Home ستاروں کےدرمیاں پروفیسر ابن کنول : انسان، استاذ اور صدرِ شعبۂ اردو-پروفیسر ابوبکرعباد

پروفیسر ابن کنول : انسان، استاذ اور صدرِ شعبۂ اردو-پروفیسر ابوبکرعباد

by قندیل
شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی، دہلی
ابن کنول کانام پہلی بار دہلی اردو اکیڈمی کے موقر رسالے ’ایوان اردو ‘کے کسی شمارے میں تب دیکھا تھاجب مہاراجہ لکشمیشور سنگھ میموریل کالج، دربھنگہ میں انٹر میڈیٹ کا طالبعلم تھا۔ سو ،ابن کنول کے نام کے ساتھ ان کے افسانے کے عنوان اور اس سے زیادہ افسانے کی قرأت نے متوجہ کیا اور متاثر بھی۔افسانے کاعنوان تھا ’صرف ایک شب کا فاصلہ‘ اور کہانی اصحاب کہف کے سیاق و سباق کی مدد سے بنی گئی تھی۔ مصنف کا نام اس لیے توجہ اور دلچسپی کا باعث بنا کہ عربی اور ہندی الفاظ کی اضافت و ترکیب کے ساتھ میرے لیے نیا اور دلچسپ تھا۔ پھر کم علمی نے جیسے ش۔ک نظام کو مسلمان باور کرارکھا تھا اُسی کم علمی نے ابن کنول کے ہندو ہونے کے گمان کوبھی ذہن میں بٹھا دیا ۔ اب بھلا کوئی ہندوکہانی کار اصحاب کہف کے انقلابی اسطور کو افسانے کے خوبصورت لباس سے آراستہ کرے تو گنگا جمنی تہذیب کا پروردہ افسانے، افسانہ نگار اور اس کی وسیع المشربی سے متاثر کیوں کر نہ ہو۔
ناچیز کی کم علمی کو ملامت نہ کیجیے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زمانۂ طالب علمی و مدرسی کے پندرہ سالہ قیام کے دوران ابن کنول کا نہ پھرکبھی نام سنا، نہ کہیں اُن کی کوئی اور چیز پڑھی۔ البتہ یادداشت،یا پہلی اثر انگیزی کو داد دیجیے کہ ’ابن کنول‘ اور ان کا افسانہ ’صرف ایک شب کافاصلہ‘ ذہن سے محو نہیں ہوئے ، تحت الشعور کے گوشۂ آماجگاہ میں جگنو کی مانند جگمگاتے رہے ۔
جب نومبر دوہزار دو کی اٹھارہ تاریخ کو دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں بحیثیت لیکچرر جوائن کیا تو دوسرے اساتذہ کے ساتھ ابن کنول صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ بوٹا سا قد،سلونا رنگ ،سامنے سے سر پہ کم ہوتے بال، ترشی ہوئی پست مونچھیں،کشادہ پیشانی،روشن آنکھیں ، اپنائیت بھرا چہرہ ، ہونٹوں پہ مسکان،آواز میں ایک نوع کی گھن ؛جس پہ بناوٹ کا شبہ ہوتا تھا اور چال میں کسی حد تک متانت۔ گو کہ علی گڑھ میں ش۔ ک نظام کی تحریریں پڑھتے اور ان کا ذکر سنتے ہوئے جان گیا تھاکہ ش۔ک نظام در اصل شیو کمار نظام ہیں۔ مگر ’ابن کنول ‘ کا عقدہ ہنوز قائم تھا، جسے چند منٹوں بعد خود ابن کنول صاحب نے یہ کہہ کر کھولا کہ’’ میرا اصل نام ناصر محمود کمال ہے، اور میں بھی علی گیرین ہوں۔‘‘ یوں ابن کنول صاحب سے رفیق شعبہ کے علاوہ علی گیرین والا عالمگیر رشتہ بھی قائم ہوگیا ، چنانچے از راہ شفقت پہلے دن ہی وہ ایم۔اے پریویس ایئر، ایم۔اے فائنل اور سرٹیفیکٹ کی کلاسوں میں اپنے ساتھ لے گئے اور طلبہ سے بڑی محبت کے ساتھ متعارف کروایا۔
تب شعبے میں تمام اساتذہ کے لیے کمرے فراہم نہیں تھے ، نہ کوئی باضابطہ اسٹاف روم تھا ۔ اس لیے تقریباً سبھی صاحب روم اور روم سے محروم ٹیچرز صدرِ شعبہ کی بڑی سی نشست گاہ میں ہی بیٹھا کرتے تھے۔ ہم عصر رفقاء میں علم و دانش اور عمر و احترام کے اعتبار سے ابن کنول صاحب کا شمار دوسری صف والوں میں ہوتا تھا ، گو گہ اس وقت تک ان کا ایک افسانوی مجموعہ، ایک مجموعہ ٔ مضامین ،نو آموز وں کو اردو سکھانے والی ایک پتلی سی کتاب اور ایم فل اور پی۔ایچ۔ڈی کے تحقیقی مقالے شائع ہوچکے تھے اور کبھی کبھار وہ شعر بھی کہہ لیا کرتے تھے ۔  اس کے باوجود نہ جانے کیوں انھیں تحقیق و تنقید ،شعر و ادب اور جلسہ و سیمینار کی دنیا میں شہرت و اعتبارحاصل نہ ہوسکا تھا۔ جس کی وہ شکایت بھی کرتے کہ یونیورسٹی میں اتنے دن پڑھاتے ہوگئے ،مگریہ ادارے مجھے مقالہ پڑھنے کے لیے کبھی کبھار اور صدارت کے لیے بالکل نہیں بلاتے ، نہ جانے کب تک نظامت ہی کرواتے رہیں گے ۔ شکایت ان کی جائز بھی تھی۔
ایک بار ایک صاحب نے ناچیزکے نام اپنی کتابوں کا پیکٹ بھیجا ، کتابیں ملی نہ تھیں لیکن ان کے فون تین چار دفعہ آچکے تو آفس میں جاکر پوچھا : جے بھگوان جی فلاں جگہ سے کتابیں آنی تھیں،ملیں نہیں اب تک ۔ جے بھگوان جی تب خاموش رہے لیکن چند سکینڈ بعد وہ باہر نکل کر آئے اور کہا: سر آپ کی کتابیں تو کئی دن پہلے آگئی تھیں۔ پوچھا کہاں ہیں؟مسکراتے ہوئے دھیرے سے کہا : پیکٹ ابن کنول سر نے منگوالیا تھا، آپ خود جاکر ان سے لے لیجیے۔حاضر ہوکر ابن کنول صاحب سے عرض کیا فلاں صاحب نے کتابیں بھجوائی تھیں ۔۔۔ جملہ مکمل ہونے سے پہلے ا شارہ کرتے ہوئے فرمایا: وہ پڑی ہیں اٹھا لیجیے۔پیکٹ کی صورت اور ان کے رویے کودیکھ کر طبیعت مکدر ہوئی ۔ عرض کیا : ڈاکٹر صاحب اخلاقاً کسی اور کے نام کا پیکٹ آپ کو نہیں کھولنا چاہیے تھا،اس خط میں کچھ ذاتی باتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ خفگی سے کہنے لگے : سب آپ کو ہی کتابیں بھیجتے ہیں،ہر ہفتے آجاتی ہیں، مجھے تو کوئی نہیں بھیجتا ۔ قدرے نالائقی سے جواب دیا: ڈاکٹر صاحب کیا کر سکتا ہوں۔ یہ شکایت آپ کو بھیجنے والوں سے کرنی چاہیے۔ڈاکٹر صاحب نے خاموشی اختیار فرمالی۔ ناچیز کو اپنے ترش رویے پر افسوس ہوا ، اور یہ سوچتے ہوئے ان کے کمرے سے باہر آگیا کہ ابن کنول صاحب کی یہ شکایت اور ناراضگی قطعاً جائز نہیں ہے ۔ در اصل ان میں ایک طرح کا بچپناتھا ،نہیں ،بچپنا نہیں،وہ زود حس تھے ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوش ہوجاتے اور معمولی باتوں پر ناراض و غمگین ،لیکن اگلے ہی دن مسکرا کر سلام کر لیجیے تو پھر خوش ہوجاتے ۔ یوں جانیے اس معاملے میں وہ بیدی کے افسانوی کردار ’لاجونتی‘ جیسے تھے ۔خوشی اور ناراضگی کی کیفیتوں کے اثرات بھی ان کے چہرے پر اس قدرواضح اور فوری ظاہر ہوجاتے جیسے اجلے کرتے پر چائے کے قطرے یا پان کی پیک کے دھبے ۔ ان کی خوشی کے عرصے کا تو علم نہیں لیکن ناراضگی کو دل میں پالنے پوسنے لگ جاتے ،تقریری و تحریری طور پر اشاروں کنایوں میں اس کا اظہار بھی کرتے ، اور جو موقع ہاتھ لگتا تو دل میں پل رہی ناراضگی کو اس احتیاط اور معصومیت سے باہر نکالتے کہ ’’ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ‘‘۔
رفقائے شعبہ، دوستوں اور شاگردوں کے درمیان بالعموم خوشگوار موڈ میں رہتے ۔کسی طرح کی اکڑ ،اظہار علمیت اور سچے جھوٹے تکبر سے دور ۔طبعاً بڑے ہنس مکھ، ملنسار،خوش گفتار ، نرم مزاج اور بزلہ سنج تھے۔وہ اشعار میں تحریف،جملوں میں ترمیم اور باتوں کے سیاق وسباق کو تبدیل کرکے گفتگو میں طنز، مزاح اور شگفتگی پیدا کرنے کے ہنر سے خوب واقف تھے ۔ البتہ کبھی کبھارمزاح کے عامیانہ پن اور طنز کی تلخی سے مزاح کی چاشنی اور باتوں کی شگفتگی شِکوَہ و جلن سے غبار آلود بھی ہوجایا کرتیں۔ لڑائی جھگڑے سے بہت گھبراتے تھے ، لیکن انھیں چھوٹے موٹے نزاع سے پرہیز نہ تھا ،البتہ اس سے دور رہنا چاہتے اورذاتی طور پر امن و عافیت کے خواہاں ہوتے ۔ اسی وجہ سے وہ شکایت و طنزکرنے اور دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے بالعموم اشارے کنایے، محاورے، مقولے اور مزاح کے سہارے باتوں کو ہنستے مسکراتے چہرے اور خوش طبعی سے اس طرح کہتے جیسے وہ مخاطب یا مخالف سے شکایت نہ کرتے ہوں تعریف کررہے ہوں،اپنے دل کے پھپھولے نہ پھوڑتے ہوں ان کی گل پوشی کررہے ہوں۔ مخاطب نے سمجھ لیا توبعض اوقات بات مخاصمت کی صورت اختیار کرتی جسے وہ ناگفتہ بہ صورت حال اختیار کرتے دیکھ کر اپنی عاجزی و انکساری سے بڑھتی ہوئی مخاصمت کومصالحت کی آغوش میں لے لیتے : ’’ارے ڈاک صاحب آپ تو ناراض ہوگئے ،میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا،میں تو کل بھی فلاں صاحب سے آپ کی تعریف کر رہا تھا‘‘۔اور اگر مخاطب خوش طبعی و خوش گفتاری میں ملبوس ان کے طنز و تعریض کو نہ سمجھ پاتا،تو خوش ہوجاتے کہ ’چلو مجھے جو کہنا تھا کہہ دیا، آگے اللہ کی مرضی ، نہیں سمجھ سکا تو میں کیا کروں؟
کیمپس سے کافی فاصلے پر جوہری فارم میں ان کا ذاتی مکان تھا جہاں سے اسکوٹر کے ذریعے یونیورسٹی آتے جاتے تھے۔اپنے ہیلمٹ کے علاوہ ایک ہیٹ نما اضافی ہیلمٹ بھی اسکوٹر کی سیٹ کے نیچے پڑا ہوتا۔ شناسا ضرورت مندوں ،خواہشمندوں اورطالبعلموں کو بھی بڑی خوش دلی سے لفٹ دیتے ۔ کوئی ٹیچر یا اردو حلقے سے منسلک کوئی اہم شخص ان کے اسکوٹر پر پہلی بار بیٹھتا تو اسے اسکوٹر اور ہیلمٹ کی ادبی تاریخ سے روشناس کراتے کہ :’’ اس اسکوٹر پر نارنگ صاحب ،محمد حسن صاحب ،قمر رئیس صاحب ، ندا فاضلی صاحب ، ڈاکٹر تنویر احمد علوی صاحب اور شریف صاحب سے لے کر آپ جیسی ہستیاں تک تشریف فرما ہوچکی ہیں ، اور جو ہیلمٹ آپ نے پہن رکھا ہے نا،اسے مذکورہ حضرات کو بھی پہناچکا ہوں۔‘‘ وہ برسوں تک اسی اسکوٹر پر اپنے علاقے میں رہنے والے ایک رفیقِ شعبہ کو جنھیں پہیوں والی کوئی بھی گاڑی چلانی نہیں آتی تھی، اپنے ساتھ یونیورسٹی لاتے، لے جاتے اور انھیں سرکاری بس کے تکلیف دہ سفر سے بچاتے رہے ، لیکن ابن کنول صاحب کے بقول جب وہ صاحب صدرِ شعبہ بنے تو ان کے اس احسان کا جواب انھوں نے مسلسل اہانت آمیز سلوک سے دیا ۔ جواب میں شریک سفر کا کہنا تھا کہ :ان کا احسان کیسا ڈیزل کی خریداری میں برابر کی شراکت داری تھی ۔ شکر ہے ابن کنول صاحب کے سامنے یہ بات نہ ہوئی ، ورنہ وہ اپنے اس رفیق سے آنکھیں تریرتے ہوئے گھنیری آواز میں یہ ضرور کہتے : یہی بات تھی تواسکوٹر چلانے میں بھی شراکت داری کر لیتے ،اس کی مرمتوں میں بھی کر لیتے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابن کنول صاحب اچھے استاذ تھے اور طلبہ کے محبوب و ہمدرد بھی۔ بالخصوص مدارس کے فارغین طلبہ ان سے ایک خاص قربت محسوس کرتے ۔غالباً اس قربت کی ایک اہم وجہ ملت کی زبوں حالی کا مشترکہ ماتم ،اس کے افراد کے ساتھ واقعی اور خیالی زیادتیوں اور نا انصافیوں کا رونا،اردو اخبارات کی زرد صحافتی خبریں پڑھ کرایک دوسرے کے غم، خدشات اور مایوسی بانٹنا اور مذہبی ؛بلکہ مسلمانی گفتگو کا قدر مشترک ہونا تھا ۔ وہ ہمیشہ شعبے پابندی سے آتے اور بالعموم کلاس ناغہ نہیں کرتے تھے۔جب پروفیسر اور صدرِ شعبہ ہوئے تب بھی ان کے معمول میں کوئی فرق نہیں پڑا ۔ کلاسیں باضابطہ لیتے رہے ، انکساری اور ملنساری میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ اس عرصے میں انھوں نے پڑھنے اور اس سے کہیں زیادہ لکھنے کی طرف توجہ دینی شروع کی اور ظاہری و باطنی شخصیت کونکھارنے کی کوششوں میں اضافہ کیا ۔ لوگوں کو خطوط لکھ کر اپنے پروفیسر بننے اور صدر شعبہ ہونے کی اطلاعیں دیں،اردو شعبوں اور اداروں سے رابطے قائم کیے ، شعبے کے معمولی اور معمول کے پروگراموں کو بھی اخبارات میں بیان چھپوانے کے مواقع میں تبدیل کیااور خود کو زیادہ جامہ زیب بنانے پر توجہ دی۔ خوش رنگ پینٹ شرٹ، کوٹ پتلون اور ٹائی پہننی شروع کی ،کبھی کبھی سفید پاجامے اور موسم اور موقعے کے اعتبار سے کالی یا کریم کلر کی شیروانی اور ماحول کے لحاظ سے ہاف آستینوں کا مودی کٹ کرتا بھی زیب تن کرتے ۔ اب آمد و رفت کے لیے وہ اسکوٹر کے بجائے مہنگی کار استعمال کرنے لگے تھے ، شعبہ آتے ہوئے ساتھ میں کسی ریسرچ اسکالر کو بٹھا کر لاتے جو کار سے اترنے کے بعد ان کابیگ لے کر نیاز مندی سے ان کے پیچھے پیچھے چلتا اور چیمبر کے پاس پہنچ کر تیزی سے آگے بڑھ کر ان کے لیے دروازے کا تالا اور کمرے کا دروازہ کھولتا۔ اس زمانے میں ان کی کئی کتابیں شائع ہوئیں، بلکہ تواتر سے شائع ہونے لگیں۔ان کی شخصیت پر کتاب لکھی گئی، فن پرمضامین تحریر کیے گئے ،ایم۔فل اور پی۔ایچ۔ڈی کے مقالے تیار ہوئے اورخود انھوں نے کئی اصناف میں طبع آزمائی شروع کی ۔ مثلاً انشائیے ، خاکے اور سفر نامے لکھے اور شاعری بھی کی ۔ خاکے انھوں نے کثرت سے تحریر کیے۔کچھ خاکوں نے مجموعے میں جگہ پائی،چند اخبارات اور فیس بک کی زینت بنے،اور ایک آدھ کے ویڈیو بناکر اپلوڈ کیے گئے ۔ اس معاملے میں وہ مرزا محمد رفیع سودا ؔسے بس اس حد تک مختلف تھے کہ سودا ؔجس سے ناراض ہوتے اس کی ہجو لکھ ڈالتے تھے، ابن کنول صاحب جس سے متاثر یا خوش ہوئے ان کا خاکہ نما لکھ ڈالا۔
بہتوں کی طرح انھیں بھی دوسروں کے آپسی اختلاف و انتشار اور مناقشوں سے دلچسپی تھی، لیکن خود کوایسے قضیوں سے دور ایسی جگہ رکھتے جہاں وہ اس کی آنچ اور الزام سے محفوظ رہیں، اسے ہوا بھی دے سکیں اور لطف اندوزی میں کسی طرح کی کمی بھی نہ آنے پائے ۔ بالعموم براہ راست بحث و تکرار سے پرہیز کرتے ، کہ مزاجاًمصلحت پسند اور دوستانہ مراسم کے قائل تھے ۔ سو،ہر ایک سے خلوص و محبت سے ملتے ، پسندیدہ بزرگوں کااحترام کرتے ،اپنے شاگردوں کو عزیز اورپڑھے لکھے ہم عصروں سے چشمک رکھتے۔ ان کی عاجزی ،اپنائیت اور بے تکلفی سے لوگ متاثر ہوتے جس سے خیر خواہوں میں اضافہ ہوتا ۔ لیکن ان کے بدخواہوں کی بھی کمی نہ تھی جو اُن کے کارناموں میں مین میخ نکالتے ۔ کچھ لوگ ان کے خاکوں کو شخصی مضامین سے تعبیر کرتے ، تحقیق و تنقید کو غیر معیاری بتاتے ،زبان و بیان کو ناقص وناپختہ قرار دیتے اور ان کی بعض کتابوں کو امتحان پاس کرنے والی کنجی کہتے۔ ایک دوست نے تواُن کی کئی سو صفحوں کی مرتب کردہ کتاب کے محض ڈیڑھ صفحات کے دیباچے میں زبان و بیان کی تین تین فاش غلطیوں کے پائے جانے کا اعلان کیا، اور ان کے ایک رفیق نے تو حد یہ کی کہ اپنے ایک چہیتے شاگرد کو ؛ جسے پی۔ایچ۔ڈی میں داخلہ نہیں مل سکا تھا ، دو ضخیم کتابیں لے کر ان کے پاس بھیجا (غالباً انھیں بلیک میل کرنے کے لیے) جو اُ ن کے چیمبر میں آکر ان سے بحث کرتا رہا کہ : آپ نے جو یہ کتاب اپنے نام سے شائع کی ہے ، یہ تو خواجہ احمد فاروقی کی تصنیف ہے ۔ آپ کی اور ان کی کتابوں میں سوائے نام ، مقام اشاعت اور مکتبۂ اشاعت کے کوئی فرق نہیں۔ وہاں موجود اساتذہ نے مشکلوں سے اس ناہنجار کو ٹالا، عرق آلود پیشانی پونچھنے کے لیے ابن کنول صاحب کی طرف رومال بڑھایااور انھیں مشورہ دیا کہ وہ بحیثیت صدرِ شعبہ اس نامعقول کے خلاف سخت ایکشن لیں ۔لیکن ابن کنول صاحب نے کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی بدتمیزیوں اور اپنے رفیق شعبہ کی سازشوں کودر گزر کیا۔
ایک بار کسی وحشت زدہ طالبعلم نے ابن کنول صاحب کے پاس آکر سنی سنائی آدھی ادھوری خبر اڑائی کہ باہر ہنگامہ ہوگیا ہے۔ چیمبر میں ساتھ بیٹھے ایک دوست نے کہا میں معلوم کرکے آتا ہوں کیا معاملہ ہے ۔ باہر جاکر انھیں پتہ چلاکہ ہنگامے کی خبر کیمپس کی نہیں ، وشو ودیالیہ میٹرو اسٹیشن کی تھی۔ دوست نے ابن کنول صاحب کو فون کیا کہ : پی ۔ایچ۔ڈی میں ایڈمیشن نہ پانے والے کچھ طلبہ آپ سے سخت ناراض ہیں اور آپ کے ساتھ گستاخی کرنا چاہتے ہیں، جب تک میں فون نہ کروں آپ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلیے گا ۔ فون کرنے کے بعد دوست کینٹین میں چائے کا آرڈر دے کر دوستوں کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہوگئے ، پندرہ بیس منٹ بعدابن کنول صاحب کا فون آیا: ہاں بھئی کیا ہوا؟دوست نے جواب دیا ابھی آپ کمرے میں ہی بیٹھے رہیں، میں آپ کی کار کے پاس ہوں ،وہ لوگ اسے توڑنا چاہتے ہیں،لیکن آپ بے فکر رہیں میں کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔پھر ہرپندرہ بیس منٹ بعد ابن کنول صاحب کاگھبرائے ہوئے سوالیہ لہجے میں فون آتا ، جواب یہی دیا جاتاکہ :ابھی آپ کمرے سے باہر بالکل نہ نکلیں، میرے فون کا انتظار کیجیے ۔چائے کے دوسرے دور کے بعد جب دوپہر ڈھلنے لگی تو ساتھیوں نے دوست سے کہا :بھئی جانے بھی دیجیے بیچارے کوکتنا ستائیں گے۔دوست نے چائے کی گہری چسکی لی ،کپ کو سنگی ٹیبل پر رکھا اور مسکراتے ہوئے کہنے والے کی آنکھوں میں جھانک کر بولے : وہ بھی تو دوسروں کو بہت ستاتے ہیں ۔ اچھا آپ چاہتے ہیں تو انھیں بھیج دیتا ہوں، یہ کہہ کر جیب سے موبائل نکالا اور انھیں اطلاع دی : ڈاکٹر صاحب معاملہ ختم ہوگیاہے ،کمرے سے نکل آئیے ، اب آپ آرام سے گھر جا سکتے ہیں۔تھوڑی دیر بعد ابن کنول صاحب چوکنّی نظروں سے دائیں بائیں ، گاہے پیچھے دیکھتے ہوئے کار تک آئے ، دوست سے مصافحہ کیا ،حد درجے عاجزی سے ان کا شکریہ ادا کیا اور روانہ ہوگئے۔
شعبے میں اہم عہدوں کی حصولیابی کے باوجود ابن کنول صاحب کی انا قدرے مخدوش اور شخصیت ذرا دبی دبی سی تھی ۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی شخصیت احساس کمتری ، کچلی ہوئی انا،کسی انجانے خوف یا بعض ناآسودگیوں کے نتیجے میں پروان چڑھتی ہے ۔ ایسے لوگ بالعموم صاحب اقتدار کے حضور مرعوب و مطیع رہتے ہیں اور خوشامد پسندوں کے آگے محبت و مہربانی کی اُس بلندی پر جا براجمان ہوتے ہیں،جہاں سے دراصل خود سپردگی کی سرحد شروع ہوتی ہے ۔ ابن کنول صاحب جب پہلی بار صدرِ شعبہ بنے تو چند مہینوں تک ڈپارٹمنٹ کو بڑی خوش اسلوبی سے سنبھالنے کی کوشش کی ، رفقائے شعبہ سے حسب مراتب اچھے تعلقات استوار کیے اور خوشامد پسندی کے مرض سے خود کو، اور خود سے خوشامد پسندوں کودور رکھا ۔ لیکن وہ خوشامد پسندی اور خوشامد پسند ہی کیا جس کا جادو سر چڑھ کر نہ بولے۔ چنانچے ابن کنول صاحب قدرے تاخیر سے ہی سہی اس سحریا کہیے مرض کا شکار ہوگئے، اور نتیجتاً بیشتر رفیقوں کے درمیان ’’ آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر‘‘ کامصداق بنے رہے ۔ سو، وہ اپنی عاجزی ،نفسیاتی مجبوری یا صاحب سحر کی مداحی سے مسحور چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی بعض ایسے کام کرتے رہے ( غالباً اپنے مزاج کے خلاف بھی )جن سے ان کی محبوبیت، عزت ، ایمانداری اور انصاف پسندی مجروح ہوئی۔
ابن کنول صاحب کااپنے آپ کوخوشامد پسندی کے حوالے کرنے کی ایک وجہ شایدیہ بھی تھی کہ وہ افسران کے سامنے جانے سے گھبراتے ،ماتحتوں کو حکم دینے میں خود کو عاجز پاتے اور ایڈ منسٹریشن کے کاموں سے وہ (انھیں کے بقول) نا آشناتھے ۔ چنانچے ایڈمنسریشن کے لوگوں کی کسی بھی تحریری اور زبانی باتوں (بعض دوستوں کا خیال ہے کہ اشاروں ) پر خلوص دل سے آمنا وصدقنا کہتے اور جو آفس کے کلرک یا پیون کوبھی بلانا ہوتا تو کال بیل کا ریموٹ ہاتھ میں لیے خود ہی انھیں بلانے چلے جاتے ، یا کسی جونیئرٹیچر کو بھیجتے۔ خدا جانے انھوں نے خوشامد پسند کے سامنے کس عالم میں اپنی صدرِ شعبہ کی حیثیت پہلی بار الیکشن میں جیتے ہوئے اس ناخواندہ نیتا جی کی سی بنالی تھی جس کی سوچ و فکر ، منصوبوں ارادوں اور کاروائیوں کا سارا دارومدار اس کے شاطر و طرارپرسنل سکریٹری پر ہوتا ہے ۔ بس یہ ہے کہ انھیں باتیں چھپانی نہیں آتی تھیں ، یا باتیں ان سے چھپ نہیں پاتی تھیں۔ مثلاً شعبے کے اپنے صدارتی امور سے متعلق ان کا یہ تحریری اعتراف دیکھیے : ’’خط وہ لکھتے ہیں، دستخط صدر کے ہوتے ہیں۔پڑھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ صدر بڑا قابل ہے، یہ نہیں معلوم پردے کے پیچھے کیا ہے ۔در اصل ۔۔۔۔ سارا کام ہی پردے کے پیچھے کا ہے ۔ ہدایت کار ہے نا ، کسے کس طرح نچانا ہے اسے اچھی طرح معلوم ہے۔‘‘ (کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی ، کتابی دنیا دہلی ، 2020، ص،131-32 ) انھوں نے یہ تو نہیں لکھا کہ بشمول ان کے کس کس کو ، کس کس طرح نچایا گیا لیکن مذکورہ مضمون میں یہ اطلاع ضرور دیتے ہیں کہ : انھیں ڈھائی مرتبے شعبے کی صدارت ملی ، جس میں آخری ڈیڑھ مرتبے کی صدارت کسی اور(اسی نچانے والے) کی مدد سے چلی ۔ بعض دوستوں کا خیال ہے کہ مذکورہ جملے میں ’’مدد سے ‘‘ کا استعمال انھوں نے از راہِ تحفظ کیا ہوگا ۔ خدشہ یہ بھی ہے کہ بیشتر رفقائے شعبہ ’’ کسی اور کی مدد سے چلی‘‘ کے بعد اس جملے کا اضافہ نہ کر لیں:’’ اوربے حد بری چلی۔‘‘
بحیثیت استاذ ابن کنول صاحب کو قوم اور قوم کے بچوں سے جتنی اور جیسی ہمدردی تھی ، بہت ہی کم اساتذہ کو ہوگی۔ (در اصل ’قوم‘ سے ان کی مراد ’ملت‘ تھی) ممکن ہے وہ دوسری ہمدردیوں کا اظہاربھی کرتے ہوں،لیکن اخبارات سے وابستہ افراد کوایڈمیشن اور امتحان میں طلبہ کو نمبرات دینے کے معاملے میں ان کی ہمدردی جگ ظاہر تھی ۔ قلب ایسا نرم کہ امتحانات میں غیر متعلق جواب لکھنے ، اردوزبان کو لولا لنگڑا بنانے اور املے کا مثلہ کرنے والے طالبعلموں کو بھی ساٹھ سترفیصدنمبرات خوشی خوشی عنایت فرمادیتے۔ ایک دفعہ عرض کیا : ڈاکٹر صاحب !  املے تک غلط لکھنے والے نالائقوں کو اتنے زیادہ نمبرات دینے کے بجائے ایک آدھ بار فیل کرکے انھیں سدھرنے اور سنجیدگی سے پڑھنے لکھنے کا بھی موقع عنایت کیجیے ۔ جواب دیا: قوم کے بچے ہیں ان کے ساتھ اتنی ہمدردی تو کی ہی جانی چاہیے ،ورنہ یہ اور بھی نالائق بن جائیں گے ۔ عرض کیا:’’ڈاکٹر صاحب کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس طرح نالائقوں کی فوج تیار ہوجائے گی، اور جو اگر یہی بچے کل کلاں کو’استاذ ‘ بن گئے تو سوائے’ استادی ‘کے اور کیا کریں گے؟بقیہ قوم کا جوبھی ہو مستقبل کی اردو ، اور اردو قوم کا مستقبل تو سچ مچ قابل رحم ہوجائے گا ۔ فرمایا : آپ کچھ زیادہ ہی سخت ہیں ۔ ان کا خیال ہم ہی نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا ۔
وہ مولوی نہ تھے لیکن مزاج مولویانہ تھا۔ نماز روزہ کے پابند تھے ، حج اور عمرہ ایک سے زائد مرتبہ کر چکے تھے، روایت کے حصار سے نکلنے کو برا جانتے اور نئے طور طریق کو نا پسند کرتے تھے ۔ طالبعلموں اور رفقاء ، بلکہ ان کے بچوں تک کی وضع قطع اور ان کے اعمال و افعال پر چھوٹے مدرسوں کے ناظم دارالا قامہ کی سی عقابی اور تفتیشی نظر رکھتے ، گو، اُن سے کچھ کہتے نہ تھے مگر دوستوں اور رفیقوں کی محفل میں تذکرہ و تنقیص ضرور فرتے ۔
تعریف، تحقیر ،طرفداری اور دعوت جیسے بیشتر معاملات میں ’’اُس ہات دے اِس ہات لے ‘‘کے قائل تھے ۔ یا یوں کہیے کہ وہ ’السلامُ بالسلام،و الکتاب ُ بالکتاب، والتعریفُ بالتعریف اور الدعوۃ بالدعوۃ ‘کے اصول کو پسند کرتے تھے ۔ ایک بار پانچ چھہ رفقائے شعبہ کے ساتھ ناچیز کو بھی رات کے کھانے پر بلالیا تھا۔ جس کی یاد کو وہ پہلے وقتاً فوقتاً تازہ کرتے رہتے ،پھرچند مہینوں بعد تازہ کروانے لگے ، بعد میںکنایوں کااستعمال شروع کیا کہ : ’’آپس میں دعوتیں کرنے سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں‘‘اورجب دیکھا کہ ’’ اثر اُس کو ذرا نہیں ہوتا ‘‘تو ایک دن مختلف دعوتوںکا ذکر کرتے کرتے اچانک ناچیز کے چہرے پر نظریں جمائیں ،مسکرائے اور فرمایا:’’ آپ نے دعوت نہیں کی اب تک؟ پھر بطور ترغیب کہنے لگے :دیکھیے فلاں صاحب تو کئی بار اپنے گھر پر بلاچکے ہیں ،دعوتیں کرتے رہتے ہیں۔ایک وہ ہیں کیمپس میں ، ایک آپ ہیں کیمپس میں، لگتا ہی نہیں کہ ہیں بھی۔‘‘ عرض کیا : آپ جب چاہیں گھر تشریف لے آئیں،کہنے لگے ایسے تھوڑی ہوتی ہے دعوت ۔عرض کیا : آپ کی مدت صدارت ختم ہوجائے گی تو انشا ء اللہ بلاتا ہوں۔ ہنس کر کہنے لگے :میری صدارت ختم ہونے کی خوشی میں کریں گے کیا دعوت؟ عرض کیا : نہیں، حصولِ تقربِ صدر شعبہ کے الزام سے بچنے کے لیے ۔ لیکن دوران صدارت جب بھی کوئی ایسی تقریب ہوتی یا کھانے پینے کی بات چلتی تو مسکراتے ہوئے کنایتاً ضرور یاد دلاتے : کچھ لوگ دعوت کھالیتے ہیں مگر کھلاتے نہیں ہیں۔ ایک دفعہ پروفیسر انور پاشا صاحب جے۔این۔ یو سے کسی اسکالر کا وایوا لینے آئے تھے ۔ جب ابن کنول صاحب کے ساتھ انھیں پارکنگ تک چھوڑنے جا رہا تھا تو باتوں باتوں میں کہنے لگے : پاشا صاحب کچھ لوگ دعوت کھا لیتے ہیں ، کھلاتے نہیں ہیں ۔ پاشا صاحب مسکراتے رہے۔عرض کیا : انورپاشا بھائی ڈاکٹر صاحب در اصل مجھے ۔۔۔ جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی پاشا صاحب نے ہنستے ہوئے کہا: مجھے معلوم ہے یہ آپ کو ہی کہہ رہے ہیں، اور میرے سامنے دوسری مرتبہ کہہ رہے ہیں۔جلدی سے ان کی دعوت کر دیجیے، اور اگر لطف اندوز ہوتے رہنا چاہتے ہیں تو ٹالتے رہیے ۔ ایک بارغالباً اپنے صاحبزادے کے ولیمے میں دہلی کی تینوں یونیورسٹیز کے اردو اساتذہ کو دعوت دی؛شہر میں کوئی بین الاقوامی سیمینار تھا سو، وہاں سے بھی بعض مہمان دعوتی دوست کے اصرار پر ،مارے محبت کے یا شوق ملاقات میں تشریف لے آئے، جس سے ماحول بڑا ہی خوشگوار اور خاصاادبی قسم کا ہوگیاتھا۔ ابن کنول صاحب اکثر اس تقریب کا ذکر بڑے ہی مسرت آمیز اور کسی قدر افتخار کے ساتھ کرتے کہ ولیمے میں اتنے اور اتنے بڑے بڑے شاعروادیب ، محقق و نقاد اور پروفیسر حضرات نے شرکت کی،سیمینار والے بھی آگئے تھے۔ لیکن اس بات کا اعادہ کرنابھی نہیں بھولتے کہ’’ کئیوں نے تو ولیمہ کھالیا اور لفافے بھی نہیں دیے ،یوں ہی چلے گئے۔‘‘
انھیں چھوٹے موٹے رکارڈز بنانے کا شوق، اپنوں میں مشہور ہونے کی تمنا اور نو واردوں کو پہلی بار موقع دے کر ان کے دل جیتنے کا  جیسا جذبہ تھا ، کم اساتذہ میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ واقعہ ہے کہ ان کے اِس طرز و توسط سے نئے پرانے اساتذہ اور بعض اردو داں حضرات کوبھی اچھا لگتا کہ ان کے بھی رکارڈز بن رہے تھے ۔ مثلاًاس طرح کی کوئی بات ہوتی تو فرماتے : دیکھیے فلاں کو اسسٹنٹ پروفیسر بنے ایک سال بھی نہیں ہوا تھا، کہ سب سے پہلے میں نے ہی انھیں ایم ۔فل کے وائیوا کے لیے اگزامنر بناکر بلوایا ۔ کبھی کوئی ذکر نکل آتا کہ فلاں شخص فلاں جگہ لیکچرر ہے ، تو بڑی خوشی کے ساتھ یاد دلاتے کہ اسے کہیں بھی کسی نے سیمینار تک میں نہیں بلایا۔ سب سے پہلے میں نے ہی ان سے اپنے شعبے میں توسیعی خطبہ دلوایا ۔ ایک دفعہ اساتذہ کی بحالی کی باتیں نکلیں تو اپنے ذریعے بحال کیے گئے بعض اساتذہ کے حوالے سے کہنے لگے : آپ صحیح کہہ رہے ہیں ،میں بھی جانتا ہوں کہ ان میں سے بعضوں کوزبان نہیں آتی ،اور لکھنا تو جانے دیجیے تلفظ تک درست نہیں ہیں ان کے ،لیکن کیا کرتا ان سے اچھاکوئی کنڈیدیٹ تھا بھی تو نہیں ۔ بہت سے گمنام یا نظر انداز کیے جانے والے شاعر، ادیب ، افسانہ نگار، استاذ اور سفارت خانہ کے افراد کو بھی بلوا کر شعبے میں لیکچر اور خطبے دلواتے۔اب ان میں سے بعض خطیب دس پندرہ منٹ کی سوانحی گفتگو کو خطبہ سمجھ بیٹھے تھے ،اور بی ،اے کے نوٹس کو لیکچر، تو ڈاکٹر صاحب کا کیا قصور ؟ کوئی رفیق لیکچر زپر بد دلی کا اظہار کرتا تو کہتے :ڈاک صاحب ہمیں تھوڑی رعایت دینی چاہیے ، پہلی بار میں اتنا توچلتا ہے ۔ ایک دفعہ ان کے سابق صدر شعبہ رفیق اور ان کے درمیان بحث چل نکلی ، رفیق نے کہاکہ میرے قلم سے بہت سے لوگ لیکچرر اور پروفیسر بنے ہیں،ڈاکٹر صاحب تڑپ اٹھے، ذرا تیز لہجے میں فرمایا:کیا بات کرتے ہوبھئی ، خواجہ احمد فاروقی کے بعد سب سے زیادہ یا شاید ان سے بھی زیادہ میرے قلم سے بنے ہیں۔ گناہ گار بھی وہاں حاضر تھا،عرض کیا: بحث یہ نہیں ہونی چاہیے کہ آپ لوگوں میں سے کس نے کتنوں کولیکچرر اور پروفیسر بنائے ، بحث یہ ہونی چاہیے کہ آپ دونوں نے کیسوں کو بنائے۔دونوں حضرات نے یکلخت سکوت فرما لیا ، پہلے ایک دوسرے کی جانب دیکھا ، تب میری طرف،پھر نظریں جھکائیں اور گفتگو کے موضوع نے پہلوبدل لیا۔
ابن کنول صاحب کی مجلسی گفتگو بہت دلچسپ ہوتی تھی، تنقیدی تحریریں بہت خوب نہیں ہیں۔ غالباً اس لیے کہ انھوں نے باضابطہ تنقید لکھنی کافی بعد میں شروع کی،یہی صورت حال ان کے خاکوں اور مزاحیہ مضامین کا ہے ۔ شاعری انھوں نے محض وقتی اور خوان تکلم کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے کی، تحقیق کا معاملہ بیشتر اسکالرز کی مانند ایم۔فل اور پی۔ایچ ڈی میں تفویض کیے گئے مقالوں سے جذباتی رشتے اور پہلے پیار کاسا رہا، البتہ افسانہ نگاری کے فن پر انھیں عبور تھا ۔اور کیوں کر نہ ہو کہ زمانہ ٔ طالبعلمی سے لکھ رہے تھے اور قاضی عبدالستار کے تربیت یافتوں میں تھے ۔ مختلف اساطیر ،اہم واقعات اوراپنے عہد کے سیاسی حالات کو افسانوی قالب میں ڈھالنا انھیں خوب آتا تھا۔’صرف ایک شب کافاصلہ‘، ‘سویٹ ہوم‘ اور’ تیسری دنیا لوگ ‘میں انھوں نے علی الترتیب ، اصحاب کہف،حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیوی بچوں کو وادی غیر ذی ذرع میں چھوڑ جانے اور جنگ بدر کے اساطیر کا اطلاق اپنے عہد کے حالات پر کیا ہے۔ ’ہمارا تمھارا خدا بادشاہ‘سیاسی نوعیت کاہے ۔’شام ہونے سے پہلے‘ تین کہانیوں پر مشتمل افسانہ ہے۔ان کے افسانوی فضا میں داستانوی ،حکائی، تمثیلی اورعلامتی رنگ نمایاں ہیں۔بیانیہ عمدہ اور زبان ستھری ہے۔ اگر افسانہ نگاری پر زیادہ توجہ صرف کرتے تو بلا شبہ ان کا شمار اردو کے اہم اور بڑے افسانہ نگاروں میں ہوتا۔
ابن کنول صاحب اپنی علمی و ادبی اور انتظامی شخصیت سے قطع نظر بڑے ہی بھولے انسان تھے۔ دل کا حال خدا جانتا ہے ، لیکن چہرہ اور زبان آئینے کی مانند شفاف تھے بھلے برے تاثرات اور سچی جھوٹی باتوں کوچاہتے ہوئے بھی چھپا نہیں پاتے تھے۔ یوں جانیے کہ اس ضمن میں وہ منافقانہ شناخت ناموں سے مبرا اورمومنانہ شان کے حامل تھے ۔کبھی اُس کمزور مگر ہوشیار بچے کی مانند دکھتے جوخود سے توانا حریف بچے کے زک پہنچانے کا براہ راست جواب دینے کے بجائے کوئی اور طریقہ سوچتا یا مناسب موقع کاانتظار کرتاہے ۔کبھی محسوس ہوتا وہ ترسی ہوئی محبوبہ جیسے ہیں جس جس نے ذرا رازداری سے پیار جتایا انھی کے ہولیے۔ ریٹائر منٹ کے بعد عمرے کو گئے تھے لوٹ کر آئے تو کافی خوش تھے ۔کیا عجب کہ رب غفورنے اپنے محبوب کے دربار میں حاضری دے کر لوٹنے والے پروفیسر ابن کنول کے اس عمل پر پیار جتایا ہو ، اورابن کنول صاحب مارے خوشی کے بس رب کریم کے ہی ہو رہے ۔

You may also like