڑھے پانچ چھ کے درمیان کا وقت ربا ہوگا کہ جب مجھے الشفاء ہسپتال میں آپ کی آخری دیدار کا موقع ملا، ابھی کچھ ہی لمحے گذرے تھے کہ پتہ چلا کہ اب آپ اس دنیا میں نہیں رہے:
حیف! در چشم زدن صحبت یار آخر شد
روئے گل سیر نہ دیدم کہ بہار آخر شد
آپ نے ہم سے یوں کہتے ہوئے ملک عدم کے لیے رخت سفر باندھ لیا:
کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کہ چلا ہوں
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
آپ کی وفات پرملال سے عربی زبان وادب سے وابستہ افراد ایک گوہر نایاب سے محروم ہوگئے ہیں ۔ آج آپ ہمارے بیچ نہیں ہیں، لیکن آپ کی یادیں ہیں، آپ کی انمول باتیں ہیں اور آپ کے انمٹ علمی نقوش ہیں، جس سے ہم تادیر استفادہ کرتے رہیں گے:
تیری صدائیں ہیں چار سو بکھری ہوئیں
تیری تلاش میں نگاہ پریشان بہت ہے
میں آپ کے اہل خانہ کے جملہ ممبران کی خدمت میں ان الفاظ کے ساتھ تعزیت پیش کرتا ہوں ۔ رب کریم آپ کی بال بال مغفرت فرمائے، اعلی علیین میں جگہ عطا فرما‏ئے ، ہمیں اور جملہ پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین!

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*