وزیر اعظم خاموشی توڑیں اور ملک کو بتائیں کہ افغانستان پر ان کی حکمت عملی ہے: کانگریس

نئی دہلی: افغانستان میں طالبان کے قبضے سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس نے پیر کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو پراسرار خاموشی توڑنی چاہیے اور ملک کو بتانا چاہیے کہ پڑوسی ملک کے بارے میں ان کی اگلی حکمت عملی اور وہاں سے ہندوستانی سفارتکاروں اور شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے کیا منصوبہ ہے؟۔پارٹی کے مرکزی ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ کانگریس کو نریندر مودی حکومت سے حکمت عملی اور سفارتی جواب کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے حالات نے انتہائی خطرناک رخ اختیار کیا ہے۔ افغانستان کے معاملے میں ہندوستان کے اسٹریٹجک مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں، ہمارے سفارت کاروں اور شہریوں کی حفاظت داؤ پر لگ گئی ہے۔ کانگریس ملک کے مفادات کا تحفظ کرنے والے ہر قدم کے ساتھ کھڑی ہے۔سرجے والا نے اس بات پر زور دیاکہ جب افغانستان کی حکومت چلی جائے گی اور طالبان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے تو ہم ہندوستانی حکومت سے ایک بابصیرت سیاست، اسٹریٹجک اور سفارتی جواب کی توقع کرتے ہیں۔انہوں نے الزام لگایاکہ ان حالات میں نریندر مودی جی اور ان کی حکومت کی خاموشی اپنے آپ میں پریشان کن ہے، یہ پراسراربھی ہے۔کانگریس جنرل سکریٹری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مودی حکومت ہمارے سفارتکاروں اور شہریوں کو واپس لانے کا کوئی منصوبہ نہیں بنارہی ہے، یہ حکومت کی ذمہ داری سے غفلت کی ایک واضح مثال ہے۔ ایسی لاپرواہی قبول نہیں کی جا سکتی۔