پروفیسر مناظرعاشق ہرگانوی کی رحلت پہ شعبۂ اردو، جے پی یونیورسٹی میں تعزیتی نشست

چھپرہ:جے پرکاش یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میںصدر شعبہ پروفیسر ارشد مسعود ہاشمی کی صدارت میں آج پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کے سانحۂ ارتحال پہ تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا ۔ اسن نشست کو خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ہاشمی نے کہا کہ گذشتہ تئیس (۲۳) مارچ کو پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی پی ایچ ڈی کے وائیوا کے لیے شعبے میں تشریف لائے تھے۔ تب ان کی زندہ دلی اور ان کی سدا بہار شخصیت کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا تھا کہ عمر کے ساتھ ساتھ ان میں رمق زندگی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ پروفیسر ہرگانوی کے مسکراتے ہوئے چہرے ، ان کی گفتگو، ملنے جلنے کا انداز ، بغیر کسی سہارے کے سہ منزلہ پہ آرام سے چلے آنا اور بھاگلپور سے اتنی دور کا سفر، کسی بھی معاملے میں ایسا نہیں محسوس ہوا کہ وہ عمر عزیز کی آٹھ دہائیاں پار کر چکے ہیں، یا ان میں تھکان کا بھی کوئی عنصر موجود ہے۔ ان کی فعالیت اور پڑھنے لکھنے سے ان کی دلچسپی کا عالم یہ تھا کہ اس عمر بھی ہر سال چند تصانیف منظر عام پہ آ جاتی تھیں۔ خود انھوں نے یہ کہا تھا کہ اب بھی ہر سال ان کی آٹھ سے دس کتابیں شائع ہو جاتی ہیں۔ اس دوران انھوں نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ چونکہ چھپرہ پہلی بار آنا ہوا ہے اس لیے یہاں کا سفرنامہ بھی لکھوں گا۔ انھوں ڈاکٹر عبدالمالک صاحب سے یہ تاکید بھی کی تھی کہ چھپرہ کی تاریخی تفصیلات انھیں بھیج دیں گے۔ اس موقع پہ انھوں نے شعبۂ اردو کو اپنی کئی تصانیف بھی تحفے میں دی تھیں۔ وائیوا کے دوران انھوں نے یہاں کے ریسرچ اسکالرز سے بھی تبادلۂ خیال کیا تھا اور کئی مفید مشوروں سے بھی نوازا تھا۔ پروفسیر ہاشمی نے کہا کہ پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی مرحوم کا اختصاص یہ رہا کہ انھوں نے شعر و ادب کی تمام تر اصناف میں اپنی تصانیف پیش کیں۔ انھوں نے نئی اصناف سے بھی اردو والوں کو متعارف کیا اور تخلیقی تجربے کی ہمیشہ اس طرح حمایت کرتے رہے کہ بے شمار اہل قلم پہ ان کے احسانات ہیں۔ وہ اردو ہندی اور انگریزی پہ یکساں قدرت کے حامل تھے۔ انھوں نے نوجوانوں کو بھی آگے بڑھانے میں بہت ہی مثبت کردار ادا کیا ہے۔
اس موقع پر شعبۂ اردو کے استاد ڈاکٹر مظہر کبریا نے کہا کہ ان کی چھپر ہ تشریف آوری کے بعد جب ان کی قیام گاہ پہ ان سے ملنے کا موقع ملا تو وہ جس خلوص اور محبت کے ساتھ پیش آئے اس سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ ان سے برسوں کی آشنائی ہے۔ ان کی شیفتگی کا عالم یہ تھا کہ عمر میں اتنے فرق کے باوجود ان میں کسی بھی قسم کا رعب نہ تھا اور وہ بہت ہی پیار سے باتیں کرتے تھے۔ ان کی رحلت سے بہار ہی نہیں مکمل اردو آبادی نے ایک معتبر اور جہاں دیدہ رہنما کھو دیا ہے۔ پچھلے سفر کے دوران انھوں نے جس اپنائیت کے ساتھ اساتذہ اور اسکالرز کے ساتھ اپنا وقت گزارا تھا اس کا ہر پل ایک یادگار لمحہ ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی سے جڑی چھپرہ کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے چھپرہ تشریف لانے کے بعد اسی شام یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر فاروق علی صاحب نے انھیں اپنی رہائش گاہ پہ مدعو کیا تھا جہاں وائس چانسلر صاحب کے ذریعہ ان کی عزت افزائی کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ہرگانوی مرحوم سے انھوں نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ اس یونیورسٹی میں ان کی حیات و خدمات پہ تحقیق بھی کراوئی جائے گی۔