پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی کی قرآنی خدمات-ابوسعد اعظمی

(مجلہ ششماہی علوم القرآن کے حوالے سے)
پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی مشہور قرآنی درسگاہ مدرسۃ الاصلاح سے فارغ التحصیل ہیں ۔عصری علوم کا حصول آپ نے لکھنؤ یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کیا ہے۔عہد وسطی کے ہندوستان کی تاریخ آپ کا اختصاص ہے۔اس سے متعلق آپ کی متعدد تصانیف علمی حلقوں میں کافی مقبول ہیں۔عربی ،اردو، فارسی اور انگریزی زبان پر یکساں قدرت حاصل ہے ۔شعبہ علوم اسلامیہ میں ایک عرصہ تک تدریس کا فرائض انجام دے کر اب سبک دوش ہوچکے ہیں ۔قرآنی تعلیمات کو سادہ اور عام فہم انداز میں لوگوں تک پہنچاناآپ کی ترجیحات میں شامل ہے۔حال ہی میں ان کی کئی عام فہم کتابیں شائع ہوچکی ہیں جس میں قرآن کی اجتماعی اور معاشرتی تعلیمات، مالی معاملات میں قرآن کی رہنمائی،خلق خدا کو نفع رسانی اور آخرت کی تیاری اور اس کے ذرائع وغیرہ کو موضوع بحث بنایا گیا ہے ۔جناب اخلاق احمد نے ان کا پیکر تراشتے ہوئے لکھا ہے، ’’ان کا علم عمل کی دعوت دیتا ہے۔ضبط ونظم کے قائل ہیں،تصنیف وتالیف میں مشغول رہتے ہوئے بھی ملنے ملانے اور ملاقات کے لیے وقت نکالتے ہیں۔خوشی کے موقع پر رواں دواں اور غم کے موقع پر خاموش سرنگوں پائے جاتے ہیں،نہ آخرت سے غافل، نہ دنیا سے بیزار،نہ شکوہ نہ شکایت،نہ ناراضگی کا اظہار،کام کی باتوں کے علاوہ زائد باتوں کی گنجائش نہیں۔۔۔۔جب خیالات میں الجھن پیدا ہوتی ہے یا گناہیں آنکھیں دکھاتی ہیں تو ان کے پاس چلا جاتا ہوں اور تشفی حاصل ہوتی ہے‘‘۔ (نقوش تابندہ، ص۲۶۶-۲۶۷)
ادارہ علوم القرآن کے تاسیسی ممبران میں شامل ہیں۔قرآنی علوم کی نشر واشاعت اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کے مقصدسے ادارہ کا ترجمان ششماہی مجلہ ’’علوم القرآن‘‘ کا اجراء ہوا تو چند سالوں (جولائی -دسمبر ۱۹۸۵ تا جنوری-دسمبر ۱۹۸۸)تک پروفیسر اشتیاق احمد ظلی اس کے تنہا مدیر رہے۔پھر جنوری-جون ۱۹۸۹ء سے جنوری-دسمبر ۲۰۱۰ء تک بطور مدیر معاون کے خدمات انجام دیتے رہے۔۲۰۰۸ء میں مولانا ضیاء الدین اصلاحیؒ کی ناگہانی رحلت کے بعد پروفیسر اشتیاق احمد ظلی دارالمصنفین ،شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ کے ناظم ہوگئے تووہاں کے انتظامی امور اور معارف کے شذرات لکھنے کی ذمہ داری کی وجہ سے ان کے لیے علوم القرآن کا اداریہ تحریر کرنا ممکن نہ ہوسکا، اس لیے اس کی ادارت میں ایک بار پھر تبدیلی ہوئی اور پروفیسر ظلی مدیر اعلیٰ اور پروفیسر ظفرالاسلام اصلاحی مدیر کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے۔اس دوران جولائی -دسمبر ۲۰۱۵ء کے علاوہ بقیہ تمام شماروں کے اداریے پروفیسر ظفرالاسلام اصلاحی نے تحریر کیے اور جنوری-دسمبر ۲۰۱۸ء تک پابندی سے ان کی ادارت میں مجلہ شائع ہوتا رہا۔اپنی روز افزوں ذمہ داریوں اور ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ۲۰۱۸ء کا شمارہ نکالنے کے بعد انہوں نے ادارت سے استعفا دے دیا اور اب پروفیسر عبد العظیم اصلاحی اس کے نئے مدیر ہیں اور ان کی ادارت میں جنوری-دسمبر ۲۰۱۹ء اور جنوری -جون ۲۰۲۰ء مارچ کا شمارہ شائع ہوچکا ہے ۔
مجلہ علوم القرآن کے صفحات کا جائزہ لیا جائے تو پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی کی قرآنی خدمات کی کئی جہات نظر آتی ہیں۔اس کے پہلے شمارے ہی سے آپ کے علمی مضامین مجلہ علوم القرآن کی زینت بنتے رہے،معاون مدیر کی حیثیت سے آپ نے بعض اہم اداریے تحریر کیے اور مدیر کی حیثیت سے پابندی سے اداریہ لکھنے کی ذمہ داری انجام دیتے رہے۔مجلہ علوم القرآن نے شروع زمانہ (جنوری-جون ۱۹۸۷ء) ہی سے اردو مضامین کا انگریزی خلاصہ دینے کا سلسلہ شروع کیا جو پہلے مختصر اور پھر قدرے طویل اب تک شائع ہورہا ہے۔اردو مضامین کا انگریزی خلاصہ مجلہ علوم القرآن کی ایسی شناخت تھی جس کا اس وقت کے کسی مجلہ میں تصور بھی نہیں تھا۔انگریزی میں خلاصہ بالعموم پروفیسر اشتیاق احمد ظلی یا پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی تحریر کرتے تھے لیکن وہ مضمون نگار کے نام سے شائع ہوتے تھے اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔اسی طرح مجلہ کے آخر میں کتاب نما کے عنوان سے قرآنیات پر شائع ہونے والی نئی کتب جو ادارہ علوم القرآن کو موصول ہوتی تھیں ان کا تعارف اور تبصرہ شائع ہوتا تھا ۔جو شروع میں مختصر اور بعد میں قدرے طویل ادارہ کے نام سے شائع ہوتا رہااور کبھی کبھی تبصر ہ نگار کا نام بھی دیا گیا لیکن بالعموم اس صورت میں جب تبصرہ کرنے والا مدیران کے علاوہ کوئی اور ہو تو اس کی خدمت کے اعتراف میں اس کے نام سے وہ تبصرہ شائع ہوا،البتہ اس دوران بعض تعارف وتبصرے پروفیسر ظفرالاسلام اصلاحی کے نام سے بھی شائع ہوئے لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔۲۰۰۶ء میں جب ادارہ علوم القرآن نے تالیفی وتصنیفی تربیت کے مقصد سے اسکالرس کے قیام کا انتظام کیا اور انہوں نے کتاب نما کے کالم میں پابندی سے کتابوں کا تعارف وتبصرہ لکھنا شروع کیا تو پھر ان کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں کے نام سے وہ تبصرے شائع ہونے لگے۔مجلہ کے محتویات میں ایک اہم کالم علمی مجلات میں اس دوران شائع ہونے والے اہم اردو،عربی اور انگریزی مقالات کی فہرست اور خبرنامہ کے تحت قرآنیات سے متعلق اہم خبروں کا اندراج تھا۔یہ ذمہ داری بھی مدیران محترم ہی انجام دیتے رہے۔
مجلہ علوم القرآن میں شائع شدہ ان کے مقالات کی فہرست کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے ان مقالات کے ذریعہ ایک طرف عہد وسطی کے ہندوستان کی قرآنی خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔اور عہد وسطی کے ہندوستان کی فارسی تفسیریں،کتابت قرآن عہد وسطی کے ہندوستان میں،علم قرآن عہد سلطنت کے ہندوستان میں،علم قرآن سترہویں صدی کے ہندوستان میں،علم قرا ء ت عہد وسطی کے ہندوستان میں،عہد اکبری کی تفسیر ی خدمات اور دستور المفسرین کا ایک تعارفی مطالعہ وغیرہ عناوین سے گرانقدر مقالات تحریر کرکے اس دور کی علمی خدمات کا اچھا تعارف پیش کیا ہے۔مقالات بحث وتحقیق سے عبارت ہیں اور جدید طلبہ کے لیے بحث وتحقیق کا سفر طے کرنے اور سمت سفر متعین کرنے کے سلسلہ میں مشعل راہ ہیں۔ تو دوسری طرف قرآن کا تصور حقوق انسانی،قرآن مجید کا تصور عدل اور معاشرتی امن وامان،قرآن کریم مغربی تہذیب کے لیے سب سے بڑا چیلنج وغیرہ جیسے مقالات کے ذریعہ قرآنی تعلیمات پر روشنی ڈالی ہے۔اسی طرح قرآنی افکار وتعلیمات کی اشاعت میں مولانا سید سلیمان ندوی کی خدمات کا جائزہ لیا ہے اور مولانا سلطان احمد اصلاحی کی کتاب ’’پانی کا مسئلہ اور قرآن‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کے محاسن کو اجاگر کیا ہے۔بعض مقالات میں ادارہ علوم القرآن کی خدمات کا تعارف اور قرآنی علوم کی اشاعت میں اس کے کردار سے بحث کی گئی ہے۔یہ بات واضح رہے کہ مجلہ کی اس پینتیس سالہ زندگی میں اس کے تین خصوصی نمبرات ’’مولانا امین احسن اصلاحی ؒ‘‘، ’’قرآنی علوم بیسویں صدی میں‘‘ اور ’’عصر حاضر کے مسائل اور قرآنی تعلیمات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے ہیں۔ان کی ترتیب وتسوید میں بھی بحیثیت معاون مدیر کے ان کااہم کردار رہا ہے۔مولانا امین احسن اصلاحی نمبر میں’ڈاکٹر حفیظ اللہ اور مولانا امین احسن اصلاحی‘، ’مولاناامین احسن اصلاحی کی مطبوعہ کتب کا اشاریہ‘، ’مولانا امین احسن اصلاحی پر شائع ہونے والی تحریروں کا اشاریہ‘ اور ’پروفسیر اشتیاق احمد سے ایک انٹرویو‘ کے عنوان سے ان کے مقالات شامل ہیں۔
ادارہ علوم القرآن کے قیام کے مقاصد میں فکر فراہی کا فروغ بھی شامل ہے،یہی وجہ ہے کہ اس کے اب تک شائع ہونے والے اڑتالیس(۴۸) شماروں میں (۶۱) اداریے،مقالات اورتبصرے مولانا فراہی کی حیات وخدمات اور ان کی فکر سے متعلق شائع ہوچکے ہیں۔اس ضمن میں پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی کی مرتبہ ’’کتابیات فراہی‘‘ میں ۱۹۹۱ء تک مولانا فراہی اور ان سے متعلق تحریروں کا احاطہ کیا گیا ہے اور شاید ہی کوئی چیز اس میں شامل ہونے سے رہ گئی ہو۔اس کی دو قسط بھی مجلہ علوم القرآن کے صفحات کی زینت ہیں۔
آپ کے اداریے کا بالعموم کوئی عنوان ہوتا ہے اور اس کے تحت آپ قرآن کی معاشرتی ،معاشی اور اجتماعی زندگی سے متعلق تعلیمات کو اجاگر کرتے ہیں۔بعض اداریوں میں آپ نے چند اہم قرآنی شخصیات اور ان کی خدمات کو بھی موضوع بحث بنایا ہے،اس فہرست میں شاہ ولی اللہ دہلوی، امین احسن اصلاحی اور خالد مسعود رحمہم اللہ کے اسماء گرامی شامل ہیں۔آپ نے اپنے اداریوں میں جن قرآنی تعلیمات پر روشنی ڈالی ہے ان میں قرآن کا تصور عبادت، قرآن کا تصور امانت،عورتوں کی معاشی تمکین، قرآن کا تصور مسابقت،سیاست وحکومت کے رہنما اصول،قرآن کا تصور احسان، قرآن کا تصور علم، مالی معاملات میں قرآن کے مطالبات،آداب معاشرت قرآن وسنت کی روشنی میں،سماجی برائیوں کا انسداد اور قرآنی تدابیر،اعتدال قرآن وسنت کی روشنی میں،مسابقت الی الخیرات کی دعوت،قرآن کریم اور دوسروں کو نفع رسانی،انسانی زندگی کی تعمیر واصلاح میں سچائی کا کردار اور قرآن کریم اور عہد ؍وعدہ کی پابندی اہم ہیں۔
جیسا کی شروع میں واضح کیا گیا کہ مجلہ علوم القرآن میں کتاب نما کے تحت جن کتب کا تعارف وتبصرہ دیا جاتا تھا ان پر بالعموم کسی کا نام نہیں ہوتا تھا،البتہ بعض کتابوں کی اہمیت کے پیش نظر اس پر تبصرہ نگار کی حیثیت سے پروفیسر ظفرالاسلام اصلاحی کا نام ثبت ہے۔اور ۲۰۰۶ء کے بعد جب ادارہ میں اسکالرس کے قیام کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا تو اس دوران ظفر الاسلام اصلاحی نے جن کتب پر تبصرہ کیا -چند شماروں کا استثناء ہے -وہ انہیں کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔اس ضمن میں جن کتب پر آپ نے تعارف وتبصرہ لکھا ہے ان کے نام کچھ اس طرح ہیں:
۱- احکام القرآن، زاہد ملک
۲- پیرہن کی سرخی، پیرہن کی خوشبو، یعقوب سروش
۳- علم تجوید وقرا ء ت پاکستان میں-ماضی حال اور مستقبل(غیر مطبوعہ پی ایچ ڈی مقالہ)، قاری محمد طاہر
۴- Literature on the Qura’n in the English Language- A Bibliography, Muhammad Adil Usmani
۵- Muslim World Book Review- Special Issue on the Qura’n (Islamic Foundation,Leicester, Uk
۶- World Bibliography of Translation of Meaning of the Holy Qura’n, Ed. Ekmelddin Ihsanoglu
۷- تجلیات قرآن، جلال الدین عمری
۸- ترجمہ قرآن اور تشریح (قرآن ہی کی روشنی میں)
۹- The Simplified Qura’n (Simple Translation and Commentry of the Qura’n), Sayyed Hamid alkaf Islahi
۱۰- توضیحی اشاریہ تفسیر تدبر قرآن، منظور حسین عباسی
۱۱- کتابیات قرآن، ابوسفیان اصلاحی
۱۲- محفل قرآن (جلد ششم)، عتیق الرحمن سنبھلی
۱۳- قرآن مجید اور مستشرقین (غلط فہمیوں کا جائزہ)، محمد جرجیس کریمی
۱۴- ختم نبوت کا قرآنی تصور، سید مسعود احمد
پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی کی مرتبہ ومولفہ تصانیف کا تعارف وتبصرہ بھی مجلہ علوم القرآن میں شائع ہوا ہے۔جن کتب کا تعارف وتبصرہ مجلہ علوم القرآن کے صفحات کی زینت ہیں ان میں ڈاکٹر عبد العلی اور پروفیسر یسین مظہر صدیقی کے اشتراک سے آپ کی مرتبہ بالترتیب ’’قرآن اور سائنس‘ اور ’شاہ ولی اللہ دہلوی کی قرآنی خدمات‘ کا تعارف جنوری -جون ۲۰۰۳ء اور جولائی -دسمبر ۲۰۱۳ء میں شامل ہے۔اس کے علاوہ ’قرآنی افکار وتعلیمات اور موجودہ دور میں ان کی معنویت‘ (طبع اول ،دوم)، ’قرآنی دروس ، حصہ اول‘، ’قرآن کریم اور مالی معاملات‘ اور ’معاشرتی زندگی کی بہتری کے اصول وآداب قرآن وسنت کی روشنی میں‘ کا تعارف بالترتیب جولائی -دسمبر ۲۰۰۹ء، جنوری -جون ۲۰۱۳ء، جولائی-دسمبر ۲۰۱۰ء، جولائی -دسمبر ۲۰۱۷ء اور جنوری -دسمبر ۲۰۱۸ء میں ادارہ، قدیر احمد اصلاحی،زبیر عالم اصلاحی، محمد اسماعیل اصلاحی اور محمد صادق اختر ندوی کے قلم سے کیا گیا ہے۔
مجلہ علوم القرآن کی ورق گردانی کرتے ہوئے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی کا شروع کے زمانہ میں عہد وسطی کی قرآنی خدمات سے متعلق تحریر کردہ مقالات میں جو علمی انداز تھا بعد کے ادوار میں اس میں کافی تبدیلی آگئی اور انہوں نے سادہ اور عام فہم انداز اور آسان اسلوب میں قرآنی تعلیمات کو اس طورسے پیش کرنا شروع کیا کہ عام قاری بھی ان سے آشنا ہوسکے۔یہ وضاحت بھی مناسب ہوگی کہ پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی کی قرآنیات پر شائع شدہ متعدد کتب مثلا قرآن مجید کا مقام ومرتبہ اور اس کے تقاضے،قرآنی افکار وتعلیمات اور موجودہ دور میں ان کی معنویت، قرآن کریم اور مالی معاملات،معاشرتی زندگی کی بہتری کے اصول وآداب،قرآنی مطالعات(سماجی ،معاشی اور سیاسی مسائل کے حوالہ سے)،اسلامی علوم کا ارتقاء عہد سلطنت کے ہندوستان میں وغیرہ ششماہی علوم القرآن میں شائع شدہ ان کے انہیں قیمتی مقالات پر مشتمل ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*