پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی حیات اور ادبی خدمات پر ڈاکٹریٹ کی سندتفویض

چھپرہ:شعبۂ اردو، بہار یونیورسٹی، مظفرپور سے سبکدوش پروفیسر فاروق احمد صدیقی شعر و ادب اور تنقید میں اپنےتعمیری میلانات کی وجہ سے علیحدہ شناخت کے حامل ہیں۔ بطور استاد انہوں نے کئی نسلوں کی آبیاری کی ہے۔ اپنے مذہبی رنگ و آہنگ کی وجہ سے بھی منفرد شناخت کے حامل ہیں۔ تخلیقی ادب میں مذہبیت اور ادبیت کے امتزاج ، اور تنقید میں صالح ادبی رجحانات کی جستجو نے ان کی شاعری اور تنقید کو بلند معیار عطا کیا ہے۔
شعبۂ اردو، جے پرکاش یونیورسٹی، چھپرہ کے صدر پروفیسر سمیع احمد نے اپنے پریس ریلیز میں کہا کہ شعبے میں” پروفیسر فاروق احمد صدیقی: حیات اور ادبی خدمات” کے موضوع پر پی ایچ ڈی کے لیے تحقیقی کام مکمل کیا گیا تھا۔جے پرکاش یونیورسٹی، چھپرہ کے حالیہ اعلانیہ کے مطابق اس یونیورسٹی کے ذریعہ اس موضوع پرمحمد ایوب انصاری کو پی ایچ ڈی کی سند عطا کی گئی ہے۔یہ اس لحاظ سے ایک اہم خبر ہے کہ پروفیسر فاروقی استاذ الاساتذہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور آج ان کے تربیت یافتہ کئی حضرات درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر مظہر کبریا نے پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی تحریروں سے ان کی صاف گوئی اور بیباکی کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریریں صالح ادبی رجحانات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ پروفسیر ارشد مسعود ہاشمی نے اپنے بیان میں کہا کہ فاروق صاحب نے ریاض حسن خاں خیال کے دیوان کی ترتیب سے "افہام و تفہیم”، "تفہیم و تجزیہ”، "احساس ادراک”اور”مقالات فاروقی” جیسے مضامین کے مجموعے پیش کر کے اپنی ہمہ دانی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ وہیں "ازہار مدینہ” ان کے نعتیہ کلام کا ایسا مجموعہ ہے جس میں عقیدت و محبت کی سرشاری دامان ادب کو بہر لحاظ نشان راہ بنائے رکھتی ہے۔”چمنستان نعت” کے عنوان سے انہوں نے بیسویں صدی کے اردو کے مشاہیر نعت گو شعرا کے کلام کا انتخاب بھی کیا تھا جسے نعت ریسرچ سنٹر نے شائع کیا ہے۔
پی ایچ ڈی وائیوا کے بیرونی ممتحن کی حیثیت سے مونگیر سے ڈاکٹر شاہد جمال رزمی تشریف لائے تھے۔وائیوا کے دوران ممتحن اور دیگر اساتذہ نے تھیسس کے مختلف ابواب پہ جس طرح مقالے کے نگراں ڈاکٹر عبدالمالک اور اسکالر سے سوال و جواب کیا وہ ایک یادگار لمحہ تھا۔ڈاکٹر شاہد جمال رزمی صاحب نے تبھی کہا تھا کہ آج شعر و ادب میں اقدار کی بازیافت وقت کی ضرورت بن گئی ہے۔ اس کے لیے تعمیری ادب ہی رہنمائی کر سکتا ہے۔