Home متفرقاتمراسلہ پروفیسر بیگ احساس کا انتقال ـ معصوم مرادآبادی

پروفیسر بیگ احساس کا انتقال ـ معصوم مرادآبادی

by قندیل

اردو کے معروف افسانہ نگار اور ماہنامہ ” سب رس ” کے مدیر پروفیسر بیگ احساس ہمارے درمیان نہیں رہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
وہ کئی دنوں سے وینٹی لیٹر پر تھے۔ ان کے دماغ نے کام کرنا بند کردیا تھا اور اعضا بھی ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ انھوں نے آج صبح آخری سانس لی۔
ساہتیہ اکیڈمی انعام یافتہ پروفیسر بیگ احساس عثمانیہ یونیورسٹی اور حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اردو تھے۔ انھوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا تھا اور پچھلے دنوں ان کے ناول ” دخمہ” کو کافی پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ وہ بیک وقت ایک اچھے محقق، سنجیدہ نقاد، بہترین ادیب اور کامیاب مقرر تھے۔ نہایت نفیس طبیعت کے مالک اور دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے پروفیسر بیگ احساس سے اکثر فون پر گفتگو ہوتی تھی اور جب کبھی حیدرآباد جانا ہوتا تو ملاقات بھی ہوتی تھی۔ ان سے پہلی ملاقات ۲۰۰۵ میں نیویارک میں ہوئی تھی۔
وہ یاروں کے یار تھے اور ان کی سب سے اچھی یاری ممتاز مزاح نگار مجتبٰی حسین مرحوم کے ساتھ تھی ۔ وہی ہم دونوں کے درمیان تعلق کا سبب بنے تھے۔ مرحوم کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لئے دعاگو ہوں۔

You may also like

Leave a Comment