پروفیسر انیس سلطانہ کی رحلت، ادبی فضا سوگوار

بھوپال:(رضوان الدین فاروقی) بھوپال سے تعلق رکھنے والی سلیقے مند طنز ومزاح نگار، باریک بیں نقاد اور منجھی ہوئی شاعرہ ڈاکٹر انیس سلطانہ آج بتاریخ یکم مئی ٢٠٢١ کو رضائے الٰہی سے وفات پا گئیں ـ
پروفیسر انیس سلطانہ ۲ جولائی ۱۹۴۱ کو بھوپال میں پیدا ہوئیں۔ والد کا آبائی وطن آگرہ تھا۔ بچپن میں آپ نے اپنے ماموں سید اقبال حسین سے کسب فیض کیا۔ابتدائی تعلیم بھوپال میں حاصل کرنے کے بعد ۱۹۶۳ میں وکرم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور اسی یونیورسٹی سے ۱۹۶۸ میں فارسی میں ایم اے کیا۔ ’’بھوپال میں اردو تحقیق تنقید‘‘ کے موضوع پر آپ کو برکت اللہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی۔ ابتدائی ملازمت سلطانیہ گرلس اسکول سے شروع کی۔ بعد ازاں گرلس کالج اوجین میں لکچرر کی حیثیت سے تقرر عمل مین آیا۔ ۳۲ سال ایم ایل بی گرلس کالج بھوپال میں اردو درس و تدریس کے مقدس پیشے میں گزار کر بحیثیت صدر شعبۂ ۲۰۰۱ میں سبکدوش ہوئیں۔
زمانۂ طالب علمی سے ہی آپ کا رجحان انشائیہ نگاری کی جانب تھا اور یہی صنف آپ کی ادبی شناخت بنی۔ ابتدائی دور کے کچھ انشائیے کالج میگزین میں شائع ہوئے بعد ازاں آپ کے اکثر انشائیے موقر ادبی رسالے ’’شگوفہ‘‘ اور دیگر ادبی جرائد میں شائع ہوئے۔ آپ کے اب تک دو انشائیوں کے مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ جن میں پہلا’’ قصور معاف‘‘ ۲۰۰۳ میں منظر عام پر آیا جبکہ دوسرا مجموعہ ’’اک ذرا‘‘ کے نام سے ۲۰۲۰ میں منظر عام پر آیا۔ آپ کے دو شعری مجموعے ’’تنگ نائے غزل(۲۰۱۰) اور سرگوشیاں (۲۰۲۰) بھی شائع ہوئے۔اس کے علاوہ آپ کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’تنقیدی سروکار‘ کے نام سے منظر عام پر آیا ۔ آپ کے انشائیوں کے پہلے مجموعہ ’’قصور معاف‘‘ مدھیہ پردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی نے اعزاز سے نوازا۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے سال ۰۶۔ ۲۰۰۵ میں محمد مہر صوبائی اعزاز اور ۲۰۱۴ میں ’’قومی اعزاز برائے طنز و مزاح‘‘ سے نوازا۔
پروفیسر انیس سلطانہ کی رحلت سے بھوپال کی ادبی فضا سوگوار ہوگئی ہےـ