پروفیسر گوپی چند نارنگ پرماہنامہ”عالمی زبان‘ کی خصوصی اشاعت-غلام نبی کمار

پروفیسر گوپی چند نارنگ کی شخصیت اور ان کی ادبی خدمات پر لکھتے وقت ہاتھ کانپتے ہیں اور قلم تھرتھراتا ہے کیونکہ ایک اعلیٰ شخصیت کی اعلیٰ ظرفی اور ادبی خدمات کو بیان کرنا ہر کس و ناکس کے لیے ممکن نہیں ہے۔کتابی سلسلہ”پنج آب“ کے خصوصی شمارے کے لیے جب راقم الحروف نے مضامین کے سلسلے میں مختلف ناقدین سے رابطہ کیا تو ان میں سے بعض نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ وہ ان سے متعلق کیا اور کیسے لکھیں؟دراصل انھیں کسی ادبی شخصیت پر پہلی بار قلم نہیں اُٹھاناتھا۔بلکہ وہ لوگ شش و پنج میں تھے کہ اگر وہ نارنگ صاحب پر کچھ لکھ دیتے ہیں اور بعد میں کوئی ان کے مضمون میں نقص یا کسر نکال دیں توکہیں انھیں شرمندگی کا سامنا نا کرناپڑے۔بہرحال اس حالت کا سامنا ہر  شخص کو کرنا پڑ سکتا ہے۔کیونکہ پروفیسر گوپی چند نارنگ جیسی بلند قامت شخصیت پر لکھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ظاہر ہے جس ادیب نے زندگی بھر گراں قدر کارنامے انجام دیے ہوں اور اپنی قابلیت و خدا داد صلاحیت کا لوہا بھی منوایا ہواس پر لکھتے وقت یقینا کوئی بھی شخص تردد میں پڑ سکتا ہے۔پروفیسر گوپی چند نارنگ اردو زبان و ادب کے ایک ستون تصور کیے جاتے ہیں۔جن کی تصانیف سے استفادہ ایک استاد،قاری اور طالب علم کے لیے لازم ہے۔ان کی تحقیقی و تنقیدی تصانیف میں تخلیقی عنصر کا جادو،اسلوب کی چاشنی،لفظیات کا عمدہ برتاؤ اورخوبصورت تراکیب کاپایا جاناعام ہے۔اردو کے بیشتر ناقدین اور اساتذہ کا ماننا ہے کہ پروفیسر موصوف کی نثر میں ان کے استاد خواجہ احمد فاروقی کا طرز ملتا ہے۔
حال ہی میں ماہ نامہ”عالمی زبان“ سرونج کا پروفیسر گوپی چند نارنگ نمبر شائع ہوا۔ جس میں نارنگ صاحب کی زندگی اوران کی تصانیف سے متعلق مشاہیر کے مضامین شائع کیے گئے۔32 صفحات پر مشتمل یہ شمارہ معیاری مضامین کا گلدستہ قرار دیا جا سکتا ہے۔اس رسالے کے سرپرست وکیل نجیب،مدیر آفاق سیفی اورنائب مدیر استوتی اگروال ہیں۔اس کی ترتیب و تہذیب سیفی سرونجی نے انجام دی ہے۔سیفی سرونجی گذشتہ چار دہائیوں سے سرونج ہی سے سہ ماہی”انتساب“ بھی نکالتے ہیں اور اس مؤقر جریدے کا نارنگ صاحب پر بہترین نمبر بھی شائع کر چکے ہیں۔اداریہ بعنوان”محسن اردو: پروفیسر گوپی چند نارنگ“ میں سیفی سرونجی نے گوپی چند نارنگ کو دنیا کی عظیم ہستیوں میں اعلیٰ مقام کی حامل شخصیت قرار دیا ہے۔اداریے میں انھوں نے نارنگ صاحب پر لکھی گئی تصانیف،ان پر مختلف رسائل و جرائد میں شائع کیے گئے گوشوں اورخصوصی شماروں کا بھی خاص ذکر کیا ہے اور انھیں اردو کا سفیر کہا ہے۔کیونکہ ان کا شمار عالمی سطح کے استادوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔اس شمارے میں مشفق خواجہ، محمد ایوب واقف، پروفیسر شہزاد انجم، نظام صدیقی، شمیم طارق اور پروفیسر خالد محمود،پروفیسر شافع قدوائی،حقانی القاسمی،کوثر صدیقی،کیول دھیر،ابوذر ہاشمی کی آرا کو بھی شامل کیا گیا ہے۔سرگودھا سے تعلق رکھنے معروف ادیب اور صحافی ذوالفقار احسن نے ”ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے مضمون: نثری نظم کی شناخت“ کو اپنا موضوع بناکرنثری نظم کی ساخت،ہیئت اور انفرادیت کو بیان کرتے وقت نارنگ صاحب کا دفاع کیا ہے۔ذوالفقار احسن نثری نظم کے خود بھی اچھے شاعر ہیں۔اس لیے انھوں نے نثری نظم کے حوالے سے اپنی بات رکھنے کی کوشش کی ہے۔فاضل مضمون نگار کا کہنا ہے کہ نارنگ صاحب کا مذکورہ مضمون ”اوراق“ میں شائع ہوا تھا جس کی حمایت اور مخالفت میں بعد میں کئی ناقدین نے مضامین لکھے۔اس مضمون میں انھوں نے نثری نظم میں آہنگ کو فوقیت دی تھی۔ اس حوالے سے انھوں نے بڑی معنی خیز گفتگوکی ہے۔پروفیسر عزیزاللہ شیرانی نے ”پروفیسر گوپی چند نارنگ اور اردو نصابِ تعلیم“ عنوان کے تحت مضمون تحریر کیا ہے۔اس مضمون میں انھوں نے نصابی اور درسی کتب کے حوالے سے نارنگ صاحب کی خدمات کا جائزہ لیا ہے۔زیرِ نظر شمارے میں حافظ رضوان نے پروفیسر گوپی چند نارنگ کی تصنیف”اردو زبان اور لسانیات“ کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا ہے۔پروفیسر موصوف کی مذکورہ تصنیف”ماخوذ اردو مثنیویاں“کی طرح ہی بہت مشہور ہوئی۔کیونکہ اس پر مشاہیر قلم نے بہت سی تحاریر مرقوم فرمائیں۔فاضل مضمون نگار کا تعلق پاکستان سے ہے۔جنھوں نے مذکورہ تصنیف میں نارنگ صاحب کے تحریر کردہ پچیس مقالات کا ذکرکرتے ہوئے چند اہم مضامین پر اپنی توجہ مبذول فرمائی ہے۔”مابعد جدید ڈسکورس،اردو ناول اور نارنگ“ خالد ملک کا تحریر کردہ مضمون ہے۔مضمون نگار کا ماننا ہے کہ نارنگ صاحب نے ساختیات،پس ساختیات اور مابعدجدیدیت کے مباحث کو روشناس کرایا اور پھر ان مباحث کی روشنی میں اردو نظم و نثر کے مطالعات پیش کیے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موصوف نے فکشن کی نسبت شعری متون کی طرف زیادہ توجہ کی۔خالد ملک کے مطابق فکشن کے حوالے سے ان کی ایک ہی کتاب”فکشن شعریات تشکیل و تنقید“شائع ہوئی ہے۔جس میں مختلف افسانہ نگاروں پر مضامین لکھے گئے ہیں۔زیادہ تر مضامین افسانہ نگاری سے متعلق ہیں جب کہ دو مضامین ناول کے حوالے سے کتاب میں شامل ہیں جن میں ایک مضمون بیدی کے ناولٹ”ایک چادر میلی سی“اوردوسرا انتظار حسین کے ناول”بستی“ پر تحریر کیا گیا ہے۔ایم۔خالد نے ”پروفیسر گوپی چند نارنگ بہ طور مرتب“ میں نارنگ صاحب کی تقریباً بیشتر مرتبہ کتابوں کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔یہ مضمون بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے۔ایم۔خالد کے مطابق ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے تقریباً تمام مرتبہ کام اُن سیمیناروں پرمبنی ہیں جو وقتاً فوقتاً وہ کسی نہ کسی ادارے میں منعقد کرواتے رہے ہیں۔ان سیمینارں کے موضوعات وہ انتہائی غور وفکرکے بعد اس وقت کے علمی،فکری اور ادبی مسئلوں کے مطابق طے کرتے رہے۔ایم۔خالد نے اپنے مضمون میں موصوف کی جن کتابوں کو موضوع بنایا ہے ان میں ”اردو افسانی روایت اور مسائل“،”نیا اردو افسانہ:انتخاب،تجزیے اور مباحث“،”اردو مابعد جدیدیت پر مکالمہ“،”اطلاقی تنقید:نئے تناظر“، ”ولی دکنی:تصوف،انسانیت اور محبت کا شاعر“اور”اردو کی نئی بستیاں“قابلِ ذکر ہیں۔ان کتابوں کے حوالے سے فاضل مضمون نگار نے کئی اہم نکات کی طرف قارئین کی توجہ کو مبذول کیا ہے۔ڈاکٹر ریحان احمد قادری نے”ڈاکٹر گوپی چند نارنگ:ایک بہترین ناقد اور عمدہ محقق“کے عنوان سے مضمون لکھاہے۔جس میں انھوں نے نارنگ صاحب کی زندگی،شخصیت اور کارناموں کا مکمل احاطہ کرنے کی سعی کی ہے۔ڈاکٹر صالحہ صدیقی نے ”کاغذ آتش زدہ:گوپی چند نارنگ“(غالب کی حب الوطنی،اٹھارہ سو ستاون کا ماحول اور گوپی چند نارنگ)میں نارنگ صاحب کے اس مضمون کا ذکر کیا ہے جو انھوں نے غالبؔ کی حب والوطنی سے متعلق لکھا ہے۔یہ مضمون بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ان مضامین کے علاوہ توصیف احمد ڈار نے”تپش نامہئ تمنا کا گوپی چند نارنگ“ اور اسما بدر نے”گوپی چند نارنگ:ایک عہدساز شخصیت“ کے مضامین بھی قابلِ مطالعہ ہیں۔”صدی کی آنکھ:گوپی چند نارنگ“ از ڈاکٹر ظفر سرونجی اور”نارنگ انکل انٹرویو کے آئینے میں“ ازاستوتی اگروال شمارے کے آخرمیں پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔اوالذکر مضمون مختصر اور تاثراتی ہے جب کہ آخرالذکرمیں پروفیسر موصوف سے کیے گئے سوالوں کے جوابات پڑھنے کو ملتے ہیں۔استوتی اگروال اس مضمون میں لکھتی ہیں ’جب میں دس سال کی تھی تب سے ہی ڈیڈی انل اگروال اور سیفی سرونجی صاحب سے نارنگ انکل اور منورما آنٹی کا تذکرہ سنتی آئی ہوں اور مجھ سے پروفیسر تسنیم فاطمہ نے کہا تھاکہ اگر اردو پڑھنا ہے تو اتنا پڑھئے کہ ایک دن نارنگ صاحب جیسا بن سکیں“۔مجموعی طور پر پورا شمارہ قارئین کی توجہ کو اپنی جانب مبذول کرتا ہے۔اس میں کچھ مضامین ایسے ہیں جو یقینا قارئین کی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔بعض مضامین تاثراتی اور شخصی نوعیت کے ہیں۔یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ”عالمی زبان“کا گوپی چند نارنگ پرمشتمل مذکورہ خصوصی شمارہ اپنی نوعیت کی ایک کامیاب اور منفرد کوشش ہے جس کے لیے مدیران مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ اس شمارے کے ذریعے پروفیسر گوپی چند نارنگ کی زندگی، شخصیت اور فن کے کئی پہلو نمایاں ہوئے ہیں۔