پروفیسر محمد حسن کی تخلیقی جہات کا آئینہ:محمد حسن کے ڈرامے


ڈاکٹر مشتاق احمد
پرنسپل، سی ایم کالج ،دربھنگہ
ہندوستانی جامعات میں جن اساتذہ نے اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی اور اپنے موضوعاتی مطالعے کے علاوہ دیگر موضوعات میں بھی اپنی دانشوری کا لوہا منوا یا ان میں پروفیسر محمد حسن کی نمایاں حیثیت ہے ۔ پروفیسر حسن ملک کی تاریخی دانش گاہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، دہلی میں اردو کے استاد تھے لیکن بین الاقوامی سطح پر ان کی شناخت ایک فعال ومتحرک سماجی مفکر اور مصلح کی تھی،کہ انہوں نے خود کو صرف اور صرف اردو زبان وادب تک محدود نہیں رکھا تھا بلکہ ان کی فکر ونظرکادائرہ انسانی معاشرے کے مسائل سے وابستہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیائے ادب وثقافت میں پروفیسرمحمد حسن کو ایک ہمہ جہت شخصیت کے طورپر تسلیم کیا گیا اور ان کے افکارونظریات کو فلاح وبہبود بشر کے لئے نسخۂ کیمیا قرار دیا گیا ۔ان کی حیات میں بھی ان پر بہت کچھ لکھا گیا اور بعداز مرگ بھی ان کے کارہائے نمایاں پر لکھنے کا سلسلہ جاری ہے ۔
اس وقت میرے پیشِ نظر ’’محمد حسن کے ڈرامے‘‘ (کلیات) مرتب پروفیسر انور پاشا ہے۔ پروفیسر پاشا کی شخصیت بھی عصری ہندوستانی ادب میںکسی تعارف کی محتاج نہیں ہے کہ انہوں نے بھی حالیہ تین دہائیوں میں اپنی تعمیری فکر ونظر اور سماجی سروکار پر مبنی تحریروں کے ذریعہ اپنی دانشورانہ شناخت قائم کی ہے۔ پروفیسر پاشا نے اس کلیات کے ذریعہ نہ صرف پروفیسر محمد حسن کو ایک علمی خراجِ عقیدت پیش کی ہے بلکہ پروفیسر محمد حسن کی تخلیقی شخصیت کو بھی عام کرنے کا تاریخی فریضہ انجام دیا ہے۔ نئی نسل پروفیسر محمدحسن کی تنقیدنگاری سے تو واقف ہے لیکن ان کی دیگرتخلیقی جہتوں اور دانشورانہ فکر سے کما حقہٗ واقف نہیں ہے اس لئے ڈرامے کی یہ کلیات ان کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتی ہے کہ وہ بیسویں صدی کے ایک ممتاز ادیب ، شاعر ، ناقد ،محقق ، صحافی اور تحفظِ انسانیت کے ایک عظیم علمبردار کے کارناموں سے آشنا ہو سکے گی۔پروفیسر پاشا نے اپنے پر مغز مقدمہ میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے :
’’پروفیسر محمد حسن عام طورسے ادبی دنیا میں ایک منفرد وممتاز ناقد کی حیثیت سے زیادہ مشہور ومعروف ہیں لیکن ان کے تخلیقی جوہر اور خلاقانہ صلاحیتوں کے تعلق سے خاص کربطور ڈرامہ نگار ان کی خدمات اور قدر ومنزلت کچھ کم نہیں۔ یہ لازم نہیں کہ بڑا ناقد بطور تخلیق کار بھی یکساں مقام ومرتبے کاحامل ہو لیکن پروفیسر محمد حسن کی ذاتِ گرامی اس ضمن میں استثناء کا درجہ رکھتی ہے ۔ انہوں نے تنقید نگاری کے ساتھ ساتھ بطور تخلیق کار ڈرامہ نگاری کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں ۔ انہوں نے نہ صرف ڈرامہ نگاری کی تاریخ میں ممتاز مقام حاصل کیا بلکہ اردو ڈرامے کو بھی اعتبار ومقام عطا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ‘‘۔ ( ص: ۱۱)
بلا شبہ ڈرامہ ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعہ فنکار نہ صرف اپنی فنکارانہ صلاحیت کو اجاگرکرتا ہے بلکہ اپنی ذہنی روش کی آئینہ داری بھی کرتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یونانی ادب میں ڈرامے کو غیر معمولی اہمیت دی گئی تھی۔ افلاطون نے تو ڈرامے کو ہی تمام علوم وفنون کا آمیزہ قرار دیا تھا ۔چوتھی صدی قبل مسیح تک ڈرامے کو ہی ادب کا اعلیٰ نمونہ سمجھا جاتا رہا اور بعد کے دنوں میں ادبی تنقید کا چراغ بھی اسی ڈرامے سے روشن ہوا ۔
ارسطوفانیزؔ(Apistophanes)نے یہ قبول کیا ہے کہ ڈرامے کی بدولت ہی یونان میں ادبی تنقید کا آغاز ہوا اور آگا تھون (Agathon) نے بھی فنِ ڈرامہ کو کائناتی صنف کا درجہ دیا تھااور اس نے یہ وکالت کی تھی کہ ڈرامہ کے ذریعہ ہی ادبی تنقید کا جنم ہوا ہے ۔
بہر کیف!اس کلیات کے مطالعے سے پروفیسر محمدحسن کی ڈرامہ نگاری کے موضوعات سے آگاہی بھی ہوتی ہے اور یہ نتیجہ اخذ کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ ان کا تصورِ ادب اور تصورِ زیست کیا تھا۔ وہ ڈرامے کے ذریعہ انسانی معاشرے کو کون سا پیغام دینا چاہتے تھے اور ان کی نگاہ میں اخلاقی اقدار کی کیااہمیت تھی۔ پروفیسرمحمدحسن کے اس اقتباس سے ان کا مکمل ضابطۂ حیات عیاں ہوجاتا ہے:
’’آج کے ہندوستانی سماج کے پاس آدرش کی روشنی کم ہے اور عملی اور مادی آسودگی کے آگے سرتسلیم خم کرنے کی کمزوری بہت زیادہ ہے۔ جھوٹی حقیقتوں کو ایک ملازمت ، ایک وردی اور ایک جوڑا سفید کپڑے کو زندگی کو خوبصورت بنانے کے سارے تصورات سے اعلیٰ سمجھا جانے لگا ہے ۔ہمارے سماج نے انسان کو مکر کی کرسیوں، دفتر کی میزوں اور جگمگاتی جاگتی سڑکوں کی گرد گم کردیا ہے ۔ ہم سب آہستہ آہستہ روپیہ اور سستی آسودگی کی تلاش میں افتاں وخیزاں ہیں اور اس چاندی کے ٹکڑے کے گرد انسان کا ضمیر ، اس کے خواب اور اس کی ساری جذباتی زندگی گھوم رہی ہے‘‘۔(محمد حسن۔ دیباچہ ’’پیسہ اور پرچھائیں ‘‘ ۔ ۱۹۵۵ء)
پروفیسر انورپاشا نے صحیح لکھا ہے کہ :
’’ڈرامہ نگاری کے میدان میں قدم رکھنا پروفیسر محمد حسن کے لئے محض تفریحِ طبع کا وسیلہ نہ تھا ۔ وہ ایک بیدار مغز نوجوان تھے اور عصری ادبی ، ثقافتی ، سماجی وسیاسی صورتحال پر نہ صرف گہری نظر رکھتے تھے بلکہ عصری حالات کو بدل کر ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کا خواب اور عزم بھی رکھتے تھے۔یہی سبب ہے کہ انہوں نے ڈرامہ نگاری کو محض اپنی ذات کے اظہار کا وسیلہ نہیں بنایا بلکہ اسے اجتماعی زندگی کا ترجمان اور عصری مسائل وبحران کا عکاس بنانے کی سعی کی ‘‘۔ (مقدمہ۔ ص:۱۳)
پروفیسر محمد حسن نصف صدی تک اپنے تخلیقی اثاثوں سے جہانِ ادب کو زرخیزی عطا کرتے رہے ۔ خواہ ان کی نثری تحریریں ہوں کہ منظوم شہ پارے،ہر جگہ ان کی دانشوری کی شمع روشن دکھائی دیتی ہے اور اس روشنی میں صرف اور صرف اس شخص کی تصویر نظر آتی ہے جوہمارے سماج میں حاشیے پر کھڑا ہے۔ ان حاشیائی کرداروں سے نہ صرف ہمدردی اور حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے نسخے تجویز کئے گئے ہیں بلکہ عملی طورپر سرگرم ہونے کی تلقین بھی کی گئی ہے تاکہ حاشیائی طبقے کی زندگی میں انقلاب آسکے اوروہ مساواتی زندگی کی حقدار بن سکے۔پروفیسر محمد حسن کے ڈراموں میں کہیں بھی افہام وتفہیم کا مسئلہ درپیش نہیں ہوتا ، وہ موضوع کے انتخاب کے ساتھ ساتھ طرزِ اظہار پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنے نظریۂ حیات کو پیش کرنے کی ہر وہ ممکن کوشش کرتے ہیں جس سے مخاطب کے ذہن میں ایک کوند سی پیداہو جائے ۔پروفیسر انور پاشا نے اس نکتے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے :
’’پروفیسر محمد حسن فن کو انسان کی قلب ماہیت کا اہم ترین وسیلہ تصور کرتے ہیں ۔ وہ مداری کی طرح تماشا دکھانے کو فنکاری نہیں گردانتے بلکہ وہ فن کے بطن سے نئی کائنات کی تخلیق کا تقاضا کرتے ہیں ۔ وہ کائنات جو گمشدہ ہے یا جس کی دریافت ہنوز باقی ہے ‘‘۔
پیشِ نظر کلیات میں ان کے تمام ڈراموں کو یکجا کیا گیا ہے اور ان ڈراموں پر تبصرہ بھی کیا گیاہے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پروفیسر محمدحسن نے اسٹیج ڈرامے بھی لکھے اور ریڈیائی ڈرامے بھی ۔ان کے درجنوں ڈرامے اسٹیج کئے گئے اور فن اور تکنیک دونوں اعتبار سے ارد و ڈرامہ نگاری کے باب میں اضافے تسلیم کئے گئے ۔ پروفیسر انور پاشا نے اپنے بائیس صفحات پرمشتمل پر مغز مقدمہ میں پروفیسرمحمد حسن کی تخلیقیت اور ان کے افکار وتصورات پر بھرپور روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے کہ اس کلیات کے ڈرامے اردو ڈرامے کی تنقید کے لئے نئے دروا کرتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پروفیسر محمد حسن کے ڈراموں کا مطالعہ صرف ادبی اور فنّی نکتے سے نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ عصری سیاسی ، سماجی اور مذہبی سیاق وسباق میں بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ پروفیسر محمد حسن کے افکار ونظریات کی دنیا کسی خاص خطے یا جغرافیائی حدو د تک محدود نہیں ہے ۔یہ کتاب عرشیہ پبلی کیشن نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے ۔ اس دیدہ زیب 931صفحات پر مشتمل ادبی خزینے کی قیمت ایک ہزارروپے ہے ۔ میرے خیال میں ۲۰۱۹ء میں شائع ہونے والی یہ کلیات اردو زبان وادب کے سنجیدہ قارئین کے لئے ایک بڑا علمی وادبی تحفہ ہے۔اردو ادب کے سنجیدہ حلقے میں پروفیسر انور پاشا کی اس علمی کاوش کو قبولیت حاصل ہوگی کہ یہ ادبی کارنامہ تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔بالخصوص ڈرامائی ادب پر تحقیق کرنے والوں کے لئے یہ کتاب حوالہ جاتی کتب کے ساتھ ساتھ مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)