پروفیسرفاروق احمد صدیقی کی تصنیف ’احساس وادراک‘:ایک مطالعہ-ڈاکٹر عارف حسن وسطوی

پروفیسرفاروق احمد صدیقی کا نام اردوشعروادب کے حوالے سے ادب واحترام سے لیا جاتا ہے۔ایک کہنہ مشق شاعر، معتبر ناقد، بہترین محقق اور عمدہ نثرنگارکی حیثیت سے وہ اردودنیامیںممتاز شناخت رکھتے ہیں۔موصوف کی ادبی زندگی پانچ دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ پر محیط ہے۔ادبی محاذپر بغیرکسی پبلیسیٹی کے وہ مسلسل لکھنے پڑھنے کا کام کررہے ہیں۔سنجیدہ موضوعات پر اظہارخیال اورعلم وآگہی سے عبارت تحریریںفاروق صدیقی کی شناخت ہیں۔ وہ انتہائی ذمہ داری کے ساتھ قلم اٹھاتے ہیںاوراس کا پاس ولحاظ بھی رکھتے ہیں۔ اپنی زبان اردو سے اوراردوادب سے ان کا رشتہ مضبوط،گہرا اورجذباتی ہے۔فاروق صدیقی کا تنقیدی سرمایہ بشکلِ تصنیف کم ہے۔لیکن رسائل وجرائد میں ان کے بکھرے تنقیدی مضامین معاصرادیبوںاورناقدوں کے درمیان انھیں انفرادیت بخشتے ہیں۔ فاروق صدیقی کا تخلیقی وتنقیدی شعوران کے مطالعے کی گہرائی،فکرونظرکی پختگی ،حافظے کی قوت اوراسلوبِ بیان کی تازگی سے عبارت ہے۔درس وتدریس کے پیشہ سے منسلک رہنے کی وجہ سے موصوف نے کلاس روم کے اندراورباہربے شمارافراد کی ذہن سازی کا کام کیاہے۔ان کے نزدیک زانوئے ادب تہہ کرنے والے بہتیرے آج یونیورسٹیوں میں درس وتدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان کے علمی وادبی سفرنے بہتوں کو فیض پہنچایاہے اوربفضلہ تعالیٰ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
’’احساس وادراک‘‘پروفیسرفاروق احمد صدیقی کے تنقیدی مضامین کا چوتھا مجموعہ ہے۔اس سے قبل ان کے تنقیدی مضامین کے تین مجموعے’’افہام وتفہیم‘‘،’’تفہیم وتجزیہ‘‘اور’’مقالات فاروقی‘‘منظر عام پر آچکے ہیںاوراہل علم کے درمیان متوازن اورمعیاری ناقدانہ بصیرت کی خوشبو بکھیرچکے ہیں۔ان کی دیگرتصانیف ’’دیوانِ ریاض حسن خاں خیال‘‘(تحقیق)،’’ڈاکٹر مغفوراحمد اعجازی‘‘ (مونوگراف)، ’’ازہارِ مدینہ‘‘(نعتیہ مجموعہ)اور’’چمنستانِ نعت(بیسویں صدی کے نمائندہ اردونعت گوشعراکے کلام کا انتخاب) بھی ان کے ادبی مقام ومرتبے اور دانشوری کو واضح کرتی ہیں۔
’’احساس وادراک‘‘کے مشتملات تین ذیلی عنوانات کے درمیان منقسم ہیں،جنھیں مضامین،تبصرے اورتاثرات کے زمرے میں الگ الگ رکھا گیا ہے۔ بیشترتحریروں میں تنقید وتحقیق کے ڈانڈے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ایک دوتحریریں خالص تحقیق کے زمرے میں رکھی جائیں گی۔دوچارمختصرتحریریں تاثراتی نوعیت کی حامل ہیں۔تحقیقی وتنقیدی مضامین کے عنوانات حسبِ ذیل ہیں:بہارمیںاردونعت کا آغاز وارتقاء،علامّہ سید سلیمان اشرف کا اسلوبِ تحریر،شادؔعظیم آبادی کی شاعرانہ عظمت کے بوقلموں جلوے،اجتبیٰ رضوی کی رباعیات کا تجزیاتی مطالعہ،جمیل مظہری کانعتیہ قصیدہ(بطرزِ محسن کاکوروی)اک تجزیاتی مطالعہ،عطاؔکاکوی کی غزل گوئی(جمالِ غزل کے حوالے سے)،نواب سعادت علی خاں پیغمبرپوری کی شاعرانہ عظمت وانفرادیت،کلیمؔعاجز:ایک خوشنوافقیر،کائناتِ آرزو پر اک نظر،قیصرؔصدیقی اک ممتاز ومایہ نازفن کارغزل،جدید اردوتنقید کا ایک معتبرنام:ڈاکٹر خورشید سمیع،صباؔنقوی کی غزل گوئی،راشد طراز کی ایک مشکبارغزل کا تجزیاتی مطالعہ،بہارمیں جدیداُردوغزل کے نقاد،آسماں تہہ خاک:اِک تعارفی نوٹ اورظفرؔصدیقی کی غزل گوئی۔ کتاب کا پیش لفظ لکھتے ہوئے مصنف کتاب نے اپنے ادبی موقف کی صراحت کچھ اس طرح کی ہے:
’’شعروادب کے تعلق سے کوئی جامد اورمتعین نقطۂ نظر نہیں ہوسکتا ہے۔زندگی تغیرپذیر ہے۔اس لیے عصری مسائل ومعاملات سے ایک ادیب وناقد کا اثرپذیر ہونافطری بات ہے۔ان مضامین کا مصنف بھی قلب حساس کا مالک ہے۔اس لیے وہ ملکی اورعالمی سطح پررونما ہونے والے واقعات وحادثات سے گہرے طورپر متاثر ہوا ہے۔اس کا انعکاس آپ واضح طورپر اس مجموعہ کے مشتملات میں محسوس کریں گے۔میں بہرحال ادب کی صحت مند،تعمیری اورمثبت قدروں کا حامی ہوں۔آئندہ بھی اردوشعروادب کواسی رنگ وروپ میںدیکھنا چاہتا ہوں۔اس کتاب کی پیش کش کا یہی جواز ہے۔‘‘(ص:11-12)
مندرجہ بالا اقتباس کی روشنی میں پر وفیسرفاروق احمد صدیقی کا ادبی موقف واضح ہے۔ادب کے افق پر نمودارہونے والی کوئی بھی تحریک ان کے نزدیک شجرممنوعہ تونہیں ہے لیکن ادب کی صحت مند،تعمیری اورمثبت قدروں کی حامی بھر کرانھو ںنے ادب برائے ادب کے برخلاف ادب برائے زندگی کو تسلیم کیا ہے۔پروفیسرفاروق احمد صدیقی کی تحریروں کا مطالعہ ان کے ادبی موقف کے تناظرمیںخاصا وقیع کام ہے۔وہ فن پارہ کو فنکارکی شخصیت سے الگ کرکے دیکھنے کے متمنّی نہیں ہیں۔وہ سکہّ رائج الوقت ناقدین ادب کی ہاں میں ہاں ملانے کے بھی قائل نہیں ہیں۔ان کی ناقدانہ بصیرت خودان کے مطالعہ کی گہرائی، ادب فہمی کی پختگی اوراعلیٰ ادبی ذوق سے مہمیز ہے۔اگرکوئی فنکاران کے معیارنقد پر کھراہے توکھرا ہے اورکھوٹا ہے توکھوٹا ہے۔فاروق صدیقی اپنی تحریروں میں گومگو کی کیفیت میںکہیں گرفتارنہیں ہوتے۔وہ نہ تودبے الفاظ میں ہجولکھتے ہیں اورنہ لفظوں کی موتیاں پروکر قصیدہ خوانی کرتے ہیں۔وہ اس شاہراہ سے اس شان سے گزرتے ہیں جہاں ان کی باتیں دوٹوک،غیرمصالحانہ اورغیرجانبدارانہ ہوتی ہیں۔چنداقتباسات بطورمثال ملاحظہ ہوں:
’’شادؔکی شاعری کسی سکّہ رائج الوقت نقاد یا نقادوں کی بے جاعنایات ونوازشات کی مرہونِ منّت کبھی نہیں رہی۔بلکہ تاریخ صداقت تویہ ہے کہ اپنوں (اہل بہار)نے بھی ان کوشعوری طورپر نظرانداز کیا اوراغیارتواغیارہی ٹھہرے ان کا شکوہ کیا۔مگرجادووہ جوسرچڑھ کر بولے کے مِصداق خودان کے بلند شعری کارناموں نے اہل علم وادب کو اپنی غیرمعمولی اہمیت کا احساس دلایا اوراپنی طرف متوجہ کیا۔‘‘(شادؔعظیم آبادی کی شاعرانہ عظمت کے بوقلموںجلوے،ص:۴۶)
’’اہل نظرجانتے ہیں کہ ان(اجتبیٰ رضوی)کی شاعری کی اساس فلسفیانہ ہے۔اس لیے تفکر وتخیّل کی گہرائی اوربلندپروازی سے ان کی رباعیاں مملو اورمایہ دارنظرآتی ہیں۔وہ دراصل مابعدالطبیعات کے شاعرہیں۔اس لیے اردو رباعیات کے عمومی مضامین اخلاق وتصوف،بے ثباتی دنیا اورغم روزگاروغیرہ ان کے یہاں تقریباً عنقا ہیں۔ان کی رباعیات حکمت وفسلفہ سے شروع ہوکرحیرت واستعجاب پر ختم ہوتی ہیں۔اس لیے عام قارئین کے علم وفہم کی رسائی وہاں تک نہیں ہوپاتی ۔اوروہ اس بھاری پتھر کو چوم کرآگے بڑھ جاتے ہیں۔‘‘ (اجتبیٰ رضوی کی رباعیات کا تجزیاتی مطالعہ،ص:56)
’’ان(عطاکاکوی)کی دیگرحیثیات سے صرفِ نظرکرتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ایک شاعرہی نہیں،استادالشعراء تھے۔لیکن بوجوہ ان کے ہم عصروں میںجمیلؔمظہری،پرویز شاہدی اوراجتبیٰ رضوی کے بعدہی ان کا نام آتا ہے۔یہ کسی ناقد ومحقق یا ادبی جیوری کافیصلہ نہیں ہے،بلکہ زمانے کا فیصلہ ہے۔وہ اس طرح کہ جمیلؔ،پرویز اوراجتبیٰ کی تثلیث کی ایک زمانے میں بڑی دھوم تھی،مگرعطاکاکوی اس میں کبھی شامل نہیں کیے گئے۔حالانکہ بحیثیت مجموعی خدمات وہ ان تینو ںپر فائق تھے۔حاصلِ بحث یہ کہ ان کا شاعرانہ مقام ومرتبہ ان اصحابِ ثلاثہ کے بعدہی آتا ہے اورآج بھی اہل علم وادب کا مجموعی تاثریہی ہے۔‘‘(عطاؔکاکوی کی غزل گوئی،ص:73)
’’اہل نظرجانتے ہیں کہ سعادت علی خاں مدت العمرعروس غزل ہی کی مشاطگی میںلگے رہے۔وہ فنافی الغزل تھے۔اس لیے ان کی شاعرانہ عظمت وانفرادیت کا تعیّن ان کی غزلوں کے حوالے سے ہی ہوگا۔جن پر عشق مجازی کا جلوۂ صدرنگ حاوی ہے۔یعنی حسن وعشق کی کشاکش،معشوق سے چھیڑ چھاڑ،گل وبلبل کے قصے،لب ورخسارکی باتیں،ہجروفراق کے گلے وشکوے،شراب وکباب کے تذکرے اورواعظ وناصح پرطنز وطعن وغیرہ ۔الغرض داغؔ اسکول کے تمام اجزاولوازم پورے طمطراق کے ساتھ اُن کے یہاں موجود ہیں۔‘‘(نواب سعادت علی خاں پیغمبرپوری کی شاعرانہ عظمت وانفرادیت،ص:85)
’’کلیمؔعاجز نے اپنی تقریباً ہر غزل میں رمزیت اورایمائیت سے کام لے کر اپنے نظامِ فن کو چُست اوردرست رکھا ہے۔کیونکہ صرف فکروخیال کی گراں مایگی کے باعث کوئی شعرآفاقیت کا حامل نہیں ہوتا۔وہ اس نکتۂ باریک سے بخوبی واقف تھے۔اس لیے ان کی غزلوں میںبالعموم فکربلند اورفن لطیف کا حسین امتزاج بحدّ وافرملتاہے۔‘‘(کلیم عاجزؔ:ایک خوش نوا فقیر،ص:96)
’’اُن(قیصرؔصدیقی)کی غزلوں میںافکاروخیالات کی سطح پر توتنوع اوربوقلمونی بہ حدّ وافرملتی ہی ہے،پیرایۂ اظہارمیںبھی ندرت،نفاست اوردلکشی،کرشمہ دامنِ دل میکشدکہ جاایں جاست کی حامل نظرآتی ہے اوران دونو ںکی یکجائی کا جلوۂ صدرنگ دیکھنا ہوتوان اشعارکو دیکھیے جن میں انھو ںنے عصری مسائل ومصائب پر گفتگوکی ہے۔‘‘(قیصرؔصدیقی ایک ممتاز ومایہ نازفن کارغزل ،ص:111)
اسلامی تہذیب سے اٹوٹ محبت ،شعارِ ا سلام سے والہانہ عقیدت اورعشق رسول سے لبالب پروفیسرفاروق احمد صدیقی کی ذات وصفات کا پرتوان کی تحریروں میں نمایاں ہے۔وہ اپنی تحریروں میں جگہ جگہ قرآن واحادیث نبویؐ کو نقل کرتے ہیں۔انھیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ ان کے نقطۂ نظرکو اسلام پسندی پر مملو کردرکنارکیاجائے گا۔وہ انتہائی قطعیت اوراعتمادکے ساتھ اپنی فکری اساس کو نذرِ قارئین کرتے ہیں۔ان کی نگاہ ایسے فنکاروں کو تلاش کرتی ہیں جو اسلام اورپیغمبراسلام کی محبت میں سرشارہوں۔اورجب ان صفات سے متصف کوئی فن کارفاروق صدیقی کی نگاہوں سے گذرتا ہے تووہ اس کا استقبال کرتے ہیں،سنجیدگی سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں اورپھر نپے تلے الفاظ میں کوئی رائے قائم کرتے ہیں۔اس کتاب میں شامل کئی تحریریں اس خاص نقطۂ نظر کو واضح کرتی ہیں ۔
فاروق صدیقی جینوئن قلمکاروں کی نگارشات کو ایک نظردیکھ کر رکھ دینے کے قائل نہیں ہیں۔وہ خدمت کا اعتراف کرتے ہیں۔حوصلہ افزائی اورقدرشناسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ چھوٹے اوربڑے قلمکارکی کوئی قیدان کے نزدیک روانہیں ہے۔ ان کے اندرتنگ دلی بھی نہیں دیکھی جاتی ہے۔وہ فراخ دلی سے کام لیتے ہیں۔شاہ عمران حسن کی مولانا وحیدالدین خاں کی سوانح پر مرتب کتاب’’ارواقِ حیات‘‘،’’صباح الدین عبدالرحمن کی کتاب مولانا سید سلیمان ندوی،پروفیسرابوذرکمال الدین کی کتاب’’زندگی ریٹائرمنٹ کے بعد‘‘ مولانا عبیداللہ خاں اعظمی کے خطبات پرمشتمل کتاب’’مضامین خطیب الہند‘‘،تفضیل احمد کی غزلوں کا مجموعہ’’ٹکسال‘‘اورانوارلحسن وسطوی کے مضامین کا مجموعہ’’انعکاسِ قلم‘‘جیسی تحریریں جو تبصرے اورتاثرات کی شکل میں اس کتاب میں شامل ہیں فاروق صدیقی کی ادبی قدرشناسی کی دلیل ہیں۔
اختصاروجامعیت فاروق صدیقی کی تحریروں کے وصف خاص ہیں۔وہ اکثروبیشتر(چند مضامین سے قطع نظرجن میں بطورخاص نعتِ پاک کا ذکر شامل ہو)طوالت سے گریز کرتے ہیں۔اس لیے قاری کو انھیں پڑھتے وقت اُکتاہٹ کا احساس نہیں ہوتا ہے۔لیکن تبصرے اورتاثرات قلمبند کرتے وقت کہیں کہیں اختصار(نعت گوئی کے عنوان کو چھوڑ کر)تشنگی کا جامہ پہن لیتا ہے۔ عربی وفارسی الفاظ ان کی تحریروں میں برجستگی کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔مجموعی طورپر ’’احساس وادراک‘‘کے مطالعہ سے قاری ایک خوشگواراحساس سے آشنا ہوتا ہے۔