پروفیسر ابوالکلام قاسمی کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ کااظہار تعزیت

نئی دہلی:شعبۂ اردوعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق صدر اور اردوکے معروف نقادومحقق پروفیسر ابوالکلام قاسمی کے انتقال سے پوری اُردو دنیا صدمے میں ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے جذبات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے اردو کے نامور ادباکے تعلق سے مسلسل تسویش ناک خبریں موصول ہورہی ہیں۔ ہم ایک سانحے سے ابھرنہیں پاتے کہ دوسری خبر غم موصول ہوجاتی ہے۔ پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے اپنی تحریروں سے اردومیں تنقیدی رجحان کوفروغ دیا۔وہ بے باک نقاد تھے اور مشرقی و مغربی شعریات کا گہرا شعور رکھتے تھے۔ انہوں نے جس منصب کو سنبھالا اس کے وقار کو قائم رکھا۔ وہ رسالہ تہذیب الاخلاق کے مدیر رہے اور ان کا وقفۂ  ادارت مثالی رہا۔ ”امروز“ نے بہت کم مدت میں ادبی حلقے میں جو شناخت بنائی اس کے ہم سب گواہ ہیں۔ میں ان کے تمام پسماندگان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں اور خداسے دعاکرتاہوں کہ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمدنے کہاکہ پروفیسر قاسمی جیسی علمی شخصیت کا گزرجاناایسا خسارہ ہے جس کی تلافی زمانہئ قریب میں نظر نہیں آتی۔ پروفیسر ابوالکلام قاسمی غالب انسٹی ٹیوٹ کے انٹرنیشنل سمینارمیں برابر شریک ہوتے رہے۔ ان کی یہ خصوصیت مجھے بہت متاثر کرتی تھی کہ وہ نہایت بے باکی کے ساتھ اپنی پسندو ناپسند کااظہار کرتے تھے۔ ان کے مقالات ہمیشہ فکری گوشوں کو روشن کرتے تھے۔ ۳۱۰۲ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے انہیں غالب انعام برائے تحقیق و تنقید پیش کیاگیاتھا۔مارچ ۰۲۰۲ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی گولڈن جبلی تقریبات میں بھی انہوں نے شرکت کی تھی جس کا ذکر انہوں نے’امروز‘۴۱۔۵۱کے اداریے میں بھی کیاتھا۔ میں اپنی اور ادارے کے تمام اراکین کی جانب سے ان کے پسماندگان اور تمام اردو دنیاکو تعزیت پیش کرتاہوں اور خداوند کریم سے دعا گوہوں کہ مرحوم کو جنت میں بلند مقام عطا فرمائے۔