پروفیسر محمد یسین مظہر کی وفات پر تعزیتی نشست

مہراج گنج:گزشتہ روز ڈاکٹر حفظ الرحمن کی کلینک (رحمان کلنک) واقع چیورہاروڈ مہراج گنج پر مشہور مصنف اور محقق ڈاکٹر یسین مظہر ندوی لکھیم پوری انتقال پر ملال پر ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی جس میں شہر مہراج گنج کے متعدد علما نے شرکت کی۔اس مجلس کی صدارت ڈاکٹر حفظ الرحمن ندوی علیگ فرمارہے تھے، تلاوت ونظم کے بعد ڈاکٹر صاحب نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا: پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی نے اپنے معاصرین میں سب سے زیادہ علمی کام کیا۔لکھیم پور کے ایک علمی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ندوہ، لکھنو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اور مسلم یونیورسٹی کے چشمۂ فیض سے استفادہ کیا، بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں علم تاریخ کے اور اسلامی علوم وفنون کے پروفیسر اور متخصص بنے۔انہوں نے مزید کہا:مطالعہ وتحقیق سے علم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں امتیازی شان پیدا کی اور اس فن کے امام کہلائے۔تصانیف، مقالات اتنے محققانہ اور معیار و مقدار اتنی زیادہ ہےکہ کوئی ہم سری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔وہ اپنے وقت کے بڑے لائق فائق لوگوں میں سے تھے۔افسوس زمانہ طالب علمی میں ان سے کوئی استفادہ نہیں کرسکا۔
اس نشست میں دوسری اہم تقریر مولانا ابن الحسن قاسمی کی ہوئی جس میں مولانا نے اختصار کے ساتھ ان کے حیات وخدمات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے ان کی علمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محمد یسین مظہر کا سیرت نگاروں میں ایک الگ پہچان تھا ۔انہوں نے علوم اسلامی میں تاریخ اور سیرت البنی میں اختصاص حاصل کیا، وہ ملت اسلامیہ کے عظیم سپوت،علم وتہذیب اور اسلامی اخلاق کے پیکر،سیرت رسول میں مرجع خلائق، قرآن وسنت کا گہرا درک رکھنے والے صف اوّل کے مصنف ومحقق تھے۔
معارف کے معروف قلم کاروں میں تھے۔ادارہ علوم القرآن کی سرگرمیوں میں وہ ابتدا ہی سے شریک رہے۔ ہندوستان کے کئی مجلوں میں ان کے مقالات زینت بنتے رہتے تھے ۔
انھوں نے خاص طور پر سیرت کی ایسی ایسی جہتوں اور گوشوں پر کام کیا ہے جن پر پہلے کام نہیں ہوا تھا عہدِ نبوی میں تنظیمِ ریاست و حکومت ، غزواتِ نبوی کی اقتصادی جہات ، عہدِ نبوی کا نظامِ حکومت ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور خواتین _ ایک سماجی مطالعہ ، مکی عہد میں اسلامی احکام کا ارتقاء ، مکی اسوۂ نبوی : مسلم اقلیتوں کے مسائل کا حل ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی رضاعی مائیں ، عبد المطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دادا ، اور اس طرح کے ان کے اہم اور وقیع مقلات سیرت کو علمی حلقوں میں غیر معمولی مقبولیت ہوئی، ہند و پاک دونوں جگہ وہ شائع ہوئی ہیں اور قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
افسوس ایسی قابل ہستی سے بھی دنیا محروم ہوگئی۔اس تعزیتی پروگرام میں مولانا حشمت اللہ قاسمی مولاناسعید احمد قاسمی ،مولانا سراج احمد قاسمی کے علاوہ بھی بہت سے احباب شریک تھے۔واضح کہ اس نشست میں پروفیسر یسین مظہر صاحب کے لئے ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا. اور مولانا حشمت اللہ قاسمی کی دعا پر یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔