پروفیسر علی جاوید کی رحلت اردو دنیا کا بڑا خسارہ:شیخ عقیل احمد

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے سابق ڈائرکٹر پروفیسرعلی جاوید کے انتقال پر کونسل کے صدر دفتر میں تعزیتی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقعے پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے موجودہ ڈائرکٹر ڈاکٹرشیخ عقیل احمد نے کہا کہ علی جاوید صاحب کی رحلت سے اردو دنیا کا بڑا خسارہ ہوا ہے،وہ ایک بہترین استاذ تھے ، ساتھ ہی وہ بہت اچھے انسان بھی تھے۔ وہ ہمیشہ وضع داری نبھاتے اور ضرورت مندوں کی مدد میں پیش پیش رہتے تھے۔ خصوصا طالب علموں کی مدد کے لیے ہمیشہ مستعد رہتے تھے۔ شیخ عقیل احمد نے کہا کہ پروفیسر علی جاوید نے کافی جدوجہد بھری زندگی گزاری۔ عملی زندگی میں وہ بیباک تھے اور اپنے موقف اور نظریے پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ انھیں کئی بار مختلف قسم کے تعصبات اور زیادتیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔

اسسٹنٹ ڈائرکٹر(ایڈمن) کمل سنگھ نے کہا کہ علی جاوید صاحب کی رحلت ان کے اہل خانہ و متعلقین کے لیے دکھ کی گھڑی ہے،ہم ان کی آتما کی شانتی کے لیے دعا گو ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ جس زمانے میں انھیں ڈائرکٹر بنایا گیا وہ کونسل کے لیے آزمائش کے دن تھے مگر انھوں نے باہمی تعاون کے ساتھ آفس کے حق میں اچھا سے اچھا کرنے کی کوشش کی۔ اسسٹنٹ ڈائرکٹر(اکیڈمک) شمع کوثریزدانی نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علی جاوید صاحب بطورانسان بہت اچھے تھے اور اعلی انسانی اقدار کے حامل تھے۔ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور انھیں اچھا سے اچھا کرنے پر ابھارتے تھے۔ اس موقعے پر ڈاکٹر کلیم اللہ (ریسرچ آفیسر) نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ تعزیتی میٹنگ میں کونسل کا تمام عملہ موجود رہا اور مرحوم کی روح کی تسکین کے لیے دومنٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔