پروفیسر اشتیاق احمد ظلی کی قرآنی خدمات-ابوسعد اعظمی

فارغین مدرسۃ الاصلاح کے اہل قلم افراد کی فہرست سازی کی جائے تو ان میں دو طرح کی شخصیات نظر آتی ہیں۔ایک قسم میں وہ شخصیات شامل ہیں جنہوں نے قلم کا خوب استعمال کیا اور مختلف موضوعات پر اپنی نگارشات پیش کرتے رہے۔ان میں سر فہرست امین احسن اصلاحیؒ کا نام نامی ہے۔اس کے بعد مولانا صدر الدین اصلاحیؒ، ڈاکٹر شرف الدین اصلاحیؒ، مولانا ضیاءالدین اصلاحیؒ، انور اعظمیؒ، مولانا وحید الدین خاں،مولانا محمد یوسف اصلاحی، مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ، پروفیسر الطاف احمد اعظمی، پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی،ڈاکٹر محمد اجمل ایوب اصلاحی، پروفیسر ابوسفیان اصلاحی اور ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی وغیرہ کے اسماء گرامی شامل ہیں۔ دوسری قسم میں وہ شخصیات شامل ہیں جنہیں سربمہر خزانہ کی حیثیت حاصل ہے۔انہوں نے دعوت وتبلیغ، درس وتدریس، قومی وملی اور افراد سازی کی گراں قدر خدمات انجام دی۔ قلم وقرطاس سے بھی ان کا رشتہ استوار رہا لیکن ان کی علمی قدر ومنزلت سے واقف اشخاص کا یہ احساس بجا ہے کہ دنیائے علم وادب کو ان سے جو فائدہ حاصل ہونا چاہیے تھا کسی وجہ سے وہ نہ ہوسکا۔ ان میں سرفیرست اختر احسن اصلاحیؒ کی شخصیت ہے۔ان کے علاوہ مولانا ابواللیث اصلاحیؒ، عبد الرحمن ناصر اصلاحیؒ، مولانا بدر الدین اصلاحیؒ، مولانا داؤد اکبر اصلاحیؒ، مولانا محمد ایوب اصلاحیؒ، مولانا احمد محمود اصلاحیؒ، ڈاکٹر مظفر احسن اصلاحیؒ، مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ،مولانا عبد المجید اصلاحیؒ، اورپروفیسر عبید اللہ فراہی وغیرہ اس فہرست میں شامل ہیں۔ پروفیسر اشتیاق احمد ظلی کا تعلق بھی فارغین مدرسۃ الاصلاح کی اس دوسری قسم سے ہے۔آپ کا یہ مستحکم نظریہ ہے کہ صرف تالیف وتصنیف ہی علم کی خدمت نہیں ہے بلکہ اہل علم کے لیے ایسا علمی موحول فراہم کرنا جس میں وہ سکون ودلجمعی کے ساتھ علمی امور کی انجام دہی کرسکیں یہ بھی علم کی خدمت ہے۔
چند سال قبل استاذ گرامی پروفیسر ابوسفیان اصلاحی نے’ادارہ سرسید مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے مشاہیر قرآنیات‘ کے عنوان سے ایک کتاب ترتیب دی۔اس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ارباب علم وفن کی قرآنی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔لیکن پروفیسر ظلی اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔راقم السطور نے جب فہرست پر نگاہ ڈالی اور اس میں اقبال سہیل، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، پروفیسر یسین مظہر صدیقی، پروفیسر صفدر سلطان اصلاحیؒ، ڈاکٹر طارق ایوبی اور اشہد جمال ندوی کے اسماء گرامی کو شامل دیکھا تو اس بات پر اصرار کیا کہ پروفیسر ظلی کا نام نامی بھی اس فہرست میں ضرور شامل ہونا چاہیے۔لیکن استاذ گرامی نے اس کے لیے جو معیار متعین کیا تھا اس کی بنا پر وہ اس کے حق میں نہیں تھے۔بہر حال مجھے یہ احساس شدت سے رہا کہ پروفیسر ظلی کا نام اس فہرست میں ضرور شامل ہونا چاہیے تھا۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ پروفیسر ظلی ۱۹۶۶ میں علی گڑھ آچکے تھے، ۱۹۸۴ میں ادارہ علوم القرآن کا قیام عمل میں آیا تو وہ اس کے بانی صدر قرار پائے اور جولائی ۱۹۸۵ میں ادارہ کا ترجمان مجلہ ششماہی علوم القرآن کا اجرا ہوا تو وہ بحیثیت مدیر اس کی خدمت انجام دیتے رہے اور مدیر اعلی کی حیثیت سے اب تک انہیں کی نگرانی میں مجلہ شائع ہورہا ہے۔
اس احساس کے تحت جب میں نے مجلہ علوم القرآن کی ورق گردانی کی تو اس کی شدت میں اور اضافہ ہوگیا کہ اس کتاب میں پروفیسر ظلی کی شمولیت ضروری تھی۔ علوم القرآن میں آپ کی قرآنی خدمات کی کئی جہات نظر آتی ہیں۔۲۰۰۷ تک چند شمارے کے استثنا کے ساتھ آپ کے اداریے مسلسل اس میں شائع ہوتے رہے جس میں قرآنی علوم کو فروغ دینے اور اس کے لیے تحقیقاتی مراکز اور کمیٹیاں قائم کرنے پر زور دیا گیا،تراجم قرآن کی راہ میں درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی گئی اور قرآن مجید کے تئیں مستشرقین کی ہرزہ سرائی اور علمی بددیانتی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔بعض کتابوں پر آپ کے تبصرے شائع ہوئے،چند عربی مضامین کا ترجمہ کیا۔عالم عرب سے شائع ہونے والے بعض قرآنی اختصاصی مجلات کا تعارف کرایا اور سب سے خاص بات جو اس مجلہ کی ایسی خصوصیت تھی جس کا اس دور کے اردو مجلات میں دور دور تک تصور بھی نہیں تھا وہ مجلہ کے آخر میں اردو مقالات کا انگریزی خلاصہ تھا۔ادارہ علوم القرآن سے وابستہ افراد اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ انگریزی خلاصہ بالعموم پروفیسر ظلی یا پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی تحریر کرتے تھے البتہ ان پر نام مضمون نگار کا ہوتا تھا۔اس کے علاوہ مولانا امین احسن اصلاحی، قرآنی علوم بیسویں صدی میں اور عصر حاضر کے مسائل اور قرآنی تعلیمات کے عناوین سے مجلہ کے تین خصوصی نمبرات شائع ہوئے۔ان مجلات کی ترتیب وتزئین اور اس میں شامل مقالات کی تصحیح وتنقیح پروفیسر ظلی کا ایسا کارنامہ ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اسی طرح مجلہ ’الاصلاح‘ میں شائع شدہ مقالات کے انتخاب کی ’قرآنی مقالات‘ کے عنوان سے اشاعت کے پیچھے پروفیسر ظلی کی تحریک شامل رہی ہے۔ادارہ علوم القرآن میں منعقدہ سیمینارز کے مجموعہ مقالات کی ترتیب واشاعت میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے۔ بالخصوص فکر فراہی کا تعارف،اس کی ترویج واشاعت، اس کے سلسلہ میں بعض حلقوں میں پائے جانے والے شکوک وشبہات کا ازالہ،اس کا پس منظر ومحرکات،عصر حاضر میں اس کی افادیت ومعنویت،دائرہ حمیدیہ کی قرآنی مطبوعات کے تعلق سے مجلہ علوم القرآن کے صفحات میں آپ کی جو نگارشات شامل ہیں وہ فکر فراہی کے تعارف کے سلسلہ میں اساسی حیثیت کی حامل ہیں۔اسی طرح ڈاکٹر حمید اللہ کی قرآنی خدمات کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ قرآن کے حوالہ سے جس شرح وبسط کے ساتھ آپ نے تعارف کرایا ہے اس کو بھی نظر انداز کرنا مشکل ہے۔مدرسۃ الاصلاح کے دو عظیم سپوت مولانا امین اھسن اصلاحیؒ اور مولانا صدر الدین اصلاحیؒ پر آپ کا مضمون نہ صرف ان شخصیات بلکہ مدرسۃ الاصلاح کی تحریک، اس وقت کی علمی وادبی فضا اور قطرے کو گہر ہونے تک کی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے۔مولانا عبد المجید ندوی کی حیات وخدمات پر جس ایجاز واختصار کے ساتھ آپ نے روشنی ڈالی ہے وہ دریا کو کوزہ میں بند کرنے کی واضح مثال ہے۔
قرآنیات کے حوالہ سے مجلہ علوم القرآن میں آپ نے جو اداریے رقم کیے ہیں ان کی تفصیل اس طرح ہے۔ قرآنی علوم بیسویں صدی میں، عصر حاضر کے مسائل اور قرآنی تعلیمات، ترجمہ قرآن کے مسائل، عصری جامعات اور علمی اداروں میں قرآنیات بحیثیت موضوع تحقیق، قرآنیات پر کتابی مواد: ضرورت وافادیت، قرآن کریم کے تئیں معاندین اسلام کا رویہ اور ہماری ذمہ داری، قرآن کریم اور مستشرقین، عورت کا مقام قرآن کریم کی نظر میں، مجلۃ البحوث والدراسات القرآنیۃ، مجلہ معہد الامام الشاطبی للدراسات القرآنیۃ۔ پروفیسر ظلی کے تحریر کردہ ان اداریوں کی حیثیت متن کی ہے جن کی توضیح وتشریح کے لیے صفحات کا دفتر درکار ہے۔مجلہ علوم القرآن میں آپ کے عربی سے جو تراجم شائع ہوئے ہیں ان کے عناوین ہیں ’کیا امام رازی اپنی تفسیر مکمل نہیں کرسکے تھے؟‘ اور مجمع الملک فہد سے شائع ہونے والے تراجم قرآن ۲۰۰۴ کے اختتام تک۔اسی طرح آپ کے قلم سے ڈاکٹر مصطفی اعظمیؒ کی شہرہ آفاق کتاب (History of the Qura’nic Text from Revelation to Compilation…. ) کا تفصیلی تعارف وتجزیہ بھی مجلہ علوم القرآن میں شامل ہے۔یہ بات پیش نظر رہے کہ مجلہ میں شروع ہی سے قرآنیات کا کتب کے تعارف کا التزام کیا گیا جو بالعموم پروفیسر ظلی یا پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی کے قلم سے ہوتا تھا لیکن وہ ادارہ کے نام سے شائع ہوتا رہا۔اسی طرح سیمینارز کے مجموعہ مقالات کے شروع میں پیش لفظ کے عنوان سے آپ کی گراں قدر تحریر بھی اکثر شامل رہی۔
اس مختصر تحریر کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق اور شرح صدر کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ادارہ سرسید کی قرآنی خدمات کا جب بھی ذکر آئے گا پروفیسر ظلی کی خدمات کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔یقینا پروفیسر ظلی کی شخصیت مادر علمی مدرسۃ الاصلاح، اہل اعظم گڑھ اور ادارہ سرسید کے لیے سرمایۂ افتخار ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)