پروفیسر اسلم جمشید پوری :شخصیت ایک،رنگ انیک-راحت علی صدیقی

پروفیسر اسلم جمشید پوری جن کو ہم اسلم سر کہہ کر مخاطب کرتے ہیں ، گذشتہ دنوں فالج کے سخت ترین حملے سے متاثر ہوئے، اس حملے کے بعد آپ کے جسم کا دایاں حصہ مفلوج ہو گیا تھا ، اس دوران بھی جب آپ سے فون پر گفتگو ہوئی، تو آپ نے جلد از جلد کتاب کی تکمیل کی نصیحت کی اور مختلف ادبی کاموں کو کرنے کا مشورہ دیا ، نعت گو شعرا پر کام کرنے کا مشورہ دیا،یہ وہ وقت تھا،جب وہ آئی سی یو میں تھے،آپ کا دایاں ہاتھ اور پاؤں حرکت نہیں کرسکتا تھا، کھانے پینے پر قادر نہیں تھے،آواز بھی صاف نہیں تھی،اس سب کے باوجود آپ سے گفتگو کرنے کے بعد دل مطمئن ہوگیا ، کہ فالج نے آپ کے جسم کو تو اپنی زد میں لیا ہے، لیکن آپ کا ذہن و فکر پوری طرح سلامت ہے ،آپ کی طبیعت دھیرے دھیرے مائل بصحت رہی، اور کھانے پینے کا نظام جو متاثر تھا، وہ بھی تقریباً چھ ماہ بعد درست ہوگیا، آپ چلنے پھرنے لگے، اس دوران آپ نے جو تکلیفیں اور مشقتیں اٹھائیں، ان کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہے، چل نہیں سکتے تھے، کھا پی نہیں سکتے تھے، بے تکلف گفتگو نہیں کر سکتے تھے،طلبہ کے درمیان رہنا ان کے مسائل پر گفتگو کرنا پروگراموں میں شرکت کرنا ممکن نہیں تھا،شعبئہ اردو کی ذمہ داریاں ادا کرنا لکھنا پڑھنا آپ کا شوق اور فطرت ثانیہ ہے، اس پر قادر نہیں تھے، ان سب چیزوں کے باوجود چھ ماہ بعد جب آپ سے ملاقات ہوئی، تو چہرے پر بشاشت کے آثار نمایاں تھے، تکالیف و پریشانیاں آپ کے حوصلہ کو ڈگمگا نہیں پائی تھیں، بیماری کی سختی نے آپ کے جسم کو کمزور کردیا، چہرہ سے کمزوری کے آثار نمایاں ہیں ، جسم کمزور ہوگیا ہے، وزن گھٹ گیا ہے، دیکھ کر حیرت بھی ہوئی، پہلی بار جب آپ کو دیکھا تھا، وجاہت آپ کے چہرے پر دمکتی تھی، گول چہرہ آنکھیں بڑی بڑی، لمبی ناک ، کشادہ پیشانی ، جسم توانا اور قدرے فربہ ، چال ڈھال پر وقار، رفتار و گفتار سے سنجیدگی کا احساس ہوتا تھا، مائیک پر گفتگو کرتے،تو خطابت کی مثال بن جاتے،اس وقت اور آج میں زمین وآسمان کا فرق ہے، جسم کمزور ہے، وزن کم ہوچکا ہے، چہرہ پتلا ہوگیا ہے،چلنے میں بھی پریشانی ہے،آواز میں بھی قدرے تبدیلی ہے،یہ جسمانی تبدیلی ہے،ذہن و فکر کی بات کیجئے تو وہی پرانا رنگ واضح طور پر نظر آتا ہے، جو آپ کی پہچان ہے، طلبہ کی فکر ان کے مستقبل کو بہتر بنانے کے مشورے، مسائل زندگی پر فتح پانے کے نسخے آج بھی آپ کی زبان پر جاری ہیں، علمی و ادبی مسائل پر گفتگو طلبہ میں ہمت و حوصلہ پیدا کرنا، کتابوں کی طرف راغب کرنا ان ساری چیزوں میں اب بھی آپ مشغول ہیں، طلبہ کو وقت دیتے ہیں، ملتے ہیں، کمزوری کے باوجود کافی دیر تک بیٹھ کر طلبہ کی باتوں کو سنتے اور ان حل کا ذکر کرتے ہیں۔
اسلم سر اس بیماری سے پہلے بھی ایسے ہی تھے،اللہ کا شکر ہے،وہ ذہنی طور پر مستحکم ہیں،پہلے کی طرح آج بھی استاذ کے فرائض انجام دے رہے ہیں،طلبہ کی رہنمائی ان کے مستقبل کی فکر ان کی کوشش و کاوش کو سراہنے اور منظر عام پر لانے کی چاہ انہیں ایک نمایاں استاذ بناتی ہے، ہمیشہ طلبہ کے مستقبل کے لئےفکر مند رہتے ہیں، انہیں بہتر مشورہ دیتے ہیں ، علمی و ادبی میدان میں پہچان بنانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں، طلبہ کی صلاحیتوں کو پرکھتے ہوئے ان کے مزاج کے مطابق کام کراتے ہیں، جب کوئی طالب علم کامیاب ہوتا ہے، اس کی خوشی میں شامل ہوتے ہیں،کوئ طالب علم پریشانی میں مبتلا ہو تو پریشان ہوجاتے ہیں،طلبہ کے مسائل حل کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ،کئی مواقع پر ہم اس کا مشاہدہ کرچکے ہیں،میں خود داخلہ لینے بغیر فیس کے چلا گیا تھا،آخری تاریخ تھی،سمجھ میں نہیں آرہا تھا کس طرح مسئلہ کو حل کیا جائے،اسلم سر کو معلوم ہوا تو اپنے پاس سے فیس جمع کرائی ،اور بہت ہی مشفقانہ انداز میں کچھ نصیحتیں بھی کیں،مجھے آج بھی آپ کے یہ جملے یاد ہیں،کہ داخلہ کا انحصار فیس پر ہی ہوتا ہے،فیس کے بغیر داخلہ نہیں ہوتا،یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی،جس نے مجھے بہت متاثر کیا،اور جوں جوں ملاقاتیں بڑھتی گئںیں ،اپ کی شخصیت کا علم ہوتا چلا گیا آپ کی خوبیاں وخصائص نگاہوں کے سامنے آتے گئے،اصلاح کے لئے نرم لہجہ استعمال کرتے ہیں، محبت و شفقت سے پیش آتے ہیں، بسا اوقات غلطی پر ڈانٹ بھی دیتے ہیں، لیکن مقصد طالب علم کی خامیوں پر مطلع کرنا اور انہیں درست کرنا ہوتا ہے، جس سے طلبہ کو گرانی محسوس نہیں ہوتی ہے۔
طلبہ کو ضروری چیزوں سے واقف کراتے ہیں، میدان عمل میں جن چیزوں سے سابقہ پڑتا ہے، ان کی تیاری کراتے ہیں، ذوق کے مطابق تحقیق و تخلیق کی راہ بھی واضح کرتے ہیں خبر نگاری فیچر نگاری کالم نگاری جیسے اہم موضوعات کی عملی مشق کرانے کی سعی کرتے ہیں، چونکہ انہیں خود بھی اس کا تجربہ ہے، اور ایک عرصے تک وہ مختلف اخبارات میں کالم لکھتے تھے، ادبی علمی سماجی و سیاسی موضوعات پر اپنی آراء پیش کرتے تھے، طلبہ کو بھی اس فن سے واقف کرانے کی کوشش کرتے ہیں،طلبہ میں تقریری صلاحیت بیدار کرنے کے لئے حتی الامکان کوشش کرتے ہیں ، شعبئہ اردو میں طلبہ کی انجمن کا قیام اس کی بین دلیل ہے،جس میں ہفتہ واری پروگرام منعقد ہوتے ہیں، طلبہ کو اپنی تخلیقات پیش کرنی ہوتی ہیں، جس سے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں، لکھنے پڑھنے کی جانب ان کی توجہ مبذول ہوتی ہے، تلفظ درست ہوتا ہے، اسی مقصد کے پیش نظر طلبہ کے سیمنار بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔
اسلم سر طلبہ کو برسر روزگار دیکھنا چاہتے ہیں،معاشی اعتبار سے انہیں مضبوط و مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں،اس مقصد کے پیش نظر طلبہ کی تربیت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی، انہیں روزگار سے متعلق رہنمائی کی جاتی ہے،اور مختلف اہم کاموں کی عملی مشق بھی کرائی جاتی ہے،شعبئہ اردو کے سہ ماہی رسالہ ہماری آواز کی ادارت بھی طلبہ کو سونپی جاتی ہے، انہیں اداریہ نگاری کے فن سے واقف کرایا جاتا ہے، فدوی بھی ہماری آواز کا ایڈیٹر رہ چکا ہے، اس دوران اسلم سر نے اداریہ نگاری سے متعلق اہم اور مفید مشوروں سے نوازا تھا، جو میرے لئے بہت کارآمد ثابت ہوئے، اسلم سر ایک کامیاب استاذ ہیں۔
اسلم سر کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ جب کوئی طالب علم آپ کے گھر جاتا ہے،تو آپ میزبان کی طرح پیش آتے ہیں ، آپ کی گھریلو زندگی قابل رشک ہے، مطالعہ کرنا لکھنا شعبہ کے کاموں کو دیکھنا، ان مشغولیات کے ساتھ ساتھ آپ ذائقہ دار کھانا بھی بناتے ہیں، ایک سے ایک بڑھ کر پکوان بنا سکتے ہیں، کھائیے تو ذائقہ کے معترف ہوجائیے،جیسی آپ کی شخصیت ہے دلچسپ ویسے ہی آپ کا بنایا ہوا کھانا بھی دلچسپ اور مزے دار ہوتا ہے۔
انتظام کی صلاحیت بھی آپ میں بہت اعلیٰ ہے، بڑے بڑے پروگراموں اور سیمناروں کا نظم بڑے خوبصورت طریقے سے کرتے ہیں، کس آدمی کو کیا کام سونپنا ہے، کس طریقے سے کام تکمیل تک پہنچانا ہے، اس میں آپ کو مہارت حاصل ہے، شعبہ میں آپ نے بہت سے اہم اور عالمی سطح کے پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کئے ہیں، جن کے ہم عینی شاہد ہیں، اور آپ کی انتظامی صلاحیتوں کے گواہ ہیں۔
اللہ تعالی نے جو خوبیاں آپ کو عطا کی ہیں ،وہ آپ کو اردو ادب کے طلبہ اور آپ کے شاگردوں کے لیے نعمت مترقبہ بناتی ہیں ، اللہ تعالی آپ کو سلامت رکھے اور شفاء کاملہ عطا فرمائے۔