پروفیسر مختار شمیم کی وفات پر تعزیتی نشست کا انعقاد،:پروفیسر خالد محمود ودیگر کا اظہارِ خیال

 

سرونج(استوتی اگروال)انتساب پبلی کیشنز اور سد بھاؤنا منچ کی جانب سے پروفیسر مختار شمیم کی یاد میں تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔جلسے کی صدارت دہلی سے تشریف لائے مشہور ادیب،نقاد ومترجم اور دہلی اردو اکیڈمی کے سابق وائس چیئرمین پروفیسر خالد محمود نے فرمائی۔مہمانِ خصوصی کے طور پر معین الدین انجم نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ظفر سرونجی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ پروفیسر خالد محمود نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختار شمیم ایک درخشاں ستارے کا نام تھا جو اب ٹوٹ چکا ہے۔ شمیم اور میں ایک دوسرے کی خوبیوں کے ساتھ خامیوں سے بھی بخوبی واقف تھے۔ جہاں تک میرا ماننا ہے جتنے قریب سے سرونج والے مختار شمیم کو جانتے ہیں اتنے قریب سے انھیں کوئی نہیں جانتا اور سیفی سرونجی نے تو ان پر سب سے زیادہ کام کیا ہے۔’مختار شمیم: ایک مہربان دوست‘ کے عنوان سے نہ صرف ایک بہترین کتاب لکھی،بلکہ ’انتساب‘ کا بہترین نمبر بھی شائع کیا۔ سد بھاؤنا منچ کے صدرانل اگروال نے کہا کہ پروفیسر شمیم سے میرے بھی ذاتی تعلقات تھے،اللہ انھیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ،دوستوں اور شاگردوں کو صبر عطا کرے۔ معین الدین انجم نے منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ڈاکٹر سیفی سرونجی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر مختار شمیم کو نظم کے ساتھ نثر پر بھی عبور حاصل تھا۔ مختار شمیم نے ہی میرے اندر تنقیدی کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا کیا۔ میری لائبریری میں سبھی شاعروں ادیبوں کی بیٹھکیں ہوتی تھیں۔ شاہد میر، وقار فاطمی، خالد محمود، اسماعیل ذبیح وغیرہ آتے اور دن رات شعر و ادب کی باتیں ہوتیں۔ایک مرتبہ اسماعیل ذبیح آئے تو مختار شمیم ایک خط ساتھ میں لائے جس میں شمیم صاحب نے یہ پیشن گوئی کی کہ سیفی سرونجی کی اگر صحیح طریقے سے رہنمائی کی گئی تو ایک دن سرونج کا بڑا نام کرے گا۔استوتی اگروال نے کہا کہ پروفیسر مختار شمیم نے نہ صرف میری حوصلہ افزائی فرمائی بلکہ میرا سب سے پہلا خط ’اردو ہلچل‘ میں original رائٹنگ میں شائع کیا اور وہیں سے میرا چھپنے کا سلسلہ جاری ہوا۔ وہ نہایت ہی ہمدرد شخصیت کے مالک تھے۔ اگر تحقیق کی بات کی جائے تو مختار شمیم نے اتنا کچھ لکھا ہے جو اردو ادب کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ حافظ اسعد ہاشمی نے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختار شمیم بہت اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک انسان تھے۔ ان کی ادبی خدمات روشن ستارے کی طرح ہمیشہ صاحب علم و فن کے لیے مثال ہیں۔ انھوں نے سرونج سے رسالہ’راہی‘ بھی جاری کیاتھا جس کی کتابت کے فرائض بھی وہ خود انجام دیتے تھے۔ظفر سرونجی نے کہا کہ یوں تو پروفیسر مختار شمیم تحقیق، تنقید، افسانے، غزل،نظم اور تقریباٌ ادب کی ہر صنف میں شناخت رکھتے تھے، مگر اردو ادب میں ان کی شہرت ان کی نثر سے ہی ہوئی۔ صمد اقبال نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے اور کہا کہ میں نے باقاعدہ پی ایچ ڈی ہی پروفیسر شمیم کی نگرانی میں کی ہے،اُسی دوران ان کے ساتھ کافی وقت گزرا۔ سامعین کے طور پر شان فخری، عمر میاں،عبدا لصبور خان، عبدالسبحان منصوری،آفاق سیفی، عارف غوری، باصر سرونجی، حنیف درد،حامد سرونجی،نعیم غوری،نعمان خان موجود تھے۔مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کے بعد جلسے کا اختتام ہوا۔