پروفیسر ولی اختر ندوی کے سانحۂ ارتحال پرورچوئل تعزیتی نشست

نئی دہلی:پروفیسر ولی اختر ندوی کا سانحۂ ارتحال عربی زبان وادب کاعظیم خسارہ ہے، وہ ایک ممتاز ومقبول معلم اور کامیاب مصنف ہونے کے ساتھ،نہایت خلیق انسان تھے، وہ جہاں طلبہ کے درمیان مقبول ترین استاذ تھے، وہیں ملک بھرکی جامعات میں عربی زبان وادب کے اساتذہ کی نگاہ میں بھی اپنی اصول پسندی اور علم دوستی کے لیے مشہور تھے۔وہ زمانۂ طالب علمی سے ہی اپنی ذہانت وفطانت اور علمی وتحقیقی کاموں میں دلجمعی کے لیے ممتازومنفرد شناخت رکھتے تھے۔ان خیالات کا اظہار سعودی کلچرل اتاشی کے علمی مشیر پروفیسر زبیر احمدفاروقی، سابق صدر شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی نے پروفیسر ولی اختر ندوی،سابق صدر شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی کے سانحۂ ارتحال پر منعقدہ ورچوئل تعزیتی میٹنگ میں صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کیا،انھوں نے کہا کہ پروفیسر ولی اختر کا علمی سفر نہایت قابل رشک رہا، وہ ہمیشہ علم وادب کی انجمنوں میں شرکت کرتے رہے اوراس دوران انھوں نے تصنیف وتالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا، ان کی درسی کتابیں ملک کی متعدد جامعات میں داخل نصاب ہیں۔ان کی وفات سے علمی دنیا کا ایک عظیم خسارہ ہواہے۔آل انڈیا ایسویسی ایشن آف عربک ٹیچرس اینڈ اسکالرس کے صدر پروفیسر حبیب اللہ خان نے پروفیسر مرحوم کی ممتاز خوبیوں کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ وہ نفع رسانی میں عمومیت کے قائل تھے،ان کا مطمح نظر یہ ہوتاتھا کہ کوئی بھی اچھا کام صر ف وہ خود تک محدودنہ رکھیں۔،وہ دوسروں کو بھی ترغیب دیتے کہ میں یہ کررہا ہوں آپ بھی کیجیے یا آپ کو بھی کرنا چاہیے۔ دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی کے صدر پروفیسر محمد نعمان خان نے پروفیسر مرحوم کی گوناگوں خصوصیات وامتیازات کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی نبھاتے رہے، وہ درس وتدریس کے ساتھ تصنیف وتالیف میں بھی مشغول رہے۔اللہ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری پروفیسر رضوان الرحمن چیئرپرسن سینٹر آف عربک اینڈ افریکن اسٹڈیز جے این یونے ورچوئل تعزیتی میٹنگ کی نظامت کرتے ہوئے پروفیسر مرحوم کے ساتھ اپنے گزرے ہوئے حسین لمحات کا اعادہ کیا۔ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر انڈیا عرب کلچرل سینٹر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈائریکٹرپروفیسر محمد ایوب ندوی، پروفیسر عبد الماجد قاضی، ڈاکٹر فوزان احمد، ڈاکٹر محفوظ الرحمن، اساتذہ شعبہ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی،پروفیسر کفیل احمد قاسمی،سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹ اے ایم یو، پروفیسر فیضان بیگ،پروفیسر اشارت علی ملا،کولکاتا یونیورسٹی، پروفیسر شاد کشمیر یونیورسٹی، پروفیسرمسعود عالم فلاحی صدر شعبہئ عربی خوااجہ معین الدین چشتی بھاشایونیورسٹی، لکھنؤ،ڈاکٹر صابر نواس، ڈائریکٹر اکیڈمی آف ایکسیلینس کیرلا، ڈاکٹر مزاج الرحمن تعلقدار گوروبنگا یونیورسٹی، مالدہ، بنگال،ڈاکٹرمحمد قاسم عادل ذاکر حسین دہلی کالج،ڈی یو، ڈاکٹر ریحان قاسمی بنارس ہندو یونیورسٹی کے علاوہ متعدد یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے تعزیتی کلمات پیش کیے۔اس موقع پر المنظمۃ العالمیۃ للابداع لاجل السلام لندن کی طرف سے انڈیا برانچ کے صدر پروفیسر مجیب الرحمن نے پروفیسر ولی اختر کے نام سے موسوم سالانہ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔اس میٹنگ سے ڈاکٹر سید حسنین اختر، ڈاکٹر نعیم الحسن اثری،ڈاکٹر مجیب اختر،ڈاکٹر محمد اکرم، ڈاکٹر اصغر محمود، اساتذۃ ڈی یو، پروفیسر مجیب الرحمن، ڈاکٹر محمد قطب الدین،ڈاکٹر عبید الرحمن طیب،ڈاکٹراختر عالم،ڈا کٹر زرنگار،اساتذہ جے این یو، ڈاکٹر ظفیر الدین،ڈاکٹر عبد المک، ڈاکٹر عامر جمال،اساتذہ ذاکر حسین دہلی کالج، ڈاکٹر جسیم الدین، آصف اقبال، ڈاکٹر تابش خان، ممبئی یونیورسٹی کے علاوہ متعددجامعات کے اساتذہ وابستہ رہے۔ اخیر میں پروفیسر زبیر احمد فاروقی کے دعائیہ کلمات کے ساتھ تعزیتی نشست اختتام پذیر ہوئی۔