پروفیسر یاسین مظہر صدیقی کے انتقال پر علمی حلقہ سوگوار،آئی اوایس کااظہارتعزیت

نئی دہلی:معروف دانشور اور علی گڑھ مسلم یوینورسیٹی کے پروفیسر ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی آج اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔انا للہ واناالیہ راجعون۔ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے ان کے انتقال پر اپنے شدید رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ ایک تعزیتی خط لکھ کر انہوں نے کہاکہ مرحوم علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کی شان تھے اور اسلامک علوم کے توسط سے ہندوستان کی ایک معروف علمی اور فکری شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ تہذیب اسلامی اور تاریخ اسلامی کے حوالے سے آپ کی کئی مستندکتابیں مقبول ہیں۔ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ مرحوم سے میرے ذاتی مراسم او رگہرے تعلقات تھے۔ وہ آئی او ایس کی جنرل اسمبلی کے ممبر بھی تھے اور کئی سارے پروجیکٹس ان سے وابستہ تھے۔ آئی او ایس نے شروع سے ان سے استفادہ کیا۔ آئی او ایس کے ایک اہم پروجیکٹ ، اسلام کا علمی ثقافتی ورثہ ان کے زیر نگرانی تھا۔ اس منصوبہ کے تحت شائع ہونے والی کتاب مصادر سیرت نبوی کو بر صغیر میں غیر معمولی مقبولیت بھی ملی۔ اسی پروجیکٹ کا دوسرا اور تیسرا حصہ مصادر حدیث اور مصادر تصوف پر کام مکمل ہوچکاہے لیکن افسوس کہ اس کی اشاعت سے قبل ہی وہ انتقال کر گئے۔ پروفیسر یاسین مظہر صدیقی رحمۃ اللہ اسلامی اور فکری میدان میں غیر معمولی خدمات کی بنیاد پر آئی او ایس کے پانچویں شاہ ولی اللہ ایوارڈ سے ستمبر 2005 میں بھی سرفرازکیے گئے ہیں۔ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ پروفیسر یاسین مظہر صدیقی کی وفات میرا ذاتی علمی خسارہ ہے جس کی تلافی نہیں ہوسکتی ہے۔ یہ آئی او ایس کا بھی بہت بڑا خسارہ ہے۔ اس موقع پر آئی او ایس کے سبھی ذمہ داران ، ممبران اور اسٹاف مرحوم کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کرتے ہیں ،ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا ء کرتے ہیں کہ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔ آمین۔