پروفیسر ابوالکلام قاسمی کی یاد میں-اشعر نجمی

اردو کے ممتاز نقاد ابوالکلام قاسمی صاحب اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔
کتنا رسمی سا جملہ ہے، کتنا ٹھس فقرہ ہے۔ لیکن یہ رسمی خبر ان لوگوں کے لیے ایک غیر معمولی سانحہ میں بدل جاتا ہے جن کی یادیں اس شخصیت سے جڑی ہوتی ہیں۔ یادوں کے چلمن لہرانا شروع ہوجاتے ہیں اور ماضی قریب و بعید کی ٹمٹماتی لَویں اچانک بھڑک اٹھتی ہیں۔ ابوالکلام قاسمی صاحب کے انتقال کی یہ خبر مجھ سمیت ایسے بہت ساروں کے لیے ایک ایسا صدمہ ہے، جو ہماری یادوں کو تہہ و بالا کرنے کے لیے کافی ہے۔
ابوالکلام قاسمی صاحب کو ایک زمانے سے پڑھتا رہا ہوں لیکن ان سے ملاقات کا شرف اس وقت حاصل ہوا جب میں سہ ماہی ’اردو کیمپس‘ کا پہلا شمارہ لے کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس پہنچا۔ وہاں کا سارا اہتمام و انتظام محترم قاضی افضال صاحب اور قاضی جمال صاحب نے کررکھا تھا ۔ لیکن میں میرٹھ اور علی گڑھ کے درمیان ہی تھا کہ قاضی جمال صاحب کا فون آگیا۔ انھوں نے خبر دی کہ کسی عزیز کے انتقال کے سبب ان دونوں بھائیوں کو وطن نکلنا پڑ رہا ہے، لیکن ہم نے سب انتظام کردیا ہے، آپ بالکل پریشان نہ ہوں، آپ کے قیام و طعام سے لے کر مجوزہ پروگرام تک کا خاطرخواہ انتظام کردیا گیا ہے، آپ کے استقبال کے لیے طلبا اور اساتذہ موجود ہوں گے۔ اور جب میں نے یہ سنا کہ پروگرام کی صدارت ابوالکلام قاسمی صاحب کریں گےتو جیسے میری روح ہی تو پرواز ہوگئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں قاسمی صاحب اور فاروقی صاحب کے درمیان ٹھنی ہوئی تھی اور چونکہ لوگ اثبات کے سبب مجھے فاروقی کا ’بندہ‘ سمجھتے تھے تو ظاہر ہے میرے ذہن میں یہ برے خیالات آنا فطری تھے کہ پتہ نہیں قاسمی صاحب میری کیا درگت بنائیں۔
خیر صاحب، یہاں تک تو بات درست تھی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں میرا بہت اچھا استقبال ہوا۔ قیام و طعام کا تقریباً VIP درجے کا اہتمام تھا۔ لیکن رات بھر اندیشوں سے نیند نہ آئی۔ دوسرے روز ایک طالب علم مجھے شعبہ اردو کے دفتر لے گئے جہاں اساتذہ نے بڑی گرم جوشی سے میرا استقبال کیا۔ ابھی صوفے پر بیٹھا ہی تھا کہ خاکی رنگ کا سفاری سوٹ پہنے ایک شخص تیز قدموں سے دفتر میں داخل ہوا۔ سارے اساتذہ اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ میں اپنی فطرت سے مجبور ویسا ہی بیٹھا رہا۔ پھر اس سے پہلے کہ اس شخص سے میرا کوئی تعارف کراتا، وہ جہاں دیدہ شخص سمجھ گیا اور میری طرف بڑھا اور اپنا تعارف کرایا، ’مجھے ابوالکلام قاسمی کہتے ہیں۔‘ میں اسپرنگ کی طرح اچھل کر صوفے سے کھڑا ہوگیا۔ میں نے ان سے معذرت طلب کی کہ میں نے اس سے پہلے ان کی تصویر تک نہ دیکھی تھی، سو یہ بدتمیزی سرزد ہوگئی۔ انھوں نے شفقت سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مجھے ساتھ لیتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئے۔ بہت دیر تک ادبی موضوعات اور اثبات کے شماروں پر گفتگو کرتے رہے۔ لہجہ اتنا نرم اور مشفقانہ کہ میں دل ہی دل میں خود کو گالیاں دینے لگاکہ خواہ مخواہ اس مرنجاں مرنج شخص کو لے کر بدگمانیاں تھیں۔ پھر جب جلسہ گاہ میں ہم پہنچے تو انھوں نے مجھ سے اپنی ایک نئی کتاب کا ذکر کیا جسے میں پہلے ہی پڑھ چکا تھا۔ انھوں نے پوچھا، کیسی لگی؟ میں نے جب بولنا شروع کیا تو وہ ہنسنے لگے ، پھر کہا کہ کمی اور کوتاہی بتائیے۔ میں نے دبی زبان میں کچھ نظری اختلاف کیا تو بہت خوش ہوئے اور کہا، آپ سچ مچ ایک اچھے قاری ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ آپ میں جرأت اظہار ہے۔ خیر پروگرام چلتا رہا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب معمولی بات نہیں تھی۔ ایک سے ایک عالی دماغ اور ریسرچ اسکالر سامنے بیٹھا تھاجو کبھی بھی اٹھ کر سر محفل آپ سے سوال کرسکتا تھا۔ لیکن یہ مرحلہ خیریت سے گزرا ۔ پھر خطبہ صدارت کا وقت آیا۔ ابوالکلام قاسمی صاحب نے بے لاگ گفتگو کی۔ اردو کیمپس کی بہت زیادہ تعریف کی اور یونیورسٹی کی انتظامیہ کو تاکید کی کہ اس کے ہر شمارے کی پچاس سو کاپیاں خریدنا آپ پر فرض ہے، یہ اور بات ہے کہ انتطامیہ نے سنی اَن سنی کردی ۔ ‘اثبات‘ کو بھی ایک بہترین پرچہ قرار دیا لیکن اس کے کچھ شماروں پر تنقید بھی کی۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد قاسمی صاحب نے میرے کان میں سرگوشی کی ’’میں نے کچھ زیادہ تو نہیں کہہ دیا؟‘‘ میں ہنسنے لگا اور ان سے برملا دریافت کیا، ’کیا یہ جوابی کارروائی ہے؟ آپ جب تنقید برداشت کرسکتے ہیں تو تنقید کرنا آپ ہی کا حق ہے۔‘‘ پھر ہمیں اور دیگر اساتذہ کو ناشتے کی جگہ لے جایا گیا جہاں ایک بار پھر ہم نے ڈھیر ساری باتیں کیں۔ دوسرے دن مجھے کانپور نکلنا تھا، ریزرویشن کنفرم تھا۔ قاسمی صاحب نے مجھ سے ٹرین کا نام اور وقت دریافت کیا اور پھر کہا کہ میں اسٹیشن آؤں گا۔ میں نے لاکھ منع کیا لیکن وہ بضد رہے۔ دوسرے دن صبح کی ٹرین تھی، میں اپنے وقت مقررہ پر اسٹیشن نکل گیا۔ ٹرین آنے ہی والی تھی کہ قاسمی صاحب کا فون آگیا۔ کہا، میں آرہا ہوں۔ میں نے ایک بار پھر کہا کہ سر ٹرین بس آچکی ہے۔ آپ کے آتے آتے ٹرین چھوٹ جائے گی، کیا فائدہ، اس لیے خدارا زحمت نہ کریں۔ بہت دیر تک بات کرتے رہے۔ میں نے ممبئی آنے کی دعوت دی، خوشی سے راضی ہوگئے، کہنے لگے کہ آپ کے ہاں رہوں گا۔ لیکن کبھی وہ آئے نہیں، البتہ ان کے فون برابر آتےرہے۔ امروز کا ہر شمارہ محبت سے بھیجتے اور میں انھیں اثبات کا ہر شمارہ۔ بار بار اصرار کرتے رہے کہ امروز کے لیے کوئی مضمون بھیجیے۔ میں کاہل ترین شخص اداریہ کے نام پر دس صفحے لکھ سکتا ہوں لیکن مضمون کے نام پر چار صفحے لکھنے میں جان جاتی ہے۔ شہناز رحمٰن نے بتایا کہ وہ میرے ناول پر ان کا تبصرہ آئندہ شمارے میں چھاپنا چاہتے تھے، کئی بار شہناز کو یاد دہانی کرائی، بالآخر شہنازرحمٰن نے ابھی ایک ہفتہ قبل انھیں اپنا تبصرہ بمع اضافہ بھیج دیا تھا۔ لیکن اجل نے موقع نہیں دیا ، وہ ان کی زندگی پر پہلے ہی تبصرہ کرچکا تھا۔
آج جب ان کے رخصت ہونے کی خبر آئی تو ایسا لگا کہ جیسے میں اب بھی علی گڑھ کے اسٹیشن پر کھڑا ان کے آنے کا انتظار کررہا ہوں؛ لیکن میری ٹرین چھوٹ چکی ہے۔