پروفیسر ابولکلام قاسمی کے انتقال پرمیرٹھ یونیورسٹی میں تعزیتی جلسے کا انعقاد

 

میرٹھ(پریس ریلیز):پروفیسر ابوالکلام قاسمی ان دیدہ وران کی فہرست میں سے ہیں جو’نرگس کی ہزاروں سالہ بے نوری‘ کے بعد اردو کے چمن میں پیدا ہوئے تھے انہوں نے مشرقی شعریات کے حوالے سے جو خدمات انجام دی ہیں وہ اردو کی ادبی تاریخ میں کبھی فرموش نہیں کی جاسکتیں۔ شمیم حنفی، شمس الرحمن فاروقی، وارث علوی اور گوپی چند نارنگ جیسے عظیم ناقدوں کے درمیان اپنی ناقدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا نا اور اپنی ایک الگ انفرادی شناخت قائم کر لینا بذات خود فن پر ان کی دسترس کا ملہ کی دلیل ہے یہ الفاظ تھے پروفیسر اسلم جمشید پوری کے جنہیں وہ شعبہئ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں پروفیسر ابولکلام قاسمی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی جلسے میں صدارتی کلمات کے بطور ادا کر رہے تھے۔ اس تعزیتی جلسے کی نظامت کے فرائض علما ملک نے انجام دیے تھے جبکہ تقریب کا آغاز محمد شمشاد نے کلام پاک کی آیات کی تلاوت سے کیا تھا۔
اس موقع پر ڈاکٹر شاداب علیم نے پروفیسرقاسمی کی حیات و خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 20/ دسمبر 1950ء کو دربھنگہ،بہار میں پیدا ہوئے۔دارلعلوم دیوبند اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور یہیں تدریسی خدمات انجام دیں۔انہوں نے مشرقی شعریات معاصر تنقیدی رویے، ناول کا فن، شاعری کی تنقید، ڈاکٹر ذاکر حسین اور غالب مونوگراف جیسی اہم کتابیں تصنیف کیں اور ساہتیہ اردو اکادمی اور غالب جیسے بے شمار ایوارڈز حاصل کیے۔ ڈاکٹر آصف علی نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ مغربی معیار نقد کی طغیانی میں علامہ شبلی نعمانی اور ان کے متبعین کے مشرقی معیارات تنقید کے غرق ہوتے افادی پہلوؤں اور زریں اصولوں کو نہ صرف حیات نو بخشنے بلکہ انہیں عہد حاضر کا استعارہ بنانے کی جو خدمت پروفیسر ابولکلام قاسمی نے انجام دی ہے وہ قابل صد ستائش ہے۔شعبے کے طلبہ بھوت دھولیہ اور ریشماں پروین نے بھی پروفیسر موصوف کو اپنا خراج عقیدت پیش کیا۔ نیز ایصالِ ثواب اور دعا پر جلسے کا اختتام ہوا۔