پرتھوی راج چوہان سے منسلک تاریخی حقائق، اجتماعی حافظہ کی سیاست اور مسلم مخالف نفرت کا کھیل ـ پروفیسر محمد سجاد

“ہسٹری محض فاتح قوم کا پروپیگینڈہ ہے”۔ یہ گہرا اور بصیرت افروز جملہ ہے قرة العین حیدر کے ایک افسانہ، “دریں گرد سوارے باشد” کا۔ اسی افسانے میں دیگر اہم جملے بھی اس نوعیت کے ہیں،مثلا:
“تاریخ خدا کا vision ہے” ـ
“خدا تاریخ کے ذریعہ اپنا پلان ورک آؤٹ کرتا ہے” ـ
“یہ ما بعد التواریخ ہے” ـ
“لیکن انگریز جو اپنی کتابوں میں مسلمانوں کو foreign power لکھ گیا اس بے ایمانی اور شرارت کا نتیجہ ہم آج تک یہاں بھگت رہے ہیں” وغیرہ، وغیرہ۔

مذکورہ افسانہ کے مندرجہ بالا مکالمے ہماری توجہ کے طلب گار ہیں۔

انیسویں صدی کے ہندوستان اور اس میں برطانوی حکمراں کے پاور پلے (کھیل ) کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ تناؤ پیدا کرنے اور اس کشیدگی کو برقرار رکھنے کے لئے تاریخ نویسی میں خاص طور سے چھیڑ چھاڑ کی گئی۔

ایسی ہی سیاسی چھیڑ چھاڑ کی وجہوں سے عہد بہ عہد پرتھوی راج چوہان (1166-1192) کی شکست کی تاریخی حقیقت کو مختلف ادوار میں مختلف طریقے سے پیش کیا گیا، اور تاریخی حقیقت و اجتماعی حافظے میں تفاوت، خلیج، و اختلاف بڑھتا گیا۔ جیمس ٹوڈ نے 1829 سے 1832 کے درمیان پرتھوی راج چوہان سے منسلک ، غیر حقیقی یادوں اور تاریخی حقائق کو گڈمڈ کر کے کچھ ایسی ہی سیاست کر ڈالا۔ گرچہ یہ کھیل اس سے قبل بھی کھیلا گیا تھا۔ اسی جیمس ٹوڈ نے پرتھوی راج چوہان کو “دی لاسٹ ایمپیرر”، یعنی، آخری ہندو بادشاہ، بھی کہا تھا۔

مشہور تاریخ نویس، سنتھیا تالبوٹ نے ، کیمبرج یونی ورسٹی پریس، سے شائع اپنی کتاب، دی لاسٹ ہندو ایمپیرر (2016)، میں ، اسی بتدریج ، عہد بہ عہد، بارہویں صدی سے بیسویں صدی عیسوی تک، بدلتے اجتماعی حافظے کی توجیہ اور توضیح کی ہے۔ کہ آخر ان بدلتے ہوئے اجتماعی حافظے کا تاریخی پس منظر، سیاسی ایجنڈا، کیا تھا، اور ٹارگٹ سامع کون لوگ تھے۔
لہذا سنتھیا کی دلچسپی پرتھوی راج کی حقیقی تاریخ کے بجائے، اس پر ہے کہ سیاست اور اقتدار کے کھیل میں انہیں، عہد بہ عہد، لوگوں نے کن کن طرح سے اپنے حافظے میں بسایا ہے۔

کتاب کی شروعات میں سنتھیا نے انسکرپشن، ہند فارسی تاریخ، اور سنسکرت لٹریچر سے استفادہ کیا ہے۔ تاکہ یہ منکشف ہو سکے کہ حقیقت کو کس طرح مروڑا جاتا رہا۔ ان ابتدائ مآخذات میں پرتھوی راج کو ، پرتیہارا راج شاہی خاندان کے ماتحت کے طور پر راج کرنے والے ایک نا اہل حکمراں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جس کا صدر مقام اجمیر (اجے میرو) تھا۔

چودہویں و پندرہویں صدی کے مغربی بھارت کے جین کے سنسکرت سورسز میں بھی اسے ایک کمزور اور اخلاقی زوال کا شکار حکمراں کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اور شہاب الدین محمد غوری کے ہاتھوں پرتھوی راج کی شکست (1192) کی وجہ کو اس کے اخلاقی زوال سے جوڑتے ہیں۔ یعنی پندرہویں صدی تک وہ کسی مخصوص خطے یا کمیونیٹی کے ہیرو کے طور پر نہیں ابھرے تھے۔ لیکن، اہم بات یہ ہے کہ، تب تک، وہ اجتماعی حافظے سے غائب بھی نہیں ہوئے تھے۔

سنتھیا کی کتاب کا بڑا اور اہم حصہ سولہویں صدی کے اخیر میں لکھی گئ چندبردئ کی منظوم افسانوی تخلیق، "پرتھوی راج رسو”، کے ارد گرد ہے۔ یہ تخلیق برج بھاشا میں ہے، جس میں راجستھانی الفاظ کا بھی استعمال ہے۔

اس کے بعد، یہ افسانوی منظوم تخلیق کم از کم چار مختلف شکلوں میں لوگوں کے درمیان گشت کرتی رہی۔ چند بردئ نے اپنی اس کہانی میں خود کو پر تھوی راج کے وزیر کے طور پر پیش کیا۔ چند بردئ کی تخلیق کی ان سبھی شکلوں ( recensions ) میں پرتھوی راج کا شدید اختلاف قنوج کے راجہ، جے چند، سے دکھلایا ہے۔ پرتھوی راج، قنوج کی راج کماری، سنجوکتا، کو اغوا کرنے میں اپنے اقتصادی و ملٹری وسائل اس قدر ضائع کر دیا کہ غوری سے لڑائ کے وقت تک وہ کافی کمزور ہو چکا تھا۔ علاوہ ازیں، اس نے اپنے وزیر، کےمس، کا قتل بھی کیا تھا، اس سے بھی لوگوں میں اس کے خلاف ناراضگی تھی۔ حالاں کہ کےمس بھی ایک عیاش، بد چلن، وزیر مانا جاتا تھا۔

اس منظوم افسانوی تخلیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ مفتوح پرتھوی راج کو اندھا کر کے غزنی لے جایا گیا۔ چند بردئ نے غزنی جا کر غوری سے بات چیت کرکے اسے کسی طرح ایک تیر اندازی کے مقابلے کے لئے آمادہ کیا۔ اس مقابلے میں ، پرتھوی راج نے، اندھا ہونے کے باوجود، غوری کو تیر سے مار ڈالا۔ اور اس طرح پرتھوی راج کا انتقام پورا ہوا۔ پھر پرتھوی راج کو غزنی میں ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس افسانوی اختراع میں پرتھوی راج کا نانیہال کی جانب سے دلی کے تخت سے تعلق کی حقیقت برقرار رکھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ تیرہویں صدی میں دہلی سیاست و اقتدار کا مرکز بن چکی تھی۔ لہذا چند بردئ، اپنی اس منظوم کہانی کے معرفت ، پرتھوی راج کی سیاسی اہمیت کو سولہویں صدی میں بحال کر رہا ہے۔

سنتھیا بتاتی ہیں کہ چند بردئ کے معرفت ابوالفضل نے دہلی، راجستھان، ہریانہ کے علاقے میں بسے راجپوتوں کے اندر مارشل جوش اور دہلی-آگرہ کی مغل حکومت کے تئیں، راجپوتوں کے اندر، وفاداری کا جذبہ بحال کروانے کا کام کیا، اور اس طرح مغل حکومت کو راجپوتوں کی مدد سے، مستحکم بنایا۔ یعنی، چند بردئ کی اس افسانوی منظوم تخلیق کو مقبول کروانے میں اکبر کے ابوالفضل کا اہم رول ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ، راج راسو، نظم کی طویل ترین اور مقبول ترین شکل سترہویں صدی کے آخر اور اٹھارہویں صدی کی شروعات (1635-1703) میں وجود میں آئ، جب راسو کو میواڑ کے علاقائ حکومت نے مغل حکمراں کے خلاف راجپوتوں کو متحد کرنے کے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا، اور اس نظم کو مقبول کروایا۔
سنتھیا کی کتاب کا باقی حصہ یہ بتاتا ہے کہ، راج راسو کی اسی شکل کو ، جیمس ٹوڈ ، مغربی ہندوستان میں ، ایک مستند تاریخ کے طور پر پیش کرنے کی مہم چلاتا رہا۔ جیمس ٹوڈ کے اس عمل کی مزاحمت کویراج شیامل داس (1836-1894) نے کیا، جو بذات خود کوئ پروفیشنل یا ٹرینڈ تاریخ نویس نہیں تھے۔ لیکن نہایت پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ پرتھوی راج راسو ایک سولہویں صدی کی تخلیق ہے جسے مستند تاریخ سمجھنے کے بجائے مسترد کیا جانا چاہئے۔

اس کے بعد اس تخلیق کو ایک معیاری ہندی ٹکسٹ کے طور پر شمالی ہند میں اس وقت پیش اور مقبول کرایا جا رہا تھا جب اردو مخالف ناگری/ہندی تحریک انیسویں صدی میں اپنے شباب پر تھی۔ اور اس طرح اب ، راج راسو ، متصادم نیشنلزم کا آلہ کار بن گیا۔
اس میں بھارتیندو ہریش چندر (1850-1885) کی سر پرستی میں کام کرنے والے موہن لال وشنو لال پانڈیہ (موت 1912) نے اہم رول نبھایا۔ انہوں نے پر تھوی راج بہ نام غوری کی افسانوی داستان کو ہندو بہ نام مسلمان بنا کر انگریزی حکومت کا ہندوستانیوں کو بانٹنے کا کام آسان کر دیا۔
اس طرح ایک طرف دانشورانہ انگریزی تحریروں میں فارسی اور سنسکرت مآخذات کو معتبر مانا گیا، تو دوسری جانب ورناکیولر اور زیادہ مقبول تحریروں میں پرتھوی راج کو ایسے ہیرو کے طور پر مقبول کرایا گیا جو غیر ملکی طاقتوں سے لڑنے والے دیش بھکت کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

سنتھیا کی کتاب کا آخری حصہ، پس نوشت یا ایپی لاگ ، پوسٹ کولونئیل پرتھوی راج ، کے طور پر ہے ، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انیسویں صدی میں پرتھوی راج کے تعلق سے مستند تاریخ اور مقبول تاریخ کے درمیان جو تفاوت و تصادم پیدا ہوا وہ ما بعد آزادی بھی برقرار رہا۔ یہی تفاوت اور تصادم پیشہ ور تاریخ نویسوں کے لئے آج بھی ایک چیلنج (چنوتی) بنی ہوئ ہے۔ یہ خلیج انگریزی زبان والے ہندوستانی خواص کی تاریخ نگاری اور ورناکیولر مقبول عام تاریخ نگاری اور آبادی کے ایک حصے کے اجتماعی حافظے کے بیچ کی بڑھتی دوری کی بھی غمازی کرتی ہے۔

یعنی یہ کتاب اجتماعی حافظے اور سماجی و مذہبی شناخت کے سیاست کی کہانی ہے۔

سنتھیا نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ عصر حاضر میں ہندو فرقہ پرست طاقتیں، برطانوی عناصر کی نفرت آمیز تفسیر کو از سر نو ، مزید شدت و اعتماد کے ساتھ ، استعمال کر تے ہوئے، اکثریت پرست ریاست اور معاشرہ فروغ دینے میں منہمک ہو گئیں ہیں۔

سنتھیا نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ پرتھوی راج سے متعلق مختلف تاریخی و افسانوی مآخذات ، جو انیسویں صدی میں فراموش کر دیئے گئے یا حاشیے پر دھکیل دیئے گئے، ان کی بازیافت کر کے مقبول کرایا جائے، تو شاید زہر آلود مواد کا تریاق ہو سکے۔ ظاہر ہے، یہ کوئ آسان تجویز نہیں ہے۔